گلگت بلتستان ، داریل میں دہشتگردوں کی سیشن جج پر فائرنگ، پولیس آپریشن میں 2شرپسند ہلاک ،1اہلکار شہید

گلگت بلتستان ، داریل میں دہشتگردوں کی سیشن جج پر فائرنگ، پولیس آپریشن میں ...

چلاس(مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں)گلگت بلتستان کے علاقے داریل میں شرپسندوں نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس میں جج اور ان کے اہلخانہ محفوظ رہے۔ مقامی عدالت کے سیشن جج ملک عنایت اپنے اہلخانہ کے ہمراہ کار میں سوار تھے پہلے سے گھات لگائے ملزمان نے ان کی گاڑی پر دونوں طرف سے فائرنگ کردی۔پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج ملک عنایت اور ان کے اہلخانہ محفوظ رہے۔پولیس کا کہناہے سیشن جج گزشتہ روز فائرنگ سے شہید ہونے والے پولیس اہلکار کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور ملزمان کی گرفتاری کیلئے سرچ آپریشن شروع کردیا۔واضح رہے گزشتہ روز دیامر میں شرپسندوں نے لڑکیوں کے سکولوں کو نذر آتش کیا تھا جس پر پولیس نے علاقے میں آپریشن کیا جس میں دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس شہید ہوا جبکہ ایک دہشت گرد بھی مارا گیا۔گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں سکول نذرآتش کرنے والے دہشتگردوں کیخلاف اتوار کے روز بھی آپریشن جاری رہا جس میں میں ایک اور پولیس اہلکار شہید ہوگیا ٗ کارروائی میں دو دہشت گرد بھی مارے گئے، جبکہ دو کو گرفتار کرلیا گیا۔گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان کے مطابق ایک ہلاک دہشتگرد کی شناخت شفیق کے نام سے ہوئی ہے، جو علاقے میں کمانڈر شفیق کے نام سے مشہور تھا۔ تانگیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے خودکش جیکٹ، دستی بم اور بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ادھر چلاس میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کا آپریشن میں اب تک 31 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ پولیس آپریشن پر دہشت گردوں کے ہمدرد مقامی شرپسند مشتعل ہوگئے ہیں اور تھانے پر دھاوا بول دیا ٗدو طرفہ فائرنگ کے بعد پولیس تھانے کا محