حکمت، حکومت اور حماقت

حکمت، حکومت اور حماقت
حکمت، حکومت اور حماقت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عمران خان کو بھی نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو کے بیانئے سے پرابلم نہیں ہونی چاہئے تھی مگر ان کا پرابلم یہ تھا کہ وہ گزشتہ بائیس برسوں سے سائیکل کو قینچی کے انداز میں چلا رہے تھے اور بار بار سیٹ پر بیٹھ کر چلانے کی کوشش میں کمر پر چوٹ بھی لگوا بیٹھے تھے ، حتیٰ کہ جنرل مشرف نے بھی ان کو سیٹ کی بجائے ڈنڈے پر بیٹھنے پر ہی ٹرخایا تھا ۔

وہ تو بھلا ہو نواز شریف کا کہ جن کی للکار پر عوام یوں اکٹھے ہوئے کہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ عمران خان کو سائیکل کی سیٹ پر بٹھا کر پیچھے سے کیریئر تھام کر ساتھ ساتھ دوڑے ۔

تبھی تو یہ چٹکلہ ان دنوں ہر ایک کی نوکِ زبان ہے کہ عمران خان پاکستان کے اگلے حکمران ہیں۔ اگر واقعی میں عمران خان اپنے بل بوتے پر حکمران بنتے تو ایم کیو ایم اور سردار اختر مینگل اس طرح کھلے بندوں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد نہ پہنچتے کیونکہ ایم کیو ایم اور سردار اختر مینگل کو نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو والے بیانئے سے کچھ پرابلم بھی نہیں ہے ۔

پاکستان تحریک انصاف حکمت کے تحت انتخابات جیتی ، روائتی انداز میں حکومت بنانے جا رہی ہے جبکہ اس کے سربراہ عمران خان تسلسل کے ساتھ حماقت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر لطیفہ چل رہا ہے کہ تحریک انصاف والوں کا حال یاجوج ماجوج قوم جیسا ہے ، رات کو حکومت بنا کر سوتے ہیں اور صبح اٹھ کر دیکھتے ہیں کہ ان کی حکومت نہیں ہے ۔ ہمارے خیال میں بڑی اور ملک گیر سیاسی جماعت کے ووٹ بینک پر اس طرح ڈاکہ نہیں ڈالا جاسکا ہے جس طرح علاقائی سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک پر ڈالا گیا ہے۔

تاہم ظلم یہ ہے کہ علاقائی سیاسی جماعتوں (ایک لحاظ سے آزاد بھی علاقائی ہی ہوتے ہیں کیونکہ ان کا اپنے علاقے سے باہر اثرو رسوخ نہیں ہوتا ہے) کو ہی عمران خان سے یوں ملوایا جا رہا ہے جیسے انہوں نے لنکا ڈھادی ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عمران خان اپنی اکثریت نہ ہونے کی بنا پر حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھتے لیکن عمران خان حماقت یہ کر رہے ہیں کہ واضح اکثریت نہ ہونے کے باوجود بھی حکومت بنانے جا رہے ہیں اور ایسی حکومت تین ماہ بھی نکال جائے تو بڑا کارنامہ ہو گا کیونکہ تحریک انصاف والے تو صبر شکر کرسکتے ہیں مگر آزاد بندوں کو کیونکر پابند کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی ایسے کہ جو آزاد ہونے کے باوجود بک گئے ، کبھی صرف غلام بکتے تھے ۔ اسی طرح مسلم لیگ ق نے جس طرح عمران خان کی گردن پر انگوٹھا رکھ کر پنجاب سمیت مرکز میں من مرضیاں کی ہیں اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کی جانب سے حکومت بنانے کا قدم ایک بہت بڑی حماقت ہے ۔ انہیں قدم قدم پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا اور یوں ان کی نیا ڈانوا ڈول ہی رہے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کو انتخابات جتوانے میں حکمت یہ تھی کہ نوا ز شریف کے بیانئے کو غلط ثابت کیا جائے حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ عمران خان کو ملنے والے ووٹوں سے ووٹ کی عزت نہیں ہوئی ہے مگر نواز شریف نے ٹھیک کہا کہ انہیں ووٹ عمران خان کی مخالفت میں نہیں پڑے ہیں ۔

گویا کہ عوام کی بڑ ی تعداد ووٹ کی عزت کی بحالی چاہتی ہے ، خواہ اس کے لئے انہیں دس اور انتخای معرکے ہی کیوں نہ سر کرنے پڑیں۔ یہ عوامی حلقے دھاندلی کے باوجودخاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں کیونکہ وہ کسی کے کندھوں پر سوار ہو کر احتجاجی تحریک بپا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاست میں وقت کی کتنی اہمیت ہوتی ہے اور مناسب وقت کا انتظار کس ثابت قدمی سے کرنا پڑتا ہے۔

جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس لئے انوکھی بات نہیں کہ وہ روائتی ہتھکنڈوں سے لیس ہو کر اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو رہی ہے۔ روائتی ہتھکنڈوں سے قائم ہونے والی حکومت روائتی طور پر دباؤ میں رہتی ہے اور نتیجہ کار ساری برائیاں اس کی جھولی میں ڈال دی جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر اگر امریکہ بہادر نے آئی ایم ایف کو تنبیہ کی ہے وہ پاکستان کو دیئے جانے والے قرضے کا غلط استعمال نہ ہو نے دے تو اس کی ذمہ داری براہ راست عمران خان کے امریکہ مخالف بیانات پر عائد کی جا رہی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی افغانستان پالیسی سے مطمئن نہیں ہے ۔

ایسا نہیں ہے کہ نواز شریف کے وقت میں امریکہ اس لئے خاموش تھا کہ وہ تب کی اسٹیبلشمنٹ کی افغان پالیسی سے مطمئن تھا بلکہ امریکہ اس لئے خاموش تھا کہ اسے معلوم تھا کہ نواز شریف خطے کے امن کے تناظر میں پاکستان اور بھارت سمیت کسی بھی اسٹیبلشمنٹ کے حد سے بڑھے کردار کے حق میں نہیں ہیں۔

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میاں کا ڈبہ گول ہوگیا ہے تو یہ بات میاں شہباز شریف کے باب میں تو درست ہوسکتی ہے لیکن جہاں تک بڑے میاں صاحب کا تعلق ہے تو ابھی تک انہی کا مہنگا مول ہے ۔

آج بھی لوگ میاں نواز شریف کو دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں ، عمران خان کی اپوزیشن بھلے شہباز شریف کریں گے لیکن نواز شریف اپوزیشنوں کی اپوزیشن کریں گے ۔ وہ اس وقت کے لئے جدوجہد کررہے ہیں جب ظلم و ستم کے کوہ گراں رائی کی طرح اڑ جائیں گے!جو لوگ سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف کا موقف پٹ گیا ہے وہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اگر میاں کا موقف پٹ گیا ہے توکیا کسی اور کا موقف ہٹ ہوا ہے ، اگر میاں کے ووٹروں کی عزت لٹی ہے تو کسی اور کے ووٹروں کی کونسا عزت بڑھی ہے ، انتخابات سے قبل انٹرنیشنل میڈیا نے جس بے باکی سے لکھا اگر اس کا عشر عشیر بھی مقامی میڈیا کو میسر ہوتا تو انتخابات کے نتائج مختلف ہوتے کیونکہ اب تو عمران خان نے بھی یہ بات مان لی ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہی دھاندلی ہے ، اسی لئے تو انہوں نے یہ کہہ کر وہ کوئی بھی حلقہ کھلوانے کو تیار ہوں گے دراصل ایک تہمت ہے جو انہوں نے اپنے سر باندھ لی ہے وگرنہ اگر اس پراپیگنڈے میں زور ہوتا کہ مریم کا پاپا چور ہے تو دھاندلی کا شور نہ پڑتااور لوگ شیر پر مہر لگانے کی زحمت ہی نہ کرتے جس طرح لوگ آصف زرداری کی تصویر بھی نہیں دیکھنا چاہتے ۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستانی قوم کا امیدوار وہ نہیں تھا جو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا تھا لیکن اس کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کو ایک داد ضرور دینا پڑتی ہے کہ وہ اپنی اجارہ داری بھی ایک ڈسپلن کے ساتھ رائج کرتی ہے ، اس کی جگہ اگر کسی سیاسی جماعت کو موقع ملے تو وہ وہ گل کھلاتی ہے کہ غیر تو غیر اپنے بھی اس کے مخالف ہو جاتے ہیں ، بھٹو کے دور میں جو کچھ ہوا اس سے کئی سرخوں کی رنگت پیلی پڑگئی تھی ، وہ انقلاب جس کا خواب بھٹو کی صورت میں انہوں نے دیکھا تھا ہوا ہو گیا تھا ۔ یوں بھی انتخابات میں حصہ لینا چھپن چھپائی کا کھیل شروع کرنے سے پہلے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ، فضا میں بلند کرکے الٹی یا سیدھی تالی بجا کر پگنے جیسا ہوتا ہے ، اس عمل میں کوئی پگ جاتا ہے اور کوئی نہیں پگتا لیکن چونکہ ہر کسی نے غیر مشروط پگنے کے عمل میں حصہ لیا ہوتا ہے اس لئے اسے نتیجہ ماننا پڑتا ہے ۔

چنانچہ اگر ایک سیاسی جماعت اس مرتبہ ایک موقف اختیار کرکے ہارگئی ہے تو دوسری جماعت دوسرا موقف اختیار کرکے کل ہار جائے گی ، اصل بات اس میدان کی ہے جس میں سب نے کھیلنا ہے ، اس میدان کو نہیں کھونا چاہئے۔

پاکستان میں وہ میدان جمہوریت کا میدان ہے ، اس پر آمریت کا قبضہ نہیں ہونے دینا ہے کیونکہ اب پاکستان عوام کے حق رائے دہی کی بے توقیری کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے ، اب کی بار ووٹ کی عزت نہ ہوئی تو ووٹر اپنی عزت خود کرائے گا!

مزید : رائے /کالم