بھارتی کالج میں’ مختصر‘ لباس پہننے پر پابندی،طالبات کا شدید احتجاج

بھارتی کالج میں’ مختصر‘ لباس پہننے پر پابندی،طالبات کا شدید احتجاج
بھارتی کالج میں’ مختصر‘ لباس پہننے پر پابندی،طالبات کا شدید احتجاج

  


نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت میں مولاناآزاد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی انتظامیہ کی جانب سے طالبات کو ہدایات جا ری کی گئی ہیں کہ وہ ادارے میں ’مختصر‘لباس یعنی منی سکرٹس اور شارٹس وغیر ہ پہننے سے گریز کریں ،جب کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے رات کو ساڑھے نو بجے کے بعد ہوسٹل سے باہرنہ جائی۔انتظامیہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ مقرر ہ وقت کے بعد ہوسٹل آنے والی طالبات کو اپنے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب کہ تاخیر سے آنے والی طالبات کو(سزا کے طور پر) اپنے کمرے کے بجائے لابی میں قیام کرنا ہوگا۔

انسٹی ٹیوٹ انتظامیہ کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹس میں کہا گیا کہ طالبات کالج کیمپس میں منی سکرٹس اور شارٹس نہ پہنیں تاہم لڑکیوں کی جانب سے احتجاج کے بعد کالج انتظامیہ نے یہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق کالج انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ان ہدایات پر طالبات نے شدید احتجا ج کرتے ہوئے انتظامیہ کو مجبور کر دیا کہ وہ اس ضمن میں کئے گئے فیصلے کو واپس لے۔

طالبات کا کہنا تھا کہ طالبات پر تو پابندیاں لگا دی گئی ہیں تاہم لڑکوں کو ایسی کوئی ہدایات جا ری نہیں کی گئیں ۔

ایک طالبہ شیوانگی نے اے این آئی کو بتایا،”یہ اکیسویں صدی ہے، ہم اپنی مرضی اور آرام کے مطابق کپڑے پہنیں گے، ہم کیوں اسکرٹ نہیں پہن سکتیں۔“ایک اور طالبہ ہرشہ نے اے این آئی کو بتایا، ”ہمیں ساڑھے نو بجے کے بعد ہوسٹل آنے کی اجازت نہیں ہے، ہم شام پانچ بجے کے بعد ٹیوشن پڑھنے جاتے ہیں، اکثر ٹیوشن کی کلاسیں دیر سے ختم ہوتی ہیں لیکن دیر سے ہوسٹل پہنچنے کے باعث ہمیں ہوسٹل کے برآمدے میں سونا پڑتا ہے۔“

مزید : بین الاقوامی


loading...