نئی حکومت ،پرانی توقعات

نئی حکومت ،پرانی توقعات

بزنس ایڈیشن

3اگست 2018

الیکشن 2018کے نتیجے میں ملک میں نئی حکومت کا قیام عمل میں آنے والا ہے ، غالب امکان ہے کہ پاکستان تحریک انصاف مرکز، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بآسانی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اس حکومت کے قیام کے ساتھ ہی سب سے بڑا چیلنج معاشی چیلنج ہوگا جس سے پاکستان تحریک انصاف اپنے ممکنہ وزیر خزانہ اسد عمر کی قیادت میں نبردآزما ہوتی نظر آئے گی۔

اب تک کی صورت حال سے لگتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ایم ایف سے رجوع کرے گی تاکہ غیر ملکی ادائیگیوں کا سامان کیا جا سکے۔ سابق حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اس نے آئی ایم ایف سے قرضوں کا کشکول توڑ دیا ہے اور اب پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ اعلان خوش آئند تھا اور بلاشبہ پہلے سعودی عرب کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تحفہ اور بعد میں چین کی جانب سے چائناپاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک ) کی شکل میں لگ بھگ ساٹھ ارب ڈالر کی ترسیل سے پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر کی ریل پیل ہو گئی تھی۔ ایک طرف تو اس سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مستحکم ہوا تو دوسری جانب سی پیک کے تحت پاکستان کے اندر انفراسٹرکچر کی تعمیر کا ایک بہت بڑا سلسلہ شروع ہو گیا۔ خاص طور پر سی پیک کے تحت انرجی کے پراجیکٹس کے لئے ملنے والے 36ارب ڈالر نے تو جادو کر دکھایا اور گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان میں لگ بھگ 11000میگاواٹ بجلی سسٹم میں داخل ہوئی۔

اب جب کہ پاکستان میں عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے جا رہی ہے تو خیال کیا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت بھی سابق حکومت کی طرح معیشت کی بہتری کو مقدم جانے گی اور حسب سابق پاکستان میں ترقی کا سفر رکنے نہیں دے گی۔ شنید ہے کہ عمران خان کی قیادت میں بزنس کمیونٹی کے چیدہ چیدہ افراد کی شکل میں ایک ایڈوائزری کمیٹی بنائی جا رہی ہے جو مختلف صنعتی شعبوں کے فروغ اور ان کے مسائل کے حل کے لئے ٹھوس تجاویز دے گی جن کو قابل عمل بنا کر پاکستان کی معیشت کو دوبارہ سے ڈگر پر ڈالا جائے گا۔ اس ضمن میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کی قیادت بہت زیادہ سرگرم ہے ۔ انتخابات سے قبل ہی اپٹما نے عمران خان اور اسد عمر کو مدعو کیا تھا اور انہیں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل سے بھرپور آگاہی دی تھی۔ وہیں پر یہ آئیڈیا بھی زیر بحث آیا تھا کہ پاکستان کومعاشی بحران سے نکالنے کے لئے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اس کا سہار ا بنانے کے لئے ضروری ہے کہ عمران خان کی سربراہی میں ایک ایڈوائزری بورڈ بنایا جائے جس میں ماہرین معیشت موجود ہوں جو حکومت کو کارآمد تجاویز سے مزین کریں۔ اس ضمن میں سنگاپور ، انڈونیشیا اور ملائشیاکی مثالیں دی جاتی ہیں کہ کس طرح وہاں پر مہاتیر محمد سمیت دیگر رہنماؤں نے معیشت کو چلانے کیلئے بزنس کمیونٹی کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھایا اور فقید المثال ترقی کرتے چلے گئے۔ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں آئندہ آنے والے چند ایک مہینوں میں بزنس کمیونٹی کا کردار بہت فعال نظر آئے گا اور حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کامیاب کاروباری افراد کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کے اندر نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کریں اور پاکستان کے نوجوانوں کے لئے نوکریوں کا اہتمام کریں۔

