بھارتی ظلم بڑھ گیا‘ کشمیریوں کو تاریخ میں پہلی بار درگاہ حضرت بل میں نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا گیا‘ مزید 3 شہید‘ 300 سے زائد زخمی

بھارتی ظلم بڑھ گیا‘ کشمیریوں کو تاریخ میں پہلی بار درگاہ حضرت بل میں نماز ...
بھارتی ظلم بڑھ گیا‘ کشمیریوں کو تاریخ میں پہلی بار درگاہ حضرت بل میں نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا گیا‘ مزید 3 شہید‘ 300 سے زائد زخمی

  


سری نگر (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران مزید 3 مجاہدین شہید ہو گئے، بھارتی فوج نے ایک مجاہد کو زندہ گرفتار کرنے اور قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے، مجاہدین کی فائرنگ سے ایک بھارتی اہلکار جہنم واصل ہو گیا جھڑپوں میں پیلٹ گن کے استعمال سے مزید300 سے زائد کشمیری زخمی ہو گئے، علاقے میں تاحال کرفیو نافذ رہا، موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

گزشتہ روز کشمیریوں نے درگاہ حضرت بل کی طرف مارچ کیا جس کو روکنے کے لئے قابض فوج نے حریت قیادت کو پھر حراست میں لے لیا اور تاریخ میں پہلی بار جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی نہ ہو سکی لوگوں نے سڑکوں پر نماز ادا کی۔ ترال، قاضی گنڈ، شانگس اور دیگر کچھ علاقوں میں بھی مشتعل نوجوانوں اور پولیس و فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ ادھر ویری ناگ میں مشتعل ہجوم نے آٹھ مکانوں کو نذر آتش کیا۔ لال چوک میں پولیس نے مشتعل نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے شیلنگ کی۔

وزیر اعظم کی بجلی منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ہدایت ، 15 روز بعد خود جائزہ لوں گا: نواز شریف

دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے وادی کشمیر میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پیلٹ گن یا چھرے والی بندوق کے استعمال پر فوری پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں چھروں سے ہونے والی تیسری شہادت ایک یاد دہانی ہے کہ کم مہلک ہتھیار کے مہلک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ سخت کرفیو اور درگاہ حضرت بل کی ناکہ بندی کی وجہ سے کشمیرکی تاریخ میں پہلی بار سرینگر کی تاریخی درگاہ میں نماز جمعہ ادا نہیں کی جاسکی۔ کئی علاقوں میں ہزاروں لوگ کرفیو توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کئے۔ دریں اثنا بھارتی پولیس نے علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق، آغا سید حسن الموسوی اور مسرور عباس انصاری کو حضرت بل کی طرف مارچ کی قیادت کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا۔ محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ کو بھی مارچ کی قیادت سے روکنے کیلئے غیر قانونی طور پر نظر بند رکھا گیا۔ حریت رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں لوگوں سے کہا ہے کہ وہ 12 اگست تک ہڑتال کو جاری رکھیں۔

کشمیر کی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی،پاکستان بھر پورسیاسی حمائت جاری رکھے گا :ملیحہ لودھی

سول سوسائٹی کی تنظیم ’’جموں و کشمیر سول سوسائٹی‘‘ نے بھارت کی بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی کے خلاف پریس انکلیو سرینگر میں مشعل بردار احتجاجی مظاہرہ کیا۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن اور عوامی اتحاد پارٹی کے صدر انجینئر رشید کواس وقت گرفتار کر لیا جب وہ سری نگر میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن دفتر کی طرف احتجاجی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے جا رہے تھے۔ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی جانب سے امدادی سامان مقبوضہ کشمیر بھجوانے کی اجازت نہ ملنے پر تین روز لائن آف کنٹرول کے قریب چکوٹھی میں دھرنا دینے کے بعد چوتھے روز جمعہ کو مظفر آباد میں چہلہ بانڈی سے آزادی چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت جماعۃ الدعوتہ کے مرکزی رہنما پروفیسر عبدالرحمان مکی نے کی۔ جماعۃ الدعوۃ اور تحریک آزادی جموں کشمیرکی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ 45 سالہ محمد مقبول بڈگام میں شہید ہوئے سوپور میں ظہور احمد کو شہید کیا گیا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...