ہماری دیمک زدہ خارجہ پالیسی (2)

ہماری دیمک زدہ خارجہ پالیسی (2)
ہماری دیمک زدہ خارجہ پالیسی (2)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پیپلز پارٹی کی بنیاد پنجاب میں ہی پڑی، 1971ء کی جنگ میں پولینڈ کی قراردار کو ڈرامائی انداز میں پھاڑ کر بچے کُھچے مشرقی پاکستان کو مکمل بنگلہ دیش بنوادیا۔ شملہ کانفرنس میں کشمیر کے بین الاقوامی مسئلے کو دو طرفہ مسئلہ بنا کر اس مسئلہ کی بین الا قوامی حیثیت کو ختم کر دیا۔ بھٹو صاحب کو ہم ہر دلعزیز اور کرشمے والا لیڈر تو مان سکتے ہیں، لیکن خارجی معالات کو بھٹو صاحب دور اندیشی سے نہیں چلا سکے ۔

دنیا کے تمام مسلمان ممالک کی 1974ء کی لاہور کانفرنس کو لوگ بھٹو کی کامیاب خارجہ پالیسی کا حصہ بتاتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک قبل از وقت اِقدام تھا۔ بھٹو صاحب نے اس اِقدام سے امریکہ اور یہودی لابی کو الرٹ کر دیا اور مسلمان ملکوں میں ہمیشہ کے لئے نفاق کا بیج بو دیا گیا۔ شاہ فیصل کو بطور سزا مروا دیا گیا۔بھٹو کو بھی چین سے حکومت نہ کرنے دی اور بالاخر عوام کے محبوب لیڈر بھٹو صاحب کو غیظ و غضب کا نشانہ بنا دیا گیا۔ آج کی دنیا میں خارجہ تعلقات کا ملک کی داخلی اور دفاعی پالیسی سے بہت زیادہ تعلق ہوتا ہے۔

پاکستان کے معروضی حالات کے حوالے سے میں 3 مثالیں دوں گا کہ جہاں ہم نے اپنی دفاعی اور خارجہ پالیسوں کو خلط ملط کیا اور نقصان اُٹھایا، ہم نے قیام پاکستان کے روز سے ہی ایران اور افغانستان کو اپنی تزویری Strategical گہرائی کو اپنے دفاعی پلان کا حصہ بنایا، حالانکہ ہماری یہ مفاہمت ایران کے ساتھ تو تھی، لیکن افغانستان کے ساتھ اس موضوع پر بات ہی نہ ہوئی تھی بلکہ افغانستان تو پہلے روز سے ہی ہمارا مخالف تھا اور وہ گاہے بگاہے آزاد پشتونستان اور ڈیورنڈ لائن کا قضیہ اُٹھاتا رہتا تھا۔

ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کو اپنی دفاعی پالیسی سے ہم آھنگ نہیں کیا جو یقیناًافغانستان کو پاکستان کے قریب لانے میں ناکام رہی۔ 1962ء میں ایک موقع پاکستان کو اور ملا جب کہ چائنا اور بھارت کی لڑائی NEFA کے علاقے میں زور و شور سے شروع ہو گئی۔ پاکستان چین کا دوست تھا۔ حسین شہید سہروردی اور ایوب خان چین کا دورہ کر چکے تھے۔ چواین لائی بھی پاکستان آ چکے تھے۔

پاکستان کے لئے نہائت سُنہری موقع تھا کہ وہ ہنرمندی سے ہندوستان کو مسئلہ کشمیر کے فیصلے کی طرف لے آتا۔ پاکستان اُس وقت ہندوستان کو خوفزدہ کر سکتا تھا۔ ہندوستان اُس وقت عسکری لحاظ سے کمزور تھا ،جبکہ ہم فوجی ساز و سامان اور تربیت یافتہ فوج کے ذریعے پوری طرح ہندوستان کے لئے خطرہ بن سکتے تھے، لیکن صد اَفسوس اُس وقت بھی ایوب خان کے وزیرِ خارجہ محمد علی بوگرہ تھے، جنہوں نے امریکہ کے مفاد کو اوّلین رکھتے ہوئے ایوب خان کو اس جنگ سے الگ تھلگ رہنے کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ ایوب خان سے امریکہ کو اس کی یقین دھانی کروا دی ۔ چین / بھارت جنگ ہندوستان کی شکست پر ختم ہوئی۔ اس شکست کے بعد امریکہ نے ہندوستان کو جنگی سامان کوڑیوں کے دام بیچنا شروع کر دیا۔ ہندوستان کا فوجی پہاڑی ڈویژن امریکہ کی مدد سے بنایا گیا۔ ہماری خارجہ پالیسی ایسے نادر موقع سے فائدہ نہ اُٹھا سکی۔

