اداروں کی سیاست میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ،ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش خطرناک ثابت ہو گی :محمود خان اچکزئی

اداروں کی سیاست میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ،ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش ...
اداروں کی سیاست میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ،ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش خطرناک ثابت ہو گی :محمود خان اچکزئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اداروں کی سیاست میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، پشتون دہشت گرد نہیں، دنیا میں ان کو دہشت گرد کے طورپر پیش کیا جارہا ہے،ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے تمام سیاسی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،ملکی  آزادی کے لئے پشتونوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں مگر اب ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، جو لوگ امریکی سامراج کو ملک بننے سے پہلے سپورٹ کررہے تھے آج وہ ہمیں ملک دشمن کہہ رہے ہیں، ہم پہلے بھی محب وطن تھے اور آج بھی محب وطن ہیں ہمیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کو انٹرویو  دیتے ہوئےمحمودخان اچکزئی نے کہاکہ پشتون اپنی سرزمین پر آباد ہیں، ہم کسی کے غلام نہیں اور نہ ہی کسی کی غلامی تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں، تمام اداروں کو آئین کا احترام کرنا چاہئے ،پارلیمنٹ سب سے زیادہ سپریم ہے،سیاست میں اداروں کی مداخلت نہ پہلے برداشت تھی نہ آئندہ برداشت کریں گے اور اس سلسلہ میں ہم خاموش نہیں رہیں گے اور نہ ہی  ملک اس طرح چلے گا ،اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ وہ زور زبردستی سے ملک کو اس طرح چلائے گا تو ہم کسی صورت اس کی اجازت نہیں دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ پشتون قیادت کو ایک منصوبے کے تحت پارلیمنٹ سے باہر رکھا گیا تاکہ پارلیمنٹ میں جو کچھ بھی ہو گا اس پر کوئی کچھ نہیں کہہ سکے گا ،ہم اس ملک کو آئین کے تحت چلانا چاہتے ہیں مگر کچھ لوگ ہم سے اس بات پر ناراض ہیں کہ ہم آئین کی پاسداری چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پشتون دہشت گرد نہیں ہے ،ہم اس مٹی سے محبت رکھنے والے لوگ ہیں، اگر ملک کو چلانا چاہتے ہو تو ہمیں آئینی گارنٹی دی جائے کہ سیاست میں مداخلت نہیں کی جائے گی اور تمام اقوام کی حقوق تسلیم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قلعہ عبداللہ میں الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن کی گئی اور ہماری اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی میں دیگر اقوام سے زیادہ پشتونوں نے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں اور ہمارے اکابرین نے جیلیں کاٹیں اور انگریزوں کے خلاف طویل جدوجہد کی مگر بدقسمتی سے آج وہ لوگ ہمیں غدار کہہ رہے ہیں جو ملک بننے سے پہلے انگریزوں سے غلام تھے ۔

مزید : قومی