ہمارا نصب العین انسانی حقوق کی حفاظت نہ ہے ،ریٹائرڈ جسٹس علی نواز

ہمارا نصب العین انسانی حقوق کی حفاظت نہ ہے ،ریٹائرڈ جسٹس علی نواز

پشاور( پاکستان نیوز)چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ علی نواز چوہان نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق نے پشاور اور فاٹا کے عوام کے انسانی حقوق کی بحالی کے لیے دو دفاتر کا افتتاح جمعہ کے روزپشاور میں کیاگیا ۔ اس موقع پر ممبرز فاٹا ڈاکٹر بیگم جان ، میمبر خیبرپختونخواہ ڈاکٹر یحیٰ، پرونشنل کوآرڈینیٹر خلفان خٹک، سیکرٹری NCHR سکندر انصاری، پروگرام آفیسر آمنہ خالد اور UNDPکے پروگرام سپیشلسٹ نادجیہ بھی موجود تھے۔ شرکا ء سے خطاب کے دوران چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ علی نواز چوہان نے کہا کہ ہمارانصب العین انسانی حقوق کی حفاظت اور ہر قسم کی ظلم و بربریت کا خاتمہ ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہم نے آج تک بہت سے مسائل حل کیے ہیں پینشنرز کمپلینٹس فارماسیٹیکل کمپلینٹس اور معذور افراد کے کمپلینٹس وغٖیرہ پر ہم نے ایکشن لیا، اور اب پہلی مرتبہ خیبرپختونخواہ اور فاٹا کے عوام کے لیے دفاتر کھولے گئے ہیں جسکا مقصد پشاور اور فاٹا کی عوام کے لیے انسانی حقوق کے حوالے سے حکمت عملی وضع کرنا اور لوگوں کو انصاف مہیا کرنا ہے۔ انہوں نے مزیدواضح کیا کہ خیبرپختونخواہ اور فاٹا کی عوام میںیہاں انسانی حقوق کی پامالی کے کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس لیے انہوں نے ڈاکٹر یحیٰ اور ڈاکٹر بیگم جان کو اپنی ذمہ داریا ں بخوبی سبھالنے اور بے بس عوام کے حقوق کی بحالی میں بھرپور جدوجہد کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر بیگم جان نے کہا کہ کمیشن کا ایکٹ 2012میں منظور ہو چکا تھا جبکہ اس کا مستقل آغاز 2015میں حکومت پاکستان کی کوششوں سے ہوا۔ ڈاکٹر بیگم جان نے کہا کہ وہ حکومت پاکستان کی بہت مشکور ہے کہ 2015 میں اس کا باقائدہ آغاز ہوا ہے۔ چیئرمین این سی ایچ آر نے مختلف مسائل پر وضاحت کی جن میں زبردستی شادی بیاہ،خواتیں کے حقوق، فاٹامیں انصاف کی جلد فراہمی اور انسانی حقوق کی بحالی شامل تھے

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...