بے نظیر کی حکومت کے دوسرے دور میں افغانستان پر طالبان کی حکومت بن گئی۔ جس کو فوراً ہی پاکستان ، سعودی عرب اور متحدہ عرب اِمارات نے تسلیم کر لیا۔ بے نظیر کے بعد جناب نواز شریف اور پھر جنرل پرویز مشرف کی حکومتیں آئیں۔

ہمارے تعلقات طالبان کے زمانے میں افغانستان سے بہت دوستانہ رہے، اُس دوستی کے دوران پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ طالبان کی حکومت سے ڈیو رنڈلائن کا جھگڑا ہمیشہ کے لئے ختم کروا لیتا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پھر ایک موقع اُس وقت مِلا جب امریکہ میں 9/11 ہوا اور امریکہ طالبان پر حملہ کرنے کا عندیہ دے چکا تھا۔

جنرل مشرف کی حکومت نے ابھی طالبان کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا، لیکن افسوس جنرل مشرف نے اُس وقت بھی ڈیورنڈلائن کے مسئلے کو سنبھالنے کی کوشش نہ کی بلکہ بعد میں طالبان کے سفیر ملّا ضعیف کو امریکہ کے حوالے کر دیا۔ ہماری خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی ایک دوسرے میں گڈ مڈ رہی ہیں،لیکن حقیقت میں دفاعی پالیسی کا پلّہ بھاری رہا ہے۔

16 سال سے (پرویز مشرف + زرداری +نواز شریف حکومتیں ) ہماری دفاعی پالیسی ہی مقدّم ہے اور خارجہ پالیسی کا کنٹرول ہماری عسکری قیادت کے پاس چلا گیا ہے۔ جنرل ضیاء کی حکومت اور اُس کے بعد جتنی حکومتیں آئیں ، اُنکے وزراء خارجہ یا تو کمزور تھے یا امریکہ کے زیرِ اثر تھے۔ خارجہ پالیسی کا تعلق تجارتی پالیسی سے بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔

امریکی تجارتی پابندیاں دوسرے ملکوں پر لگائی ہی اس لئے جاتی ہیں کہ وہ ملک امریکہ کی سوچ سے یا تو ہم آھنگ ہوں ورنہ تجارتی طور پر ساری دنیا سے منقطع ہو جائیں۔پاکستان کی ہر حکومت امریکی تجارتی پابندیوں کے خوف سے اَب تک آزاد یا متوازن خارجہ پالیسی نہیں بنا سکی ہے۔ امریکہ کے ہی تعاون اور سر پرستی میں ورلڈ بینک، IMF اور WTO بنائے گئے ،تاکہ تیسری دنیا کے ملک امریکی مفادات سے باہر نہ جانے پائیں۔ ہمارا ملک بھی اِن ہی ملکوں کے زمرے میں آتا ہے۔

قائدِاعظم کی زندگی ہی میںُ ملاّئیت نے ہماری سیاست میں داخل ہونے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ پاکستان کی تشکیل سے پہلے جو اسلامی نعرے بازی ہوئی اُس کو بنیاد بنا کر پاکستان بننے کے بعد مولویوں نے یہ مطلب نکالا کہ پاکستان اسلام کے لئے بنا ہے نہ کہ مسلمانوں کی بہبود کے لئے۔ جنرل ضیاء کی حکومت کے دوران ،ہماری خارجہ پالیسی میں عرب ممالک کا زیادہ عمل دخل ہوگیا۔ ان عرب ممالک کی اہمیت صرف تیل کی وجہ سے تھی ۔

روس کے خاتمے کے بعد امریکہ کو بھی یہ عرب ممالک تیل کی وجہ سے عزیز تھے۔ ایک خاص مسلک کے عرب ممالک کو پاکستان کے ہم مسلک مُلاّؤں نے خوش آمدید کہا۔ اِن عرب ملکوں نے، انقلابِ ایران کے خوف سے ،پاکستان کی داخلی سیاست میں ہماری دینی سیاسی جماعتوں کی مدد سے ہمارے خارجہ تعلقات پر بھی اثر اَنداز ہونا شروع کر دیا۔