اگر دیکھاجائے تو اس سے قبل اسد عمر ایک ایسا ہی تجربہ پاکستان بزنس کونسل کی شکل میں کر چکے ہیں جس میں تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے بزنس مینوں کو ممبر بنایا جاتا تھا اور اس کونسل نے ہر صنعتی شعبے کو آگے بڑھانے کے لئے ٹھوس تجاویز پر مشتمل ورکنگ پیپر تیار کئے تھے جنھیں عمران خان 2013کے انتخابات سے قبل میڈیا کو سکرینوں پر سمجھاتے نظر آیا کرتے تھے۔ اس مرتبہ بھی جب پاکستان تحریک انصاف نے اپنا سو دن کا منصوبہ اور اس سے قبل پارٹی منشور پیش کیا تھا تو انہیں ورکنگ پیپرز کا سہار ا لیا تھا اور ایک وژن پیش کیا تھا جو کئی اعتبار سے قابل عمل دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے پاکستان کے بہترین دماغوں کی عرق ریزی موجود تھی۔ تاہم کاروباری حلقے بتا رہے ہیں کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ آئندہ سیٹ اپ میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بڑوں کی بہت اہمیت رہے گی کیونکہ شنید ہے کہ ٹیکسٹائل مل مالکان نے تحریک انصاف کی انتخابی مہم کے دوران بے تحاشا فنڈ مہیا کئے تھے۔ اس کے علاوہ ٹیکسٹائل انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے نئے پڑھے لکھے بچے اور بچیاں بھی عمران خان کے دلدادہ تھے اور انہوں نے بھی اپنے بزرگوں کو اس پارٹی کو سپورٹ کرنے پر قائل کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امیر خاندانوں کے یہ چشم و چراغ تو پارٹی کے اندر بہت سے اہم امور سرانجام دیتے بھی نظر آتے ہیں چنانچہ پی ٹی آئی کی حکومت بن جانے کے بعد ان کا کردار مزید بڑھتا دکھائی دیتا ہے ۔

بعض معاشی ماہرین کا خدشہ ہے کہ اگرصنعتی برادری نے عمران خان کے اردگرد گھیرا ڈال لیا تو وہ یقینی طور پر اپنی صنعتوں کیلئے تو بہت کچھ لے لیں گے لیکن جہاں تک عام آدمی کا تعلق ہے تو اسے مشکلات کا سامنا رہے گا کیونکہ اس نئے سیٹ اپ میں اس کی موجودگی کے امکانات معدوم ہیں۔ اس ضمن میں یہ معاشی حلقے جنرل مشرف کے دور کی مثال دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جنرل مشرف نے بھی معروف بزنس مینوں کی ایک ایسی ہی کچن کیبنٹ بنالی تھی جو ایک طرف تو جنرل پرویز مشرف کو معیشت کو بڑھاوا دینے کے لئے مختلف صنعتوں کے لئے ترغیبات کے اعلان کا مشورہ دیتے تھے اور دوسری جانب ان صنعتوں سے تعلق رکھنے کے سبب پالیسی کے اعلان سے قبل اپنے کاروباری فیصلوں میں ان کے مطابق ردوبدل لے آتے تھے۔ ماہرین معیشت کا خیال ہے کہ اگر عمران خان نے بھی صنعتی برادری کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی تو اس سے چند گھرانے تو فائدہ اٹھاسکتے ہیں لیکن ملک کا عام آدمی لٹ پٹ جائے گا۔

دوسری جانب صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک وہ فیلڈ مارشل ایوب خان اور جنرل مشرف کی طرح بائیس خاندانوں کو نہیں بناتے۔ یہ بائیس خاندان ہی ملک میں صنعتیں لگا کر نوکریاں پیدا کر سکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ اسد عمر نے اس ضمن میں معروف ٹی وی اینکر کامران خان کے پروگرام میں اشارہ بھی دیا ہے کہ اگر عمران خان نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عمران خان نوجوانوں میں سرکاری نوکریاں تقسیم کر رہے ہوں گے ۔ اس کے برعکس پرائیویٹ سیکٹر کو فروغ دیا جائے گا جو صنعتیں لگا کر نوکریاں پیدا کرے گا۔

تاہم اس ضمن میں سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی مثال سامنے رکھی جا سکتی ہے جنھوں نے صنعتی برادری کو پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کے لئے بہت سی ترغیبات کا اعلان کیا لیکن مختلف صنعتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا خیال تھا کہ وہ کیونکر پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری جب انہیں اس شعبے کا خاطر خواہ تجربہ ہی نہیں ہے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ صنعتی برادری کی سب سے بڑی ترجیح اپنے اپنے صنعتی شعبوں کے لئے زیادہ سے زیادہ مراعات کو یقینی بنانا ہوتا ہے ۔ امپورٹ ایکسپورٹ کی سٹیج پر ایسی چھوٹ کو یقینی بنانا ہوتا ہے جس سے ان کو زیادہ سے زیادہ کاروباری فائدہ پہنچ سکے۔ اس کے علاوہ اور کئی طرح کی ٹیکس چھوٹ اور بجلی کے بلوں میں مراعات کی خواہش ہر وقت انڈسٹری میں موجود رہتی ہے ۔ سابق حکومت نے اس حوالے سے صنعتی شعبے کوغیرضروری لفٹ نہیں کرائی تھی اوراس کے برعکس اس کا سارا زوراس بات پرتھاکہ سی پیک کے تحت زیادہ سے زیادہ انفراسٹرکچر کے پراجیکٹس لگائیں جس سے عام آدمی کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔چنانچہ نئی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ کس طرح اپنے آپ کومختلف صنعتی شعبو ں کے مفاد پرست عناصرکی خوردبرد سے اپنے آپ کومحفوظ رکھے گی۔

