خضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست وپا

خضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست وپا
خضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست وپا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج کی نشست میں ’جو ہے جہاں ہے اور جیسے ہے‘ کی بنیاد پر گفتگو کرنا پیش نظر ہے۔ عام انتخابات جس انداز میں ہوئے، ان کے جو نتائج سامنے آئے اور صرف ایک اہم فریق کو چھوڑ کر باقی متاثرہ فریق ان پر جو رائے زنی اور الزام تراشی کر رہے ہیں، ان کے سچ جھوٹ کی چھان پھٹک کے لیے حمودالرحمن کمیشن جیسی تفتیش بھی ناکافی ہے۔

اس قضیے کا خوش آئند پہلو یہ ہے کہ بالغ النظر سیاسی قیادت نے منفی انداز کے فساد فی الارض دھرنے جیسے ملک دشمن اقدامات سے گریز کا فیصلہ کیا ہے۔ مجھے حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ایک بچے کی دعوے دار دو عورتوں کا قصہ کیوں نہ یاد آئے۔

جب کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو اللہ کے نبی نے کہا کہ بچے کے دو ٹکڑے کر کے ایک ایک لے لو۔ اس فیصلے پر ماں تو چیخ اٹھی اور بولی بھلے وہی رکھ لے، میں اپنے بچے کو دیکھ تو لیا کروں گی۔

گزشتہ پانچ سال میں ملکی اقتدار کے دعوے دار داروغہ فساد فی الارض نے اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا کون سا موقع پیدا نہیں کیااورکون سا موقع ملنے پر ان لوگوں نے توڑ پھوڑ نہیں کی۔

ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کا کرینوں، کٹروں اور بھاری مشینری کی مدد سے دوسرے صوبے کی املاک پر حملہ آور ہونا، پارلیمنٹ، سرکاری دفاتر کو مفلوج کرنا، معصوم سرکاری افسران کی دُ ھنائی ،داروغہ فساد فی الارض کااپنے فسادیوں کو اکسانا کہ ’’ان کو مارو، ان کو مت چھوڑو، دبا کے مارو‘‘ کس کومارو ؟ پولیس کو۔ قارئین کرام !یہ اندازِ کار تو غیرملکی فوجوں کے ہوا کرتے ہیں۔

چلیے ذرا کم کریں تو اس دوسری عورت کے سے اندازہیں جو بچے کے دو ٹکڑے کرنے پر راضی ہو گئی تھی۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ملک کے حقیقی جانشین یعنی حقیقی سیاست دان بچے کے دو ٹکڑے کرنے کی بجائے بچے سے دست بردار ہونے پر تیار ہو چکے ہیں۔ اس تمثیل میں بس حضرت سلیمان علیہ اسلام جیسا کوئی منصف تو کیاملک میں منصف ہی نہیں ہے۔

میں پھر اپنی خوشی کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انتخابی نتائج کو بالعموم قبول کرتے ہوئے متاثرینِ حساس ادارہ جات نے معاملات کو دستور کے اندر رہ کر جمہوری اور پارلیمانی آداب کے مطابق لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ورنہ اگر 1977ء کے سے فیصلے ہوتے تو اللہ خیر کرے کسی کے ہاتھ اس دفعہ کچھ نہ آتا۔ اور اس کسی میں ’’تینوں‘‘ فریق شامل ہیں یعنی کوزہ گر بھی! اگرچہ کوزے نے تو بالآخرٹوٹنا ہی ہے۔

دعا ہے کہ اب تک کے جو فیصلے ہوئے ہیں ، ان پر لوگ قائم رہیں۔آنے والے دنوں میں وفاق اور صوبوں میں حکومتیں قائم ہونے کی توقع ہے۔ اس موقع پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کچھ بنیادی باتیں کی جائیں۔

