مسیحا

مسیحا
 مسیحا

  

بطور معاشرہ آج ہم پاکستان کے رہنے والے جس انتشار اور بے عملی کی کیفیت سے دوچار ہیں اس کا لازمی اثر بدحالی کی صورت میں ہی نکلنا تھا۔ یہ بدحالی آج ایک نمایاں عنصر کے طور پر نظر بھی آتی ہے چاہے معاشی میدان ہو یا اخلاقی وسیاسی، مگر ہم دنیا کی کوئی پہلی یا آخری قوم نہیں ہیں، جنہیں ان حالات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ قوموں کی زندگی میں ایسی مشکلات آتی رہی ہیں اور زندہ قومیں ان مشکلات اور آزمائشوں سے ہمیشہ سرخرو ہو کر نکلی ہیں۔ ہمارے حالات جن کے حوالے سے ہم بحیثیت مجموعی بہت زیادہ فکر مند نہیں، ایسے نہیں کہ اس طرح کی لاپروائی کا مظاہرہ کیا جائے۔ ہماری اجتماعی لاپروائی نے جہاں اس انتشار کو بڑھاوا دیا ہے، وہیں کئی لوگوں کو ذہنی کوفت اور مایوسی میں بھی مبتلا کیا ہے۔ وجہ بھی بالکل واضح ہے کہ بجائے اس بے عملی کی کیفیت سے نکلنے کی عملی کوشش کرنے کے ہم نے ماضی کے لکھنؤ اور دہلی کی روایات کو اپنالیا ہے، جہاں چاروں طرف امڈتے خطرات کو دیکھنے کے باوجود مقتدر اور عام لوگ لاپروائی اور بے حسی کی سرنگ سے ہوتے ہوئے ذلت کے گڑھے میں جاگرے تھے اور غلامی کا منحوس طوق ہمارا مقدر بن گیا تھا۔ ہمارے موجودہ حالات بھی کچھ اس قسم کے ہیں، ایک طرف تو غریب اور سفید پوش طبقہ اپنی معاشی بدحالی اور سرکاری و دیگر اداروں کے ہاتھوں روزمرہ تذلیل کا رونا رو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک مخصوص مقتدر طبقہ ان سفید پوش غریب عوام کو مزید کرب میں مبتلا کرنے کی شعوری کوشش میں مصروف نظر آتا ہے۔

یہ طبقہ جو مختلف معاش و قماش اور مکاتب ہائے فکر کے لوگوں پر مشتمل ہے، صرف ایک نقطے پر متحد ہے کہ یہ ملک ان کے باپ دادا کی موروثی جاگیر ہے، جس کے وسائل پر قبضہ کرنا اور انہیں اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل میں ضائع کرنا، ان کا پیدائشی حق ہے۔ مزید بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کی نام نہاد سیاسی اشرافیہ میں اسی طبقے کی اکثریت ہے، ایک خصوصیت جو اس طبقے کو ہر طرح کے حالات میں کامیاب رہنے میں مدد دے رہی ہے، ان لوگوں کی ابن الوقتی ہے۔ ہر آنے والے کو سلام اور جانے والے کی برائی ان کا خاص وصف ہے، جو انہیں مسلسل اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں مدد فراہم کررہا ہے۔ تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کے حالات میں انقلاب آنے کے امکانات رہتے ہیں۔ اس ضمن میں کئی مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں، لیکن ہمارے معاشرے میں فکری اور نظریاتی رہنمائی کے فقدان کی وجہ سے انقلاب آنے کا امکان انتہائی معدوم ہے، جبکہ موجودہ مقتدر طبقے کی طاقت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ متوسط طبقے کا کوئی فرد اگر کسی اچھے مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کی سب سے پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے طبقے سے تعلق قطع کرکے اپنے آپ کو اسی نام نہاد شرافیہ کا فرد ثابت کرے، جسے انگریز اس ملک کے مقدر میں لکھ گیا تھا، بصورت دیگر خود اس کا مقام بھی خطرے میں ہوتا ہے۔

انحطاط کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارا آج کا پاکستانی معاشرہ نظریاتی طور پر کمیٹڈ لوگوں کے قحط کا شکار ہے۔ ہم میں ایسے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، جو اپنی اور آئندہ نسلوں کی زندگی سنوارنے کے لئے ان اصولوں پر کاربند رہ سکیں، جنہیں زندہ قوموں نے مشعل راہ بنا کر اپنا جہان خود پیدا کیا تھا۔ ہم اس بات پر کڑھتے تو ہیں کہ ہماری اسلامی، اخلاقی اور تہذیبی اقدار تباہ ہو رہی ہیں، لیکن انہیں تباہی سے بچانے کے لئے کوئی بھی عملی قدم اٹھانے کو تیار نہ ہیں۔ اجتماعیت کا وجود ہمارے اندر سے بالکل ناپید ہوتا جارہا ہے اور ہم آہستہ آہستہ اپنے آپ کو ایسے حیوانی معاشرے میں تبدیل کرتے جارہے ہیں، جس میں ہر کوئی اپنے حصے سے زیادہ چھیننے کے چکر میں ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورت حال میں اپنی معاشرتی و معاشی بد حالی پر پریشان ہر باشعور شخص رضا کارانہ اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں میں اس احساس اور شعور کو جگانے کی کوشش کرے جو عرصہ ہواگہری نیند سو چکا ہے۔ اگر ہم اس سمت میں کوئی عملی کام کرسکے تو ایک ایسا طبقہ پیدا کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے جو آنے والے روز میں نظریاتی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے قابل ہوگا اور اگر یہ لوگ معاشرے کو یقین دلانے میں کامیاب ہوگئے کہ وہ اجتماعیت کے لئے جدوجہد کریں گے اور اپنے لوگوں کے خلاف استحصالی طاقتوں کا آلہ کارنہیں بنیں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بھی ایک ایسا انقلاب رونما ہو جائے جو ہو تو پرولتاری طرز کا لیکن ہمارے معاشرے کی اسلامی تہذیبی روایات کا بھی مخالف نہ ہو، بلکہ اپنی منزل کے تعین میں ان روایات کو بھی بنیاد بنائے۔ گومگو کا شکار یہ معاشرہ اپنے مسیحا کی تلاش میں ہے، جو ایک شخص یا ایک گروہ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی جو اپنی سوچ میں سچا بات کا پکا اور نظریات پر ثابت قدم ہو۔ جو یہ یقین دلادے کہ وہ برائے فروخت نہیں اور اپنے عمل سے ثابت کرکے کہ اس کی لڑائی ذاتی جاہ و منفعت کے لئے نہیں، بلکہ اجتماعی بہتری کے لئے ہے۔

مزید :

کالم -