شہاں کہ کُحلِ جواہر تھی خاکِ پا جن کی!

شہاں کہ کُحلِ جواہر تھی خاکِ پا جن کی!
شہاں کہ کُحلِ جواہر تھی خاکِ پا جن کی!

  

جنرل فلر (Fuller) برٹش آرمی کا ایک ناقابلِ فراموش کردار تھا۔1878ء میں پیدا ہوا اور 1966ء میں انتقال کیا۔ اسے 1898ء میں ایک انفنٹری رجمنٹ میں کمیشن دیا گیا۔ شروع ہی سے وہ لکھائی پڑھائی کا شوقین تھا۔ 1903ء میں اس کی رجمنٹ کو انڈیا جانے کا حکم ملا۔

یہ وہ دور تھا جب روس اور جاپان کی مشہور جنگ ہو رہی تھی۔ یہاں انڈیا میں آکر فلر کو ایک پروفیشنل کورس پر راولپنڈی بھیجا گیا۔ انہی ایام میں اسے ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔

یہ اس کی بدقسمتی تھی کہ یہاں انڈیا میں اسے کسی مسلمان اہلِ دل سے گفتگو کا موقع نہ ملا۔ البتہ ہندو جوگیوں، مہاشوں اور پنڈتوں سے اس کی بہت سی ملاقاتیں رہیں۔

ہو سکتا ہے کہ انگریزوں میں جو اسلام دشمنی کا رجحان شروع سے موجود ہے اس کے زیر اثر فلر نے عمداً کسی مسلمان مولانا، مولوی یا مذہبی رہنما سے ملنا گوارا نہ کیا ہو!۔۔۔ بہرحال جوگیوں اور پنڈتوں سے اس نے یوگا کی تعلیم حاصل کی اور اس پر ساری عمر عمل کیا۔ وہ فخر سے کہا کرتا تھا کہ 50سال تک نہ اس کو کبھی کسی ڈاکٹر سے واسطہ پڑا اور نہ کبھی ہسپتال جانا پڑا۔پروفیشنل معمولات کے علاوہ فلر نے تقریر و تحریر ، سیاسیات اور صحافت کے مطالعہ میں بھرپور حصہ لیا۔

اس میں اس کی اچھی صحت کا بھی بہت دخل تھا۔ اچھی صحت سے مراد یہ نہیں کہ وہ کوئی موٹا تازہ اور ہٹا کٹا شخص تھی بلکہ وہ ایک چھوٹے قد اور کم وزن کا انسان تھا اور اسی وجہ سے ساری فوج اسے ’’بونی فلر‘‘ (Boney Fuller) یعنی ’’مریل فلر‘‘ کے نام سے جانتی تھی۔

جوگیوں اور پنڈتوں سے یوگا کے علاوہ اسے جادو، ٹونے ، منتر اور پراسرار اشیاء اور واقعات پر بھی یقین تھا۔ ان باتوں کا اگرچہ فوجی زندگی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ بیر ہے لیکن فلر ساری عمر کالے جادو اور ٹونے پر یقین کرتا رہا۔

اس کا استدلال تھا کہ جادوئی علم کی بجائے اشیائے محسوس کے اندر جو دوسرے معانی پوشیدہ ہوتے ہیں، ان کے وجود سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ اس نے انڈیا میں اپنا ایک اتالیق (منشی) بھی رکھا ہوا تھا جس سے اس نے یہاں کی مقامی زبان ’’اردو‘‘ بھی سیکھی۔