سربراہ حکومت جسے ماضی کے خلیفہ پر قیاس کیا جا سکتا ہے، وہ کچھ ایسے حقوق رکھتا ہے جو عوام کے ذمہ ہوتے ہیں۔ عوام کا پہلا کام یہ ہے کہ آنے والے وزیرِاعظم کے حق میں دعا کریں کہ جو وعدے اس نے ووٹ لیتے وقت کیے تھے، الٰہ العالمین اسے توفیق دے کہ وہ ان دعووں کو پورا کرے۔ مجھے توقع ہے کہ مدینہ کی سی اسلامی ریاست نے بالآخر بننا ہی ہے اور اس کا آغاز پاکستان کے قیام سے ہوچکا ہے۔

دعا ہے کہ آنے والا وزیرِاعظم اس ریاست میں رنگ بھرے۔ متحدہ حزب اختلاف سے توقع ہے کہ وہ ان تمام اقدامات سے گریز کرے گی جس سے ریاست میں ضعف پیدا ہو۔ پارلیمان کے اندر اور پارلیمان کے باہر ہر دو صورتوں میں وہ توازن، اعتدال اور جمہوری روایات کا خیال رکھے گی۔ اقدامات پر تو وہ پوری نظر اور گرفت رکھے لیکن حکومت کو کسی طور پر یہ موقع نہ دے کہ وہ راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے حکومت سے جان چھڑائے۔

خواب فروشی ابن صفی اور نسیم حجازی نے بہت کی لیکن ان دونوں محترم شخصیات کی خواب فروشی کا وہ مقصد نہیں تھا جس کے مظاہر ہم دیکھ رہے ہیں۔

ان کا مقصدایک نو آزاد قوم میں اعتماد کی بحالی تھا۔ کرنل فریدی اور علی عمران ناول کے تقاضوں کے مطابق جرائم پیشہ افراد سے خود لڑائی کے جوہر دکھایا کرتے تھے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اپنے ہاں حساس اداروں کے سربراہان بھی اسی سطح پر آ گئے۔ نتائج سب کے سامنے ہیں۔ دنیاکا کوئی ایک ملک بتا دیں جس میں نازک امور نمٹانے والے یہ ادارے تمام ملکی آبادی میں آئے دن زیرِبحث نہ رہتے ہوں۔ اللہ سے دعا ہے کہ جو خواب معصوم نوعمر افراد اور پست ذہنی سطح کے حامل ڈگری یافتگان کو دکھائے گئے ہیں، وہ کسی نہ کسی طرح پورے ہو جائیں ۔

یہ سارے کام اللہ کی عنایت ہی سے ممکن ہیں۔ اللہ کرے ،یہ کرشمات رونما ہو جائیں۔ یہ میری دلی دعا اور میرا وعدہ ہے کہ ان خوابوں کا کچھ حصہ بھی پورا ہو گیا تو میں مکمل خودسپردگی کے ساتھ اپنی آراء سے اسی طرح رجوع کروں گا جیسے ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں کر چکا ہوں۔

اب یہ واضح ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بلاشرکت غیرے بن سکتی ہے۔ یہی صورت حال خیبر میں ہے جہاں تحریک انصاف بھی اسی طرح حکومت سازی کر سکتی ہے۔ بلوچستان میں سیاسی صورت حال اتنی غیرمستحکم تو نہیں ہے جتنی 2013ء کے انتخابات میں تھی لیکن اسے وہ استحکام بھی حاصل نہیں ہے جو باقی تینوں صوبوں میں ہے۔ وہاں پر سیاسی جماعتوں کے نام تلے حکومتیں بنتی ہیں۔

حالانکہ وہاں پر سیاسی جماعتیں دیگرصوبوں کی طرح مستحکم نہیں ہیں۔ اس لیے وہاں جو حکومت بھی بنے گی وہ اسی طرح کا ملغوبہ ہو سکتا ہے جیسا ماضی میں وہاں ہوتا رہا ہے۔ اب پنجاب میں صورتِ حال بڑی حد تک اسی طرح ہے جیسی 2013ء میں خیبر میں تھی۔

