کیا تحریک انصاف تمام مسائل حل کرانے میں کامیاب ہو جائے گی؟

کیا تحریک انصاف تمام مسائل حل کرانے میں کامیاب ہو جائے گی؟

اسد اقبال

سیاست دانوں کے ذاتی مفادات اور ملک پاکستان سے محبت نہ کر نے والے حکمرانوں کی بدولت جہاں ملکی معیشت کاپہیہ تر قی کی پٹری پر رواں نہ ہو سکا ہے وہیں عوام خوشحالی کی زندگی سے دور مہنگائی کے چنگل میں پھنس چکے ہیں ،جس کی وجہ اپنوں ہی کی سستی، نااہلی، خودغرضی اور مفاد پرست رویئے کی بدولت پیارا وطن پاکستان رواں ماہ اپنی 71ویں سالگرہ منائے گاتاہم پاکستان آج بھی ترقی پذیر ممالک کی صف میں کھڑا ہے۔ ملک کے جوجو حالات نظر آرہے ہیں اُن کے پیشِ نظر اِس صف میں سے نکل کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ قیامِ پاکستان کے بعد زیادہ دیر تک حیات نہیں رہے۔ انہیں اجل نے اس قدر مہلت نہیں دی کہ وہ اِس نوزائیدہ ریاست کی بنیادوں کو اس قدر مضبوط کردیں جس پر ایک ترقی یافتہ ملک کی عمارت کھڑی ہوسکے، جبکہ اُن کے بعد حقیقی معنوں میں وطن کو کوئی ایسی قیادت نصیب نہیں ہوئی جو اُن کے افکار کی روشنی میں عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کرتی۔ آج اگرچہ سیاسی بازیگر اور معاشی جادوگر اپنی خامیوں کو بھی خوبیاں، برائیوں کو بھی اچھائیاں اور ناکامیوں کو بھی کامیابیاں قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں، لیکن حقیقی صورت حال قطعاً مختلف ہے۔ سب سے بڑا شعبہ ٹیکسٹائل جس قدر زبوں حالی کا شکار آج ہے اتنا پہلے کبھی نہ تھا، ٹیکسٹائل کی عالمی منڈی میں ہمارے ہی وجود میں سے جنم لینے والا بنگلہ دیش آج سینہ ٹھونک کر ہمارے سامنے آن کھڑا ہوا ہے، صرف لاہور کی دو تہائی ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہوچکی ہے اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے، جس سے لاکھوںں افراد بے روزگار ہوئے ہیں، جبکہ ملک پر مسلط رہنے والے حکمرانوں نے ہمیشہ نظریں چرائی رکھی اور اپنی عیاشیوں اور مفادات میں جڑے رہے ۔اب شاید وہ وقت آ گیا ہے جس سنہرے مستقبل کا خواب عوام نے دیکھ رکھا ہے کہ پاکستان میں خوشحالی کا دور ،امن کی فضا ، انصاف کا بول بالا ، مہنگائی کا قلع قمع ، عوامی بنیادی حقوق کی فراہمی ،صنعتی شعبہ میں ترقی اور انڈسٹری کا پہیہ رواں ہوگا، کیو نکہ عوام اور کاروباری برادری کو پہلی بار اقتدار میں آنے والی نو منتخب عوامی حکومت تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان سے بہت سی مثبت امیدیں اور تو قعات وابستہ ہیں کہ پاکستان اب حقیقت میں ایشین ٹائیگر بنے گا اور سسٹم میں تبدیلی لا کر ہمسایہ ممالک کی معاشی پالیسیوں سے تجربات لے کر ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کر نا ہے،جس کے لئے کاروباری برادری ،عوام اور پا ک فو ج نو منتخب حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ ہے، کیو نکہ پاکستان میں اب کی بار تبدیلی ناگزیر ہو چگی ہے۔ آئیے چند ایک اُن ممالک یا ریاستوں کا جائزہ لیتے ہیں جن کی انتہائی تیز رفتار ترقی دیکھ کر ہم جیسے ممالک کو باقاعدہ شرمندہ ہوجانا چاہئے۔

