قندیل بلوچ کو منصوبہ بندی سے قتل کیاگیا, قاتل 10 دن بیرون ملک رابطے میں رہے،جان بوجھ کر والد کو مدعی بنایاگیا

قندیل بلوچ کو منصوبہ بندی سے قتل کیاگیا, قاتل 10 دن بیرون ملک رابطے میں ...
قندیل بلوچ کو منصوبہ بندی سے قتل کیاگیا, قاتل 10 دن بیرون ملک رابطے میں رہے،جان بوجھ کر والد کو مدعی بنایاگیا

  


ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک)سوشل میڈیا سے شہرت پانے والی اداکارہ قندیل بلوچ کے قتل سے متعلق نئے نئے انکشافا ت کا سلسلہ جاری ہے۔قندیل کے قتل کی کہانی کا دائرہ مسلسل ان کے خاندان کے افراد کے گرد گھوم رہا ہے ،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قندیل کو اس کے خاندان نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے قتل کیا, تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ قندیل کے بھائی عارف اور رشتہ دار کو گرفتار ملزمان وسیم اور حق نواز کے زیر استعمال موبائل فون کے ڈیٹا سے حاصل کیئے گئے کو سامنے رکھتے ہوئے شامل مقدمہ کیا گیا ہے۔ریکارڈ کے مطابق سعودی عرب میں مقیم عارف قندیل کے قتل سے ایک ہفتہ پہلے اورواردات کے 3 دن بعد بھی ملزموں سے رابطے میں رہا،اس دوران ان کا ایک اور رشتہ دار بھی مسلسل رابطے کرتا رہا۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق قندیل کے قتل میں اب تک اس کے بھائی اور مرکزی ملزم وسیم کے علاوہ سعودی عرب میں مقیم اس کے دوسرے بھائی عارف اور ایک رشتے دار ظفر کو بھی مقدمہ میں شامل کیا گیا ہے جس (ظفر)کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ پولیس کی حراست میں ہے ۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اب تک کی تحقیقات سے جو بات سامنے آئی ہے اس کے مطابق خاندان کے افراد نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے قندیل کو قتل کیا۔جب کہ والد کو مدعی بنانے کے پیچھے بھی ایک منصوبہ تھا کہ کسی بھی موقع پر مدعی ملزمان کو معاف کرسکے۔ادھر پولیس کی جانب سے مقدمہ میں غیرت کے نام پر قتل کی شق شامل ہونے پر ملزموں کامنصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔جب کہ حکام کا کہنا ہے کہ انٹرپول کے ذریعے عارف کو وطن واپس لایا جائے گا۔

مزید : ملتان


loading...