دہشتگردی، انتہاپسندی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے: چار ملکی فوجی اتحاد

دہشتگردی، انتہاپسندی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے: چار ملکی فوجی ...
دہشتگردی، انتہاپسندی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے: چار ملکی فوجی اتحاد

  


ارومچی (آئی این پی ) پاکستان، چین، افغانستان اور تاجکستان کی افواج کے سربراہوں کے ارومچی میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس کا مشترکہ تفصیلی اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف ، چین کے مرکزی ملٹری کمیشن کے چیف آف دی جوائنٹ سٹاف جنرل فانگ فینگ ہوئی، افغانستان کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل کادان شاہ شاہیم اور تاجکستان کے چیف آف جنرل سٹاف ای اے کوبیدر زودا نے چار ملکی گروپ کے اجلاس میں شرکت کی۔ چاروں ممالک نے اجلاس میں اتفاق کیا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی علاقائی سلامتی کے لئے سنجیدہ خطرہ ہے۔

عراق:داعش نے 3ہزار شہری اغوا کرلئے،درجنوں ہلاک،6کو زندہ جلا دیا گیا

چاروں مماک کی افواج کی جانب سے دہشت گردوں سے نمٹنے اور انتہا پسند عناصر کا مقابلہ کرنے کے لئے مشترکہ کاوشوں کی اشد ضرورت ہے۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ چار ملکی فوجی تعاون تنظیم کے تحت تمام فیصلے مشاورت اور اتفاق رائے سے کئے جائیں گے۔ چار ملکی فوجی اتحاد، بین الاقوامی امن کے قیام، آزادی اور برابری کو یقینی بنانے، سکیورٹی کو فول پروف بنانے، علاقائی سلامتی کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور جارحیت نہ کرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر اور دیگر بین الاقوامی قوانین کے تحت کام کرے گا۔ اس پر زور دیا گیا کہ یہ چار ملکی اتحاد کسی بھی ایک ملک یا بین الاقوامی تنظیم کے خلاف نہیں۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹرجنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ چارفریقی تعاون اور روابط کے طریقہ کار سے دہشت گردی کیخلاف علاقائی کوششیں مستحکم ہونگی۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ چین، پاکستان، افغانستان اور ترکمانستان نے ایک طریقہ کار کی منظوری دی ہے جس کے تحت خطے میں دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کیلئے دہشتگردوں کو فنڈز کی فراہمی روکی جائیگی اور ان کیخلاف دوسرے اقدامات کئے جائینگے۔ چاروں ملکوں نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تعاون، روابط، کارروائیوں اور تربیت پر اتفاق کیا۔ پاک فوج نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی سکیورٹی ایک قومی فریضہ ہے۔ افغانستان کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن قائم کی گئی ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتماد کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

مزید : بین الاقوامی


loading...