رابعہ قتل کیس: 2 سال کے دوست عامر خٹک کو ’کلین چٹ‘

رابعہ قتل کیس: 2 سال کے دوست عامر خٹک کو ’کلین چٹ‘
رابعہ قتل کیس: 2 سال کے دوست عامر خٹک کو ’کلین چٹ‘

  


لاہور (ویب ڈیسک) فرانزک رپورٹ میں رابعہ نصیر کی خود کشی ثابت، پستول کی ملکیت کا تعین نہ ہوسکا، 2 سال تک رابعہ نصیر کے ساتھ قریبی ”دوستی“ رکھنے والے عامر خٹک پولیس کو بیان دے کر فارغ ہوگئے اور انویسٹی گیشن 4 افراد تک محدود ہوکررہ گئی۔

تفصیلات کے مطابق چند روز قبل مقامی ہوٹل کے پبلک باتھ روم میں پراسرار طور پر ہلاک ہونے والی 23سالہ رابعہ نصیر کی موت کے حوالے سے ملنے والی فرانزک رپورٹ میں اس کی خود کشی کے شواہد ثابت ہوگئے۔ متوفیہ کے دونوں ہاتھوں پر پوٹاشیم کے ذرات پائے گئے ہیں، جو گولی سے نکلنے والے بارود کے ہیں تاہم انویسٹی گیشن میں پستول کی ملکیت کے حوالے سے کسی بھی طرح کے شواہد نہ ملے کہ پستول کس کا تھا اور رابعہ کے پاس کس طرح پہنچا تاہم انویسٹی گیشن پولیس اپنی رپورٹ میں اس بات کو مکمل طور پر نظر انداز کرگئی کہ رابعہ نصیر کی موت کا اصل ذمہ دار کون تھا اور کن حالات سے مجبور ہوکر موت کو گلے لگالیا۔

متوفیہ رابعہ نصیر کے دوست حساس ادارے کے ڈی ایس آر عامر خٹک سے پولیس نے خانہ پری کیلئے بیان لیا اور انہیں مبینہ طور پر کلین چٹ دے کر رخصت کردیا، جس پر سنجیدہ حلقوں میں مختلف چہ مگوئیاں گردش کررہی ہیں کہ حالات و واقعات یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ رابعہ نے عامر خٹک کی بے وفائی سے دلبرداشتہ ہوکر موت کو گلے لگایا۔ متوفیہ اور عامر خٹک کے درمیان مبینہ طور پر گزشتہ ڈیڑھ سال سے گہرے مراسم رہے، دونوں کے درمیان تسلسل سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں جس میں سے زیادہ ملاقاتیں اس ہوٹل کے کمرے میں ہوئی تھیں۔

ذرائع کے مطابق عامر خٹک نے رابعہ کے ساتھ دوستی کے دوران اس کو شادی کا جھانسہ دیتا رہا۔ بعدازاں بیوی کے خوف نے عامر خٹک کو بے وفائی پر مجبور کردیا اور ان حالات میں رابعہ نے دلبرداشتہ ہوکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

مزید : لاہور


loading...