کامیابی و کامرانی اُن ہی کا مقدر بنتی ہے جو کامیابی کی خواہش رکھتے ہیں اور دوسروں کی کامیابیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ اِس ضمن میں ہمارے سامنے سب سے روشن مثال ملائشیا کی ہے، جس نے حیرت انگیز معاشی ترقی کی ہے۔ ملائیشیا آج ترقی کی جو منازل طے کررہا ہے وہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کی انتہائی موثراور حقائق پر مبنی معاشی پالیسیوں کی مرہون منت ہے۔ انہوں نے برسرِ اقتدار آنے کے کچھ عرصہ بعد یہ لازمی قرار دیا کہ جس غیر ملکی فرم کی تجارت پانچ ملین رنگٹ تک پھیل جائے گی وہ اپنی فرم میں ملائیشین مسلمان تاجر کو 30فیصدکا حصے دار بنائے گی ۔ اُن کے اِس قدم نے توقع سے زیادہ بہتر نتائج دئیے اور معیشت انتہائی تیزی سے پھلنے پھولنے لگی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے تعلیم کے لئے مختص بجٹ میں اضافہ کردیا اور اس وقت بھی ملائشین حکومت اپنے بجٹ کا پچیس فیصد حصّہ تعلیم پر مختص کررہی ہے جس کی بدولت ملائشیا میں شرح خواندگی بھی بہت بہتر ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے یقیناًکوئی نہ کوئی رول ماڈل سامنے ضرور رکھا ہوگا جس کی بنیاد پر انہوں نے اِس قدر جامع معاشی پالیسیاں ترتیب دے کر ملائشیا کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا۔

ماضی میں متحدہ عرب امارات کی بیشتر عوام کا روزگار اونٹ چرانے سے وابستہ تھا ۔ ان لوگوں کو عرفِ عام میں بدّو کہا جاتا تھا۔ دبئی میں بھی عوام کے کچھ حصّے نے گزر اوقات کے لئے اونٹ چرانے کا پیشہ اپنا رکھا تھا جبکہ باقی عوام کا بیشتر حصّہ مچھلیاں پکڑ کر روزگار کماتا تھا۔ 1966ء میں تیل کی دریافت کے ساتھ ہی دبئی کی تقدیر یکسر بدل گئی۔ 1971ء میں دبئی متحدہ عرب امارات میں شامل ہو گیا،جس کے بعد اِس کی ترقی کا باقاعدہ سفر شروع ہوا۔ دبئی جو کبھی صرف ایک صحرائی علاقہ تھا آج ایک جدید ترین ریاست کا روپ دھارچکا ہے۔ اگرچہ دبئی کی تقدیر تیل کی دریافت کے بعد بدلنا شروع ہوئی، لیکن حیرت انگیز طور پر تک دبئی کی 46ارب ڈالر کی معیشت میں تیل اور قدرتی گیس سے حاصل ہونے والی آمدن کا حصّہ تین فیصد سے بھی کم ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دبئی روزانہ دو لاکھ چالیس ہزار بیرل تیل پیدا کرتا ہے، جبکہ دبئی میں پیدا ہونے والی قدرتی گیس سے حاصل ہونے والی آمدن متحدہ عرب امارات کی کُل آمدن کا دو فیصد حصّہ ہے۔

یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب دبئی ایک لق و دق صحرا ہوتا تھا، لیکن گزشتہ تین دہائیوں میں اِس نے جس تیز رفتاری سے ترقی کی ہے اُس کی بدولت آج یہ تجارتی و معاشی سرگرمیوں کا معروف ترین مرکز بن چکا ہے۔دُنیا بھر کے سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کررہے ہیں جبکہ سیاحت کی صنعت ہر گزرتے دن کے ساتھ وسعت اختیار کرتی جارہی ہے کیونکہ سیاحوں کو راغب کرنے کے لئے دبئی کی حکومت ہماری طرح کاغذی نہیں بلکہ عملی اقدامات کررہی ہے۔دبئی میں ایک انٹر نیشنل ہوٹل برج العرب تعمیر کیا گیا ہے جو انجینئرنگ کا شاہکار اور ایک عجوبہ ہے ۔ بلندی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے اِس ہوٹل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سمندر میں قائم کیا گیا ہے اور اس کی دو منزلیں پانی کے اندر ہیں۔ اس کے علاوہ مزید بہت سی ایسی پْرکشش چیزیں ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے ہر سال لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں جس سے دبئی کی معیشت ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مستحکم ہوتی جارہی ہے۔ دبئی اگرچہ رقبے کے لحاظ سے بہت چھوٹی ریاست ہے لیکن زیادہ سے زیادہ جگہ کے حصول کے لئے دبئی کی حکومت جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے سمندر میں مصنوعی جزیرے قائم کررہی ہے۔دبئی کا سیون سٹار ہوٹل برج العرب بھی اِسی ٹیکنالوجی کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔ دبئی کی ترقی میں قانون کے انتہائی سخت اور یکساں نفاذ نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہاں قانون پر اس قدر سختی سے عمل درآمد کروایا جاتا ہے کہ چھوٹا بڑاکمزور یا طاقتور کوئی بھی قانون توڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ وہاں ہماری طرح سرخ سگنل کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرتا، چوریاں اور ڈاکے روز مرّہ کا معمول نہیں، قبضہ گروپ سرگرمِ عمل نہیں ، کوئی جرم کرنے کی جرات نہیں کرتا کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ جرم کی معافی کسی کو نہیں ۔اس وقت دبئی کو سیاحت کی صنعت اور بندرگاہ جبل علی کی وجہ سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 70ء کی دہائی میں تعمیر ہونے والی اِس بندر گاہ میں انسانی ہاتھوں سے بنا ہوا دنیا کا سب سے بڑا ہاربر موجود ہے۔ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سنٹر کے قیام کے بعد دبئی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فنانس کے شعبوں کو بھی بہت فروغ حاصل ہوا۔ دبئی کی حکومت نے شہر میں جگہ جگہ صنعتوں کی مطابقت سے فری زون قائم کررکھے ہیں۔ ہمارے ہاں کارپٹ سٹی اور کاٹیج سٹی کو صرف اعلان کی حد تک محدود رکھنے والے پالیسی میکرز کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ دبئی جس کا رقبہ پاکستان کی نسبت کئی گنا کم ہے اُس نے انٹرنیٹ سٹی اور میڈیا سٹی قائم رکھے ہیں جو دبئی ٹیکنالوجی، الیکٹرانک کامرس اور میڈیا فری زون اتھارٹی کا ایک حصّہ ہے۔ یہاں یہ ہوشربا انکشاف بھی کرتے چلیں کہ ای ایم سی کارپوریشن، اوریکل کارپوریشن، مائیکروسافٹ اور آئی بی ایم جیسی شہرہ آفاق کمپنیاں اِس کی ممبر ہیں۔ دبئی میں بلیک میلنگ یا کر پشن کرکے اپنی جیبیں بھرنے کا کوئی تصورنہیں ہے۔ چند سال قبل دبئی میں ٹیکسی ڈرائیورز نے سینہ زوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں سے من مانے کرائے وصول کرنے شروع کردئیے۔ دبئی کی حکومت نے فوری طور پر چھ ہزار سرکاری ٹیکسی چلانے کا حکم دے دیااور یہ فیصلہ کیا کہ تنخواہ کے علاوہ ڈرائیور کو آمدن کا پینتیس فیصد حصّہ بھی دیا جائے گا۔ دبئی میں ایک ڈرائیور روزانہ اوسطاً چار سو کلومیٹر ٹیکسی چلا لیتا ہے جبکہ سرکاری ٹیکسیاں دو شفٹوں میں چلتی تھیں۔ اتنی آمدن ہوئی کہ ایک سال کے اندر اندر حکومت نے اپنی کافی ساری سرمایہ کاری نکال لی اور اب ایک محتاط اندازے کے مطابق دبئی کی حکومت کو صرف ٹیکسی کرایوں کی مد میں ہر سال پندرہ کروڑ ڈالر آمدن ہورہی ہے۔ دبئی کی حکومت نے جبل علی پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کررکھا ہے جس میں سے ڈھائی فیصد مختلف مدات میں خرچ ہوجاتے ہیں جبکہ ڈھائی فیصد حکومت کی بچت ہوتی ہے۔ دبئی میں ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کے پیشِ نظر یہ اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں ہے کہ حکومت کو اِس مد میں کیا آمدن ہورہی ہوگی۔ بطور ریاست دبئی ترقی کے حوالے سے مسلمان ممالک کے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ہمیں آٹے دالوں اور پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کرنے سے فرصت ملے تو ہم کسی ملک کی ترقی کے اسباب کا جائزہ لینے کے بارے میں سوچیں۔

