کمیونٹی پولیسنگ پر امن معاشرے کی ضمانت ہے،آئی جی سندھ

کمیونٹی پولیسنگ پر امن معاشرے کی ضمانت ہے،آئی جی سندھ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کریم آباد میں سول سوسائٹی کی جانب سے قائم کیے جانے والے نیبر ہڈ سیکورٹی اینڈ ڈیولپمنٹ (این ایس ڈی) کے دفتر کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر این ایس ڈی کے عہدیداران ممبران سی پی ایل سی چیف زبیر حبیب کے علاوہ ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق احمد مہر ، ڈی آئی جی سی آئی اے سلطان علی خواجہ ، ڈی آئی جی ویسٹ ذوالفقار لاڑک ، ایس ایس پی وسطی مقدس حیدر ، ایس ایس پی غربی پیر محمد شاہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر آئی جی سندھ کو بتایا گیا کہ این ایس ڈی نے کمیونٹی کے تعاون سے فیڈرل بی ایریا کے اور نارتھ ناظم آباد کے منتخب کردہ بلاکس میں 100 سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے اقدامات کیے ہیں اور پہلے مرحلے میں ایف بی ایریا نمبر 3، 7 ، 14 جبکہ نارتھ ناظم آباد کے بلاک سی میں مختلف منتخب پوائنٹس پر پانچ میگا پکسل کے پچاس کیمرے نصب کردیئے ہیں جن کا مقصد پولیس اور کمیونٹی کے اشتراک سے سیکیورٹی کو مذید مربوط اور موُثر بنانا ہے ۔آئی جی سندھ کو مذید بتایا گیا کہ کمیونٹی کی جانب سے پولیس کو ٹریکر ڈیوائس سے آراستہ 10 موٹر سائیکلیں بھی دی جارہی ہیں جبکہ این ایس ڈی کے تحت دس سیکیورٹی گارڈز بھی پولیس کے ساتھ ملکر علاقہ سیکیورٹی اقدامات کو انتہائی ٹھوس اور مربوط بنائیں گے ۔آئی جی سندھ نے پولیس سیکیورٹی اقدامات میں این ایس ڈی کے تعاون کو سراہتے ہوئے 12 پولیس اہلکاروں کو این ایس ڈی کے ڈسپوزل پر دینے کے احکامات دیئے ۔ انہوں نے کہا کہ علاقوں کو درپیش مختلف مسائل ، مشکلات ، شکایات وغیرہ سمیت امن وامان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے جیسے معاملات کا موُثر طور پر حل کمیونٹی پولیسنگ کہلاتی ہے تاہم اس ضمن میں کمیونٹیز اور پولیس کا انفرادی اور اجتماعی کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ ادارے تو بن جاتے ہیں مگر اصل مسئلہ ان کے مسائل و مشکلات کا ادراک اور بروقت حل ہے جو کہ بلاشبہ کسی بھی ادارے کو کامیاب بنانے کی ضمانت ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کراچی میں کمیونٹی پولیسنگ کے اکیس پروجیکٹس چل رہے ہیں اور میں ان کے جملہ امور میں غیر جانبداری اور شفافیت چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور پولیس کے مابین دوستانہ ماحول اور قریبی روابط کا واحد ذریعہ صرف اور صرف کمیونٹی پولیسنگ ہے اور فی زمانہ ان اقدامات کا فروغ اور قابل عمل ہونا اشد ضروری ہے ۔انہوں نے سی پی ایل سی چیف سے کہا کہ پولیس اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر ان کی تجاویز ، مشاورت پر مشتمل کمیونٹی پولیسنگ اقدامات کے حوالے سے اسٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجر ( ایس او پی ) ترتیب دیں جس میں کمیونٹیز اور پولیس کا امن وامان کے حوالے سے کردار اور ترجیحات کا تفصیلی احاطہ کیا جائے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...