’اب ہفتے میں صرف 3 دن کام کرنا پڑے گا کیونکہ۔۔۔‘ دنیا کے امیر ترین آدمیوں میں شامل ارب پتی نے ایسا اعلان کردیا کہ سب کو حیران کردیا

’اب ہفتے میں صرف 3 دن کام کرنا پڑے گا کیونکہ۔۔۔‘ دنیا کے امیر ترین آدمیوں میں ...
’اب ہفتے میں صرف 3 دن کام کرنا پڑے گا کیونکہ۔۔۔‘ دنیا کے امیر ترین آدمیوں میں شامل ارب پتی نے ایسا اعلان کردیا کہ سب کو حیران کردیا

  


میکسیکو سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) پہلے ہفتے میں ایک چھٹی ہوا کرتی تھی اور اب کئی شعبوں میں ملازمین کوہفتہ وار2 چھٹیاں دی جا رہی ہیں مگر میکسیکو میں اس سے بھی آگے ایک قدم بڑھا دیا گیا ہے جہاں ملک کے امیر ترین شخص کارلس سلم نے اپنے ملازمین کو ہفتے میں 4چھٹیوں کی پیشکش دے دی ہے۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق کارلس سلم نے تجرباتی طور پر ٹیل میکس نامی کمپنی میں ایک سال سے ملازمین کو ہفتہ وار 4چھٹیاں دے رکھی ہیں اور انہیں تنخواہ بھی پوری دی جا رہی ہے۔ اس کے بدلے میں ان کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یعنی یہ لوگ ہفتے میں 3دن کام کریں گے مگر ان کی ریٹائرمنٹ تاخیر سے ہو گی۔

امریکی کمپنی کو مسافر خلا میں لیجانے کی اجازت مل گئی

رپورٹ کے مطابق کارلس سلم کا کہنا ہے کہ ”میں میکسیکو میں ’تین دن کام کا ہفتہ‘ متعارف کروانا چاہتا ہوں۔ جب لوگ ہفتے میں تین دن کام اور 4دن چھٹی کریں گے تو اس فرق کو متوازن کرنے کے لیے ان کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کر دیا جائے گا۔“ کارلس سلم کھرب پتی شخص ہے جو لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی موبائل فون کمپنی امریکہ موویل (America Movil) اور ٹیل میکس سمیت کئی کمپنیوں کا مالک ہے۔ اس کا زیادہ تر کاروبار ٹیلی کمیونیکیشنز کے شعبے سے وابستہ ہے۔ کارلس نے 2004ءمیں 3دن کام کے ہفتے کے متعلق بات کرنی شروع کی۔ اس کا موقف ہے کہ ہفتے میں 4چھٹیاں کرنے جہاں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو نوکریوں کے مواقع ملیں گے وہیں ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا دینے سے ان نوجوانوں کو عمررسیدہ، تجربہ کار افراد کے تجربے سے مستفید ہونے کا موقع بھی ملے گا جس سے ان کی صلاحیتوں میں نکھار آئے گا اور پیداوار کے معیار اور مقدار میں اضافہ ہو گا۔

جب کارلس نے ٹیل میکس کے ملازمین کو یہ پیشکش دی تو 40فیصد سٹاف نے اسے قبول کیا۔ یہ لوگ تب سے ہفتے میں 3دن آفس آتے ہیں اور 4چھٹیاں کرتے ہیں۔کارلس کا کہنا تھا کہ ”ہفتے کے دوران کام کے دنوں میں کمی بیشی کوئی نئی بات نہیں۔ ایک وقت تھا جب ہم ہفتے میں 6دن اور 72گھنٹے کام کرتے تھے۔پھر ہفتے میں کام کا دورانیہ 60گھنٹے کردیا گیا اور اب کافی عرصے سے 48گھنٹے کیا جا چکا ہے۔ہمیں ہفتے میں صرف 3دن کام کرنا چاہیے تاکہ بے روزگار لوگوں کو بھی روزگار مہیا ہو سکے۔ “ واضح رہے کہ سویڈن میں بھی اسی نوعیت کا تجربہ کیا جا رہا ہے جہاں کام کے گھنٹوں میں کمی کی گئی ہے اور ملازمین کو جلد آفس سے چھٹی دے دی جاتی ہے۔گوتھنبرگ میں ٹویوٹا سنٹر نے 13سال قبل یہ اقدام اٹھایا تھا اور اس کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کے بعد اس کے ملازمین کی زندگیوں میں خوشی کا لیول بہت زیادہ ہو گیا ہے اور کمپنی کا منافع بھی بڑھ گیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...