لفظ بدّو اور بدھو ملتے جلتے ہیں۔ ہمارے ہاں بدھو کی اصطلاع بیوقوف اورکم عقل شخص کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ دبئی،ملائشیا، بھارت ، بنگلہ دیش اور سنگاپور کی بے مثال ترقی کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اب یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ ہم بدّھو ہیں کیونکہ گذشتہ 70 سالوں سے ہم نے کسی سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔ دوسری جنگِ عظیم میں تباہی و بربادی کے باوجود جاپان کی بے مثال ترقی ہماری سوچ و عقل کا کچھ نہیں بگاڑ سکی، دبئی کے بدّوؤں کی بے مثال ترقی بھی ہماری توجہ حاصل نہیں کرسکی، سنگاپور کی انتہائی تیز رفتار ترقی بھی ہماری آنکھیں نہیں کھول سکی، ڈاکٹر مہاتیر محمد کی انتہائی زود اثر پالیسیاں بھی ہماری نظرِ التفات نہیں پاسکیں کیونکہ عوام بے حس اور حکمران اپنی جیبیں بھرتے ہوئے پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان کو توانائی کے بدترین بحران کا سامنا ہے، صنعتیں بند اور لوگ بے روزگار ہورہے ہیں، ہمارا برآمدی ہدف پورا نہیں ہوپارہا ،ہر سال ملک کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے لیکن کوئی پرواہ نہیں۔ بس وہی اعلانات کہ جلد ہی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائیں گے مگرکب تک یہ کوئی نہیں بتاتا۔ پیداواری لاگت میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے صنعت بند ہورہی ہے، بین الاقوامی خریدار دیگر ممالک کا رْخ کررہے ہیں، ملک توانائی کے بدترین بحران سے دوچار ہے جس کی وجہ سے صنعت کی پیداوار کم اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔ عوام لوڈ شیڈنگ اور بے پناہ مہنگائی کا عذاب جھیل رہی ہے مہنگی اعلیٰ تعلیم مخصوص طبقے تک مخصوص ہے۔ جاپان، جرمنی اور امریکہ میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کی تفصیلات کے متعلق باقاعدہ کتابیں بنی ہوئی ہیں جبکہ ہم اپنے ہاں موجود سرکاری تعلیمی اداروں کی لسٹ مرتب کرنے بیٹھیں تو شاید چند صفحات بھی نہ بنیں، طاقتور کمزور کو پیروں تلے روند رہا ہے، ٹیکسٹائل کی عالمی منڈی میں بنگلہ دیش نے ہماری جگہ پر قبضہ کرلیابین الاقوامی خریدار بنگلہ دیش ، بھارت اور چین سے ٹیکسٹائل مصنوعات خریدرہے ہیں۔

نو منتخب عوامی حکومت نے اقتدار میں آ کر اگر ترقی صرف تصورات کی حد تک محدود رکھنی ہے اورعوام کو بے و قوف بناکر دل کو تسلی دینی ہے پھر تو جیسے چل رہا ہے ویسے ہی ٹھیک ہے لیکن اگر واقعی ہی تحر یک انصاف کی قیادت نے عوام سے کیے ہوئے وعدے پورے کر نے ہیں ،ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے ،صنعتی و تجارتی شعبے کو ترقی دینا اور عوام کو خوشحال کرنا ہے تو پھر دوسروں کی ترقی کی وجوہات کا جائزہ لے کر خود بھی ویسے ہی اقدامات کرنے ہو نگے جس سے ملک میں حقیقی تبدیلی آئے۔ واضح رہے کہ ملک کی ترقی کی غرض سے سب سے بنیادی چیز صنعتی شعبے کی ترقی ہے۔ بے شمار صنعتی یونٹس کی بندش آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ صنعتی یونٹس کی بندش ایسے المیوں کو بھی جنم دے رہی ہے جو عام نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ ایک باقاعدہ سروے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے کہ لاہور میں جتنے صنعتی یونٹس بند ہوئے تقریباً اُن تمام کے ساتھ سکول یا ہسپتال کی صورت میں کوئی نہ کوئی رفاہی و فلاحی منصوبہ بھی چل رہا تھا۔ سکولوں میں غریب لوگوں کے بچوں کو تعلیم بالکل مفت دی جارہی تھی جبکہ سپتالوں میں غریب و نادار افراد افراد کا علاج بالکل مفت کیا جارہا تھا۔ صنعتی یونٹس کی بندش کے ساتھ ہی یہ فلاحی منصوبے بھی ختم ہوگئے اور بے شماربچے تعلیم اور لاتعداد لوگ علاج و معالجے کی سہولیات سے محروم ہوگئے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2