ایران، ایک ایسا ملک جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا، ایک ایسا ملک کہ جس کی ثقافت، زبان اور لٹریچر سے 1000 سال سے ہم مانوس تھے وہ ہمارے لئے اجنبی بننا شروع ہوگیا۔ امریکہ اور عرب برادر ممالک کے دباؤ میں آکر ہم ایران کی ہمسائیگی سے معاشی فوائد حاصل نہیں کر سکے۔ ہماری کمزور اور بزد لانہ خارجہ پالیسی ہی ہے کہ ہم نہ ایران سے تیل اور گیس کی پائپ لائن لے سکتے ہیں اور نہ ہی سستی بجلی۔ خارجہ تعلقات میں باہمی مفاد شامل نہ ہو تو ایسے تعلقات یک طرفہ ہو جاتے ہیں۔

ہم امریکہ سے تعلقات رکھنے پر مجبور ہیں۔ ہماری افواج، امریکہ کے اسلحہ اور ہوائی جہازوں کی اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے مجبور ہیں کہ امریکہ سے تعلقات استوار رکھے جائیں خواہ امریکہ ہمارے مفادات کو خاطر میں بھی نہ لائے۔

ورلڈ بینک اور IMF امریکہ کے 2 ایسے باز و ہیں جن کے ذریعے ہمارے جیسے مقروض ملک کے ہاتھ مروڑے جا سکتے ہیں، مضبوط خارجہ پالیسی کے لئے، مضبوط لیڈر، جو عوام میں ہر دلعزیز ہو بہت ضروری ہے۔ ہر دلعزیز، دیانت دار اور مخلص لیڈر ہو تو عوام سخت سے سخت حالات میں گذار ا کر سکتے ہیں۔

ہمارے عوام بغیر، سہولیات ، بغیرعارضی چمک دمک ،بغیر کوکا کولا، میکڈانلڈ،بغیر قیمتی کاروں اور بنگلوں کے، بغیر لمبی چوڑی سڑکوں اور پلازوں کے رہ سکتے ہیں اور مغرب کی طاقتور حکومتوں کی بلیک میلنگ سے نمٹ سکتے ہیں۔

صد حیف کہ ہمارے پاس کوئی ایسا لیڈر ہی نہیں ہے جو ہمیں آزاد خارجہ پالیسی کی راہ پر ڈال سکے۔ آج کا سرمایہ دارانہ نظام بھی ملک کے داخلی اور خارجی تعلقات پر اثر انداز ہوتا ہے۔

Corporate امریکہ اپنے ملک کی داخلی اور خارجہ پالیسی پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اپنے ہم خیال کانگریس اور سینٹ کے اُمیدواروں کو جتوانے کے لئے سرمایہ کاری کرتا ہے۔ پبلیسٹی اور میڈیا کے ذریعے عوام کے ووٹ پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ظاہری طور پر کانگریس کا اُمیدوار بڑی ہی کم خرچ پبلیسٹی کرتا ہے ،لیکن Lobbyst اصل کام کرتے ہیں۔ چونکہ بین الاقوامی تجارت کے مفادات یکساں ہی ہوتے ہیں اس لئے امریکہ کے بڑے تاجر اور صنعت کار دوسرے ممالک کے انتخابات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں سرمایہ دارانہ نظام کی جیت ہوئی ہے حالیہ انتخابات میں۔ اسی طرح بڑے سلیقے اور چالاکی سے پاکستان کے سرمایہ داروں، صنعت کاروں اور زمین داروں کو جھوٹی جمہوریت کے بل بوتے پر ہماری سیاست، معیشت اور خارجہ پالیسی پر مسلط کر دیا گیا ہے ۔ ہماری بڑی سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کے تمام مالی مفادات مغربی ممالک میں ہیں۔

اُن کی اولادیں وہاں خاندانی کاروبار چلا رہی ہیں، مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام نے بڑی عیاری سے ہماری سیاسی پارٹیوں کے درمیان چارٹر آف ڈیموکریسی (COD) کروا کر " مفاہمت" کے دروازے کیا کھولے کہ کرپشن کا پاکستان میں سیلاب آ گیا۔

ہماری خارجہ پالیسی کی یہ اہمیت ہے کہ اس کی دیکھ بھال کے لئے ایک ضعیف العمر مشیر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کا وہ حصہ جو ہماری عسکری قیادت کے لئے ضروری ہے اُسے فوج خود چلا رہی ہے۔ باقی رہے تجارتی معاہدے وہ سوِل اداروں کی لوٹ مار پر چھوڑ دیئے گئے ہیں۔

مزید : رائے /کالم