روس جاپان جنگ (1903-04)میں روس کو شکست ہو گئی تھی اور فلر اس پر بہت خوش تھا۔ اب وہ کپتان (Captain)بن چکا تھا لیکن اس کے سینئرز، فلر سے ناراض رہا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس ایک مغربی قوم ہے اور جاپان ایک مشرقی قوم۔۔۔ اگر برطانوی فوج کا کوئی آفیسر آج کسی ایشیائی قوم (جاپان) کی کسی یورپی قوم (روس) پر فتح کو باعثِ مسرت سمجھتا ہے تو کل کلاں وہ ہندوستانی فوج کی فتح پر برطانیہ کے خلاف بھی یہی ردعمل ظاہر کرے گا۔۔۔ اور یہ ان کے نزدیک ایک خطرناک بات تھی۔۔۔ 1886ء میں انڈیا میں کانگرس پارٹی کی بنیاد رکھی جا چکی تھی جس کا منطقی مقصود انگریزوں کو برصغیر سے نکال کر یہاں کے مقامی باشندوں کو حقِ حکومت دینا تھا۔۔۔ اسی لئے فلر کی یہ خوشی ایک خطرناک بات سمجھی گئی۔

فلر کے یہی خیالات تھے جو بعد میں سوشلسٹ تصورات کے ساتھ اس کے چمٹے رہنے کا سبب بنے۔

دریں اثناء فلر بیمار پڑ گیا۔ ڈاکٹروں نے تپِ محرقہ تشخیص کیا۔ تین ہفتوں تک اسے تیز بخار اور نیم بے ہوشی کے دورے پڑتے رہے اور اسے 6ماہ تک لکھنوء کے ایک ملٹری ہسپتال میں زیر علاج رہنا پڑا۔ اپریل 1906ء میں اسے ہسپتال سے ڈسچارج کرکے ایک سال کی رخصت پر واپس گھر (انگلستان) بھیج دیا گیا۔ یہی وہ دور تھا جس میں اس کو لکھنے پڑھنے اور غور و فکر کرنے کا وافر موقع ملا۔1907ء میں اس کی پہلی کتاب منظر عام پر آئی جس کا نام ’’مغرب میں ستارہ‘‘ (The Star in the West)تھا۔ اس دور میں حاضر سروس افسروں کو نشر و اشاعت میں حصہ لینے کی اجازت تھی۔ اسی دور میں اسے کلازوٹز کی مشہورِ زمانہ تصنیف ’’آن وار‘‘ بھی پڑھنے کا موقع ملا۔

اس کی ماں فرانسیسی نژاد تھی اور نانا جرمنی میں رہتا تھا۔ جہاں اس کی والدہ پل بڑھ کر جوان ہوئی اور اس کی ابتدائی تربیت مذہبی ماحول میں ہوئی۔ وہ اپنے دور کی ذہین، حسین اور تعلیم یافتہ خواتین میں شمار ہوتی تھی۔ فلر پر اس کا اثر نمایاں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ انگریزی کے علاوہ فرانسیسی اور جرمن زبانوں سے بھی کماحقہ واقف تھا

اس نے سٹاف کالج کا امتحان دیا اور فیل ہو گیا، دوسری بار1913ء میں اس کو کامیابی حاصل ہوئی۔ اگست1914ء میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی اور سٹاف کورس کے طلبا کو واپس یونٹوں میں بھیج دیا گیا۔یہاں انڈیا میں وہ اپنے سینئرز کی ’’اچھی کتابوں‘‘ میں نہیں گنا جاتا تھا،چنانچہ اسے واپس برطانیہ بھیج دیا گیا۔

اب وہ وہاں میجر رینک میں پروموٹ ہو چکا تھا اور اس کی تعیناتی تھرڈ آرمی ہیڈ کوارٹر میں کر دی گئی۔

اب تک فلر نے ٹینک کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔اکبوتر1916ء میں برطانیہ میں ایک نئی کور کھڑی کی گئی جس کا نام ’’ٹینک کور‘‘ رکھا گیا۔ فلر اس کور میں بطورGSO-2 پوسٹ کیا گیا۔20نومبر1917ء کو کیمبرائی (فرانس) کے مقام پر دنیا کی ٹینکوں کی پہلی لڑائی لڑی گئی جس کی پلاننگ فلر نے کی۔

