طبیہ کالجز کی بدعنوانیاں اورحج طبی وفد کے خاتمہ پر اُبھرتے سوال

طبیہ کالجز کی بدعنوانیاں اورحج طبی وفد کے خاتمہ پر اُبھرتے سوال
طبیہ کالجز کی بدعنوانیاں اورحج طبی وفد کے خاتمہ پر اُبھرتے سوال

  


میں تو یہ سن کرحیران ہوں کہ حکومت نے حج طبی وفد سے بھی حکما کو نکال دیا ہے اور اس بار کوئی حکیم حج وفد میں نہیں جارہا۔کیوں؟

طبیہ کالجز میں میٹرک آرٹس اور جعلی اسنادوالوں کو بھی داخلہ مل جاتا ہے اور اسکی انکوائری وامتحانات وغیرہ ایسی کمیٹی کے سپرد ہوتے ہیں جو طبیہ کالجز کے مالکان پر مشتمل ہوتی ہے،ایسے میں شفاف تحقیقات کیسے ہوں گی اور ملک میں اطبا کی تعلیم کے معیارات کو کیسے درست کیا جاسکے گا؟............

اللہ معاف کرے ،اگر یہ سب باتیں سچ ہیں تو پاکستان میں طب کی بربادی اور طبی اداروں کی مناپلی سے پیدا ہونے والی خرابیوں پر قومی طبی کونسل کو ذمہ دار کیوں نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔اس معاملے میں حکومت اور سنجیدہ اطباءکو سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔قومی میڈیا میں طب کے حقیقی زوال اور اس نظام کی بربادی کے اسباب کو اُٹھانا بہت ضروری ہوگیاہے۔ کیونکہ قومی طبی کونسل نے حکومت کے سامنے یہ معاملہ نہیں اٹھایا۔ضیا الحق کے دور میں بیس حکما سے جس اہم حج وفد کی تشکیل کی گئی تھی وہ موجودہ طبی کونسل ہی نہیں ،اس سے پہلے والی کونسلوں کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے بھی بتدریج متاثر ہوتا رہا اور بالاخر قومی طبی کونسل کی عدم دلچسپی سے یہ پروگرام بند ہوگیا۔

حج وفد میں حکماءکے جانے سے طب یونانی کی ساکھ بہتر ہوتی اور اسکو قومی اور عالمی سطح پر خدمات انجام دیتے ہوئے دیکھ کر اطباءکے اندر جوش اور ولولہ پیدا ہوتا تھا۔دنیا بھر میں حرارکی کا قانون بڑا فائدہ مند جانا جاتا اوریہ اصول مدنظر رکھا جاتا ہے کہ اگر کسی شعبے کو ترقی دینا مقصود ہو تو اس کی کارکردگی کا گراف بلند کردیاجائے اور اس پیشہ سے وابستہ لوگوں کو ہر سطح پر خدمات انجام دینے کا موقع دیاجائے۔جسطرح ڈاکٹروں کو آفات و خیراتی اور اجتماعی مواقع پر خدمات انجام دینے کے لئے آگے لایا جاتا ہے تو اس سے میڈیکل کے پیشے کو باقاعدہ تحریک ملتی اور انہیں معاشرہ اس بنا پر عزت اور ترجیح دیتا ہے کہ وہ عوامی فلاح اور پیشہ وارانہ فرائض میں عام دستیاب ہوتے ہیں ۔ان کا مورال بلند ہوتا ہے۔اسکے برعکس طب کے میدان میں قیادت کاپیشہ وارانہ اتحاد ذاتی مفادات کی نذر ہوتانظر آتا ہے۔ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے سوا انہیں کوئی کام نہیں ہوتا ۔اسکی تازہ مثال تو حج طبی وفد کا خاتمہ ہے جسے حکومت نے قومی طبی کونسل اور بڑے طبی اداروں کی عدم دلچسپی سے ختم کیا ہے ۔

یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ اطبا اور طبی ادارے جو یہ کہتے ہیں کہ ایلوپیتھک مافیا انکی جڑیں کاٹتا رہتا ہے تاکہ ملک میں طب کو فروغ نہ ملے ،یہ الزام غلط ہے ،میرا تجربہ اور مشاہدہ کہتا ہے کہ جو ادارے قوت فیصلہ ، ایمانداری اور ثابت قدمی سے اپنے پیشے کی حفاظت نہیں کرپاتے ،ان میں ترقی کاعزم نہیں ہوتا،وہ ایسے عذر تلاش کرتے ہیں۔انکی نااہلی انکے آڑے آتی ہے جس سے دوسرے ادارے فائدہ اٹھاتے ہیں۔دیکھا جائے توملک میں طب کو پروان چڑھانے کی زیادہ ذمہ داری قومی طبی کونسل کے سر ہے۔حکومتی پالیسیوں اور منصوبہ جات کے دوران طب کے مفادات کا دفاع کرنا اور ایسے ہر اس منصوبے اور پروگرام کا تحفظ کرنا جو طب کی ترقی اور بقا کے لئے لازم ہوتا ہے،یہ قومی طبی کونسل کے صدر کے فرائض میں شامل ہوتاہے اور یہی اس کا اصل کام اور امتحان بھی ہے۔

قومی طبی کونسل کی ناقص کارکردگی کی ایک دوسری مثال بھی سن لیں۔مجھے ذاتی طور پر قومی طبی کونسل کے موجودہ صدر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری سے کوئی پرخاش نہیں ہے لیکن مجھے یہ سن کر انتہائی دکھ ہورہا ہے کہ وہ بھی طبی تعلیم کے نظام کو تباہ کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ وہ انتہائی پڑھے لکھے انسان ہیں اور حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز عطا کیا ہے لیکن ایسے اعزازات کی حامل شخصیت کا طبیہ کالجز کے نظام کو درست کرنے کی بجائے اسے طبیہ کالجز کے کاروباری مالکان کے سپرد کر نا انکی قومی طبی کونسل کے ایجنڈے کی کھلی خلاف ورزی نظر آتا ہے۔قومی طبی کونسل طبیہ کالجز کی امتحانی کمیٹی اور انسپکشن کمیٹی میں کبھی کسی طبیہ کالج کے مالکان کوشامل نہیں کرتی تھی جس سے انسپکشن اور امتحانات میں شفافیت کسی نہ کسی حد تک نظر آجاتی تھیں لیکن موجودہ صدر نے قومی طبی کونسل کی دونوں کمیٹیوں میں مبینہ طورپرطبیہ کالجز کے مالکان کو شامل کردیا ہے ۔ظاہرہے ایسی صورت میں کون اپنے کالج کی خرابیوں اور کرپشن کی پکڑ کرتا ہے۔ہمارے طبیہ کالجز کے بارے میں یہ شکایات عام رہی ہیں اور ان میں حقیقت بھی موجود ہے کہ کالجز میں میٹرک سائنس کی بنیاد پرداخلوں کی بجائے آرٹس کے طلبا کو بھی داخلہ دیا جاتا ہے،جعلی اسناد پر بھی کئی طالبعلم داخلہ لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیںاور ان کالجز میں داخلہ لینے والون کی اسناد چیک نہیں کرائی جاتیں ۔ظاہر ہے جب کسی کالج میں جعلی اسناد پراور خلاف قانون داخلہ لینے والے کی انسپکشن اور ضابطہ کی کارروائی کا معاملہ پیدا ہوگا تو اس کمیٹی میں موجود طبیہ کالجز کے مالکان کبھی حقیقت سامنے نہیں آنے دیں گے۔ان طبیہ کالجز کے بارے میں یہ بھی شکایات عام ہیں کہ یہ قانون کے مطابق ساٹھ طلبا کو داخلہ دینے کے مجاز ہوتے ہیں لیکن یہ دو دو سو طلبا کو داخلہ دیتے ہیں۔سوال پیدا ہوتاہے کہ کیااس معاملہ کی چھان بین کرنا بھی قومی طبی کونسل کی ذمہ داری نہیں؟ کیا اسکی بنائی کمیٹیاں شفاف تحقیقات کرسکتی ہیں؟ اس ستو لگتا ہے قومی طبی کونسل نے دودھ کی رکھوالی بلی کے سپرد کررکھی ہے لہذا ایسے ادارے سے قومی مفادات کے تحت غیرجانبداری اور ایمانداری سے اقدامات اٹھانے کی توقع کرنا فضول لگتا ہے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ قومی طبی کونسل کے معاملات کی چھان بین کرے اور اگر یہ شکایات درست ثابت ہوتی ہیں تو اسکا علاج بھی دریافت کرے۔قومی طبی ادارہ ،قوم کی امانت ہے ناکہ طبی اداروں کے ذاتی مفادات اور انکی کرپشن کے تحفظ کا ادارہ۔

مزید : بلاگ


loading...