حزب مخالف کی دو ایک جماعتوں کی خواہش تھی کہ مل جل کر تحریک انصاف کی متوقع حکومت کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں لیکن آفرین ہے ،تب کے وزیرِاعظم پر کہ اس نے ایسی کسی بھی صورت حال کو یکسر مسترد کر دیا۔اب کے پنجاب میں اکثریتی جماعت کو حاصل اختیار کا احترام نہ کیا گیا تو ملک میں استحکام آنے کی کوئی توقع نہیں ہے۔

ہر وہ متعلقہ شخص یا ادارہ جسے ملک یا اپنے کِسی نیک مقصد سے لگاوٹ کا دعویٰ ہو، اس سے گزارش ہے کہ مذکورہ بالا خطوط پر وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی میں تعاون کرے۔

اس گزارش کا مقصد ہر پاکستانی پر واضح ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ ملک کا کوئی بھی خیراندیش اس سے اختلاف کرے۔ ملکی مسائل کچھ ایسے نہیں کہ روز کی اکھاڑ پچھاڑ سے حل ہوتے نظر آ رہے ہوں۔ سمندِ شوق پر سوار ہوتے ہی شہسوار پر اس کا اڑیل پن واضح ہو جائے گا۔ ملکی مسائل کو ایک طرف رکھ کر اڑوس پڑوس اور باقی دنیا پر طائرانہ نظر ڈالتے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ دنیااب اتنی آگے جا چکی ہے کہ ہم لوگ آج اس کے تعاقب میں نکلیں تب بھی اس کی گرد پانے میں عشرے درکار ہیں۔ کیا کبھی کسی نے غور نہیں کیا کہ ملک کے قیام کے ساتھ ہی اس کے خلاف عالمی طاقتیں کیاکیا گل کھلاتی رہی ہیں۔

اور اب تو ان ملکوں نے حد کر دی ہے۔ پورا ملک چند عالمی طاقتو ں نے ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ اور وہی لوگ ملک پر دہشت گردی کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ دنیاایک عالمگیر برادری بن چکی ہے۔

اس میں کسی کا الگ تھلگ زندگی گزارنا ناممکن ہے۔ اس گاؤں میں اپنی حیثیت کا تعین خود ہی کر لیں کہ ہماری اوقات کیا ہے۔ عالمی فورم پر ہماری یہ حالت ہو چکی ہے کہ ضرورت کے تین ووٹ بھی ہم پورے نہیں کر سکے اور ابھی تک دہشت گردوں کی معاونت کرنے کے الزام سے دوچار ہیں:

درون خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا

چراغ رہ گزر کو کیا خبر ہے!

ان حالات میں تمام فریقوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو حاصل اختیارات کا احترام کریں۔ جو لڑائی یا بحث مباحثہ پیش نظر ہو، وہ پارلیمان کے اندر ہی رہے۔

چند ہی ہفتوں میں وفاقی حکومت کو اندازہ ہو جائے گا کہ اسے کس قدر اختیارات حاصل ہیں اور جو اختیارات اسے دان کیے گئے ہیں، ان سے کہیں زیادہ سے تو گئے وقتوں کا ڈپٹی کمشنر متمتع ہو ا کرتا تھا۔ گزشتہ چار سالہ عرصے میں وفاقی حکومت اور بیوروکریسی کی راہ میں جو جو کانٹے بوئے گئے تھے ، ان کے برگ و بار کانٹوں ہی کی شکل میں اب خودسہنا پڑیں گے۔ سرکاری افسران بجائے خود ایک منظم وجود ہے جو غوغا مچانے یا پریس کانفرنس کرنے کی جگہ قواعد کا سہارا لے کر زندہ رہتا ہے اور نمو پاتا ہے۔

چار سالہ عرصے میں سرکاری افسران کے ساتھ جو سلوک عدالتی ایوانوں میں روا رکھا گیا، جس طرح ان لوگوں کو دربار عدل میں کھڑا کر کے رسوا کیا گیا، اتنے اعلیٰ پیمانے کے درباروں میں تو کیا ،کہیں تیسرے درجے کے تھڑے میں بھی کسی عام بے توقیر انسان کے ساتھ بھی ایسا سلوک دنیاکے لیے ناقابل فہم ہوتا ہے۔