وقت آگے بڑھتا گیا اور فلر کو میجر جنرل کے رینک میں ترقی مل گئی۔ ان برسوں میں اس کی کئی کتابیں شائع ہوتی رہیں۔اس نے جرنیلوں پر سخت تنقید کی اور اپنی ایک کتاب ’’جنرل شپ‘‘ میں لکھا: ’’جنرل کو دلیر ہونا چاہئے۔ اس کا ذہن تخلیقی ہو۔ لیکن دونوں خوبیاں جوانی کے ساتھ مخصوص ہیں، بڑھاپے کے ساتھ نہیں۔ اس لئے جنگ لڑنے کے لئے نوجوان جرنیلوں کی ضرورت ہے‘‘ اس نے تجویز کیا کہ جرنیلوں کو چھوٹی افواج کی کمانڈ دی جائے جن کو وہ بہ نفسِ نفیس خود میدانِ جنگ میں کمانڈ کر سکیں۔

سینئر افسروں کو یہ نصیحت/تجویز اتنی بری لگی کہ1933ء میں اسے قبل از وقت ریٹائرڈ کر دیا گیا۔ اس وقت اس کی عمر54 سال تھی۔1933ء ہی میں جرمنی میں اوڈلف ہٹلر برسرِ اقتدار آیا۔ ہٹلر کے جرنیل خاص طور پر گڈیرین، رومیل اور موڈل فلر کی کتابوں اور اخبارات میں شائع ہونے والے اس کے مضامین کا مطالعہ کرتے رہے اور اپنی ٹینک فورس کو جدید سے جدید تر بناتے رہے۔

1935ء میں جرمنی میں بڑے پیمانے پر ٹینکوں کی مشقیں کی گئیں جن میں فلر کو بھی مدعو کیا گیا۔یہاں اس کی ملاقت ہٹلر سے ہوئی اور دورانِ جنگ بھی وہ کئی بار جرمنی آتا جاتا رہا۔ اٹلی کا مسولینی بھی اس کا دوست تھا۔لیکن برٹش پرائم منسٹر، چرچل اس سے سخت ناراض تھا۔ اس کی سروس34 سالوں پر محیط تھی اور پھر34برسوں تک اس نے تصنیف و تالیف کا کام بھی سنبھالے رکھا۔ 1966ء میں اس کا بعارضہ نمونیہ انتقال ہو ا تو تب بھی اس کا ذہن ترو تازہ تھا!

دنیا کی اکثر افواج میں اور پاک آرمی میں بھی جنرل فلرکی ایک کتاب’’کنڈکٹ آف وار‘‘ برسوں تک ملٹری امتحانوں میں شاملِِ نصاب رہی۔ مجھے حالیہ الیکشنوں میں عمران خان کی طویل جدوجہد اور کامیابی کا خیال آیا تو جنرل فلر کی اس کتاب کا ایک پیراگراف بھی یاد آیا جو نپولین کے بارے میں تھا: وہ لکھتا ہے: ’’ایک شخص اٹھے گا۔۔۔ ایک ایسا شخص جس کو پہلے کبھی کاروبار سلطنت و حکومت سے کوئی واسطہ نہیں پڑا ہو گا۔ یہ شخص تنہائی میں بیٹھ کر سوچتا رہا ہو گا اور مستقبل کے تانے بانے بنتا رہا ہو گا۔ اس کی خوبیوں کے جوہر اس وقت کھلیں گے جب اسے دعوتِ عمل دی جائے گی۔

