قابض بھارتی فوج کی جارحیت اور نہتے کشمیریوں کی تحریک ’ ’جدوجہد آزادی‘‘ جاری،تازہ جھڑپوں میں15خواتین سمیت 54افراد زخمی

قابض بھارتی فوج کی جارحیت اور نہتے کشمیریوں کی تحریک ’ ’جدوجہد آزادی‘‘ ...
 قابض بھارتی فوج کی جارحیت اور نہتے کشمیریوں کی تحریک ’ ’جدوجہد آزادی‘‘ جاری،تازہ جھڑپوں میں15خواتین سمیت 54افراد زخمی

  


سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جارحیت اور درندگی جاری ،نہتے کشمیریوں کا کرفیو کی پابندیاں توڑتے ہوئے آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر مارچ ،قابض فوج کا ظلم کے خلاف احتجاج کرنے والے نہتے کشمیریوں پر آنسو گیس اور شیلنگ کا بے دریغ استعمال،15خواتین سمیت 54افراد زخمی ۔

کشمیری میڈیا کے کے مطابق وادی کشمیر میں جمعہ کے روز سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں3 عام شہریوں کی شہادت کے بعد صورتحال ایک بار پھر کشیدہ رخ اختیار کرگئی ہے،مقبوضہ وادی میں کرفیو، پابندیوں اور ہڑتال کے باعث ہفتہ کو مسلسل 29 ویں روز بھی معمولات زندگی مفلوج رہے،جبکہ بھارتی فوج کی ظالمانہ کاروائیوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور ہزاروں کشمیری مرد و خواتین اور بچے بوڑھے تمام تر پابندیوں کو روندتے ہوئے سڑکوں پر آزادی کے نعرے لگاتے رہے ۔ وادی کے علاوہ صوبہ جموں میں بھی خطہ چناب کے تین اضلاع کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن اور پیر پنچال کے دو اضلاع پونچھ اور راجوری میں بھی جزوی ہڑتال جاری ہے۔

کشمیری حریت پسند قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے وادی میں جاری ہڑتال میں 12 اگست تک توسیع کا اعلان کر رکھا ہے۔ کسی بھی احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنے سے روکنے کے لئے بیشتر مقامی حریت پسند لیڈران کو یا تو اپنے گھروں میں نظر بند رکھا گیا ہے، یا پولیس تھانوں میں مقید رکھا گیا ہے۔ بڈگام، چاڈورہ، خانصاحب اور ماگام میں کرفیو بدستور جاری ہے ، جن علاقوں کو کرفیو سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے،ان میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی بدستورعائد ہے ۔کٹھ پتلی حکومت نے وسطی مقبوضہ کشمیر کے قصبہ بیروہ اور بارہمولہ میں کرفیو کے نفاذ کی تصدیق نہیں کی ، تاہم اِن علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

دوسری طرف وادی میں کرفیو اور پابندیوں کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کو تعینات رکھا گیا ہے۔ انت ناگ جہاں کرفیونافذ ہے اورقابض بھارتی فوج اور سیکیورٹی فورسز نے پورے ضلع میں راستے سیل کر کے رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی ہیں کشمیری حریت پسندوں نے کرفیو کی پابندیاں توڑتے ہوئے ’’آزادی کشمیر ریلی ‘‘ کا انعقاد کیا ،جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور ’’لے کر رہیں گے آزادی ‘‘ اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے تو قابض فوج اور سیکیورٹی فورسز نے نہتے کشمیریوں پر آنسو گیس و پیلٹ بندوقوں کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ کی۔بھارتی فوج اور سیکیورٹی فورسز کی اس جارحیت کے نتیجے میں 15خواتین سمیت 54افراد زخمی ہوگئے ہیں ،جس کی وجہ سے پورے مقبوضہ وادی میں صورتحال مذید کشیدہ ہو گئی ہے اور پوری وادی میں کشمیریوں کا احتجاج جاری ہے ۔واضح رہے کہ گذشتہ روز وادی کے اطراف واکناف میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں تین عام نہتے شہری قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید جبکہ 400 افراد زخمی ہوگئے تھے۔تازہ شہادتیں ضلع بڈگام کے چاڈورہ اور خانصاحب اور شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور میں ہوئیں۔ وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد بھڑک اٹھنے والی آزادی کی لہر میں شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 57 ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 6 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں


loading...