خدشہ ہے کہ بیوروکریسی کا کچھوہ اپنی سونڈ کہیں خول کے اندر نہ کر لے، اگر ایسا ہوا تو وفاقی حکومت اپنی بے بسی پر خود ہی ر وئے گی،پارلیمان میں تالیاں پیٹی جائیں گی اور پارلیمان سے باہر خوابوں کے خریدار غل مچانے کو تیار ہوں گے کہ وارنٹی کے پانچ سالہ عرصے میں ہمارے خرید کردہ خوابوں کی تعبیر لاؤ ورنہ بستی میں دیگر خواب فروش اور بھی موجود ہیں۔

اور یہ تو سب کو علم ہے کہ جو بے صبرا پن گزشتہ چند سالوں میں لوگوں کے اندر سرایت کیا گیا ہے، اس سے صبر کی توقع عبث ہے۔ وفاق میں جو حکومت بھی بنے گی اسے اندازہ ہو جائے گا کہ نوازشریف کس قدر آہنی اعصاب کا وزیرِاعظم ثابت ہوا اور کیا کچھ سننے کے باوجود کسی ملکی راز یاسرکاری گفتگو کا معمولی سا حصہ بھی اس نے افشا نہیں کیا۔وفاقی حکومت کابینہ کے ذریعے اختیاات استعمال کرتی ہے۔

گاہے کابینہ کے اختیارات وزیراعظم استعمال کر گزرتا ہے اور بعد میں کابینہ سے منظوری لے لیتا ہے۔ ادھر تو کیفیت یہ تھی کہ خضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست و پا ۔باہر عوام پوچھ رہے تھے کہ خارجہ پالیسی اس قدر کیوں گہنا گئی ہے۔

اس کاجواب خندہ استہزا کے سوا اور کیاتھا کہ دودھ پینے کے لیے تو بندریااور ڈانگیں کھانے کے لیے ریچھ۔ ذرا غور کر لیں کیا کسی غیرملکی سرکاری ملازم کو آج تک کسی ملک نے اکیس توپوں کی سلامی دی۔ یہ اعزاز بھی ہمیں ہی حاصل ہے۔

1988ء میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو۔ سارک ممالک کے جملہ سربراہان مملکت، باستثنائے ہندوستان، اسلام آباد میں تشریف لائے ۔ ایئرپورٹ سے سیدھے جنرل محمد ضیاء الحق کی بیوہ سے تعزیت کرنے کس کی سفارت کاری کے بِرتے پر گئے تھے؟ خود مجھے بھی بڑی دیربعد سمجھ میں آیا۔

بہت آگے گئے باقی جوہیں تیار بیٹھے ہیں۔ بادشاہ کو کسی بچے نے تو ننگا کہنا ہی ہوتا ہے۔ وہ تو کہہ دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اب کی بار سیاست دان غوغا مچانے کی بجائے خود کو کسی حد تک ڈیسک ورک کا عادی بنا کر ننگا کہنے والے کی تائیدکریں گے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ ِ ا ب کے مار کے دیکھ! کا جواب خود سپردگی نہیں ہو گا بلکہ کہنے والے کو اگلی دفعہ یہ جملہ پھر سے ادا کرنے کی حاجت نہیں ہو گی۔ ان تمام باتوں کے باوجود، ان تلخ و شیریں الفاظ کے ساتھ ساتھ میں خود کو پابند پاتا ہوں کہ آنے والی حکومت کے لیے دعا گوہوں کہ اب اس کی حیثیت محض سیاست کار کی سی نہیں ،حکومت کرنے والے ایک ادارے کی سی ہو گی۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ نئی آنے والی حکومت کو ملک، قوم اور امت کے لیے ایک روشن مثال بنائے تاکہ ملک کا گہنایا گیا امن اور چین واپس قرار پکڑے۔ یہ بھی دعا ہے کہ تمام سیاست دانوں کو یہ توفیق حاصل ہو کہ کوئی ان پر انگلی نہ اٹھا سکے اور یہ کہ وہ ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھ سکیں۔

مزید : رائے /کالم