یہ شخص کوئی بڑا دانشور اور عالم فاضل نہیں ہو گا۔تاہم وہ لوگوں کی رائے اور قسمت اپنے ہاتھ میں لے لے گا۔وہ باتوں کا نہیں عمل کا پیامبر ہوگا اور عمل کو قول پر ترجیح دے گا۔ وہ لوگوں کو وہی بات کہے گا جو قدیم یونان میں عمل کرنے والوں نے وعظ کرنے والوں سے کہی تھا۔۔۔ یعنی ’’ہمارے حریف جس بات کی زبانی رٹ لگاتے رہے ہیں، ہم اس کو عملی جامہ پہنا کر دکھائیں گے۔‘‘۔۔۔

اس کے بعد فلر لکھتا ہے:’’نپولین بونا پارٹ ایک ایسا ہی شخص تھا جو 5اکتوبر1795ء کو اچانک پیرس میں نمودار ہوا۔ کا رلائل کے مطابق اس شخص کو قدرت کاملہ نے دیدۂ بینا عطا کیا تھا، اس کی روح مضطرب اور بے تاب تھی، بادشاہ بننا اس کا مقدر تھا اور وہ بادشاہ بن کے رہا!‘‘

قارئین اس سے یہ نہ سمجھیں کہ میں عمران خان کو نپولین کا مماثل قرار دے رہا ہوں۔۔۔۔ایسا ہرگز نہیں۔۔۔ نپولین ایک فوجی تھا، پھر بادشاہ بنا اور پھر واٹرلو میں شکست کھائی اور ایک جزیرے میں قید رہا اور وہیں زندگی کے آخری ایام گزارے؟۔۔۔ میں نے یہ مثال اس لئے دی ہے کہ کسی بھی معاشرے میں بعض اوقات اچانک ایک بڑی تبدیل آجاتی ہے۔

اس کا اندازہ کسی کو بھی نہیں ہوتا۔ یاد کیجئے حالیہ انتخابات میں مسمار ہو جانے والے بڑے بڑے سیاسی برج یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ عوام کی عدالت فیصلہ کرے گی۔۔۔25جولائی کو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائیگا اور نجانے اور کیا کیا کچھ۔۔۔ لیکن 25جولائی کا نتیجہ ہم نے دیکھ لیا۔ جو لوگ فوج کو اس تبدیلی کا پشتیبان کہتے ہیں وہ شائد درست ہی کہتے ہوں گے لیکن کونسا ایسا الیکشن ہے جس میں فوج نے پشتیبانی نہیں کی ۔۔۔ اگر اب کی بار یہ الزام لگایا گیا ہے تو نیا نہیں۔ فوج تو ہمیشہ جمہوریت کے ٹھیکے داروں کی زد پر رہی ہے۔ جمہوریت کا حسن ہم کو بار بار دکھایا اور بتایا جاتا رہا۔۔۔۔ یا دکیجئے گزشتہ پانچ دس برسوں کا جمہوری دورانیہ اور ٹی وی کے ہر شام و شب ٹاک شوزوغیرہ

میں قارئین کو یہ بتانے کی کوشش کررہا ہوں کہ تاریخ اور تقدیر کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ ان کے لئے وقت مقرر ہے۔ وہ آگے پیچھے ہوسکتا ہے لیکن ٹل نہیں سکتا۔ عمران کا پردۂ سکرین پر ظہور یہی ’’تقدیر و تاریخ‘‘ کا فیصلہ ہی تو ہے۔۔۔ یہ ہونا ہی تھا۔۔۔ کیا تاریخِ برصغیر میں مغل حکمرانوں کا ’’ سنہری دور‘‘ ہمیں یاد نہیں جس میں ایک بھائی دوسرے بھائی کو اندھا کر دیتا ہے اور تاریخ اس مظلوم کو بھولے سے بھی یاد نہیں رکھتی؟ ہاں فسانے رہ جاتے ہیں جسے خلق خدا دہرانے پر مجبور ہوتی ہے۔ کسی کا شعر ہے:

شہاں کہ کحلِ جواہر تھی خاکِ پا جن کی

انہی کی آنکھوں میں پھرتے سلائیاں دیکھیں

مزید : رائے /کالم