دوسرا بڑا چیلنج ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کوپوراکرناہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ہر سال بجلی کی کھپت میں دس فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سی پیک کے بعد ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری تبھی ہو سکتی ہے اگر حکومت ملک میں اضافی بجلی کی دستیابی کو یقینی بنا سکے۔ دیکھنا یہ ہے کہ چین کی حکومت سی پیک کے تحت کس طرح سے دست تعاون بڑھاتی ہے اور کتنی تیزی کے ساتھ بجلی کے منصوبے مکمل کرتی ہے ۔ خاص طورپر اگر متحدہ اپوزیشن نے سڑکوں پر آنے کا پروگرام بنالیا تو حکومت کے لئے صورت حال مزید دگرگوں ہو سکتی ہے جس سے عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت میں آنے والے لوگ کس حد تک ڈیلیوری کے قائل ہیں ۔ عمران خان اور اسد عمر سمیت کوئی بھی آزمایا ہوا نہیں ہے ، حتیٰ کہ چودھری سرور بھی اس حوالے سے نوآموز ہیں کیونکہ ان کی ساری کامیابی ملک سے باہر کی ہے اوراندرون ملک صنعتی ترقی کے ضمن میں ماسوائے اسد عمر کے کسی کو بھی پریکٹیکل تجربہ نہیں ہے۔ چنانچہ ہو سکتا ہے کہ نئے وزارت تجارت و صنعت کو معاملات سمجھنے میں دیر لگے جس سے دگرگوں معاشی حالت مزید ابتری کا شکار ہو سکتی ہے۔

تاہم یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ عوام کی بڑی تعداد نے نون لیگ کے مقابلے میں تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے اور عوام چاہتے ہیں کہ عمران خان ملک سے کرپشن کا بھی خاتمہ کریں ۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ملک میں مار دھاڑ کا پروگرام اسی طرح سے جاری رہے گا جس سے نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی سرمایہ کار بھی خود کو غیر محفوظ تصور کرے گا ۔ لیکن اگر عمران خان ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے بلاتفریق احتساب کا عمل شروع نہیں کرتے تو اپوزیشن انہیں ایک دن آرام سے نہیں بیٹھنے دے گی اور یوں صورت حال دگرگوں نظر آئے گی۔

یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ نئی حکومت کی اعلیٰ قیادت ان چیلنجوں سے کس طرح نپٹتی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ عوام کو نئی حکومت سے بہت سی توقعات ہیں مگر فرق یہ ہے کہ پاکستان کے عام آدمی کو نئی توقعات ہیں جبکہ کاروباری برادری کو پرانی توقعات ہیں۔ ان پرانی توقعات میں سے اکثر مفادات و ترغیبات پر مشتمل ہیں ۔ اس لئے جونہی پاکستان تحریک انصاف اس ضمن میں فراخدلی کا ثبوت دے گی فوراً ہی دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سے صوبوں کے پاس بہت سے اختیارات چلے گئے ہیں اس لئے صوبائی سطح پر توانائی سے متعلق ایشوز کو حل کرنے کے لئے حکومت کو صوبوں سے مذاکرات کرنا ہوں گے، خاص طور پر اگر سندھ حکومت نے اس ضمن میں دست تعاون دراز نہ کیا تو مرکزی حکومت کے لئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر چین نے بھرپور تعاون بڑھایا اور ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی سعودی عرب پاکستان کی مدد کے لئے آگے بڑھا تو یہی چیلنجز حکومت کے لئے بہترین مواقع میں بدل سکتے ہیں۔

سرخیاں

چین اور سعودی عرب پاکستان نے تعاون کیا تو چیلنجز بہترین مواقع میں بدل سکتے ہیں

ملک میں ہر سال بجلی کی کھپت میں دس فیصد اضافہ ہوجاتا ہے

جنرل مشرف نے بھی معروف بزنس مینوں کی ایک کچن کیبنٹ بنائی تھی

تصاویر

عمران خان

اسد عمر

شہباز شریف

جنرل مشرف

صنعتیں

بجلی کے منصوبے

مزید : ایڈیشن 2