معصوموں کے ساتھ ’’درندگی‘‘ جاری، سدباب کریں!

معصوموں کے ساتھ ’’درندگی‘‘ جاری، سدباب کریں!

معصوم نابالغ بچوں، بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنانے کا سلسلہ رک نہیں پا رہا اور یہ جاری ہے۔ ہر روز کسی نہ کسی علاقے سے ایسی اطلاعات موصول ہو جاتی ہیں کہ کسی معصوم کو نہ صرف درندگی کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اس کی جان بھی لے لی گئی۔ ایسے کئی واقعات کراچی میں ہوئے تو اب صوابی سے یہ خبر موصول ہو گئی کہ وہاں خود ایک رشتہ دار نے ایک نو سالہ معصوم گڑیا کو درندگی کے بعد قتل بھی کر دیا۔ ملزم گرفتار ہو چکا اور اس نے اقبال جرم بھی کر لیا ہے۔یہ انتہائی افسوس اور کربناک سانحات ہیں۔ ان پر تو انسانیت شرماتی ہے۔ قصور میں معصوم زینب کا قتل اور اس کے قاتل کی گرفتاری کے دوران میڈیا پر جو زبردست مہم چلی۔ اس سے ایسی وارداتوں میں مجموعی طور پر تو کمی ہوئی لیکن یہ ختم نہ ہو سکیں اور اب پھر یہ سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ایسا احساس ہوتا ہے کہ ایسی بہیمانہ کارروائیوں کے خلاف پھر سے مہم کی ضرورت ہے تاکہ والدین بھی احتیاط کریں اور ملزموں کو بھی خوف ہو، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اب تک انگریز کا دیا ہوا تعزیری قانون اور ضابطہ ہی نافذ ہے۔ اس کی وجہ سے ملزم پکڑا جائے اور اس کے خلاف معقول ثبوت بھی ہو تو بھی مقدمہ کے اختتام میں اتنا وقت گزر جاتا ہے کہ لوگ واقعہ بھول جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی افسوسناک وارداتوں کو روکنے کے لئے تمام پہلوؤں (معاشی+اقتصادی+سماجی) پر غور کرکے انصاف کے عمل کو تیز تر بنایا جائے تاکہ ایک طرف احتیاط ہو تو دوسری طرف انصاف میں تاخیر نہ ہو، ایسے ملزموں کو سنگین ترین سزائیں بھی ملنا چاہئیں، اس سلسلے میں ایران میں رائج عدالتی نظام کی مثال دی جا سکتی ہے جہاں درندگی کی کسی بھی ایسی واردات کا سراغ لگا کر ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ایک کم از کم مدت متعین ہے اس کے دوران مقدمہ کی تفتیش ملزم گرفتار اور عدالتی فیصلہ ہو کر اس پر عمل ہونا لازم ہے، اس عمل کے باعث وہاں ایسے جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمیں بھی یہاں اسلامی اصولوں کے مطابق قاضی نظام کی ضرورت ہے۔ اس پر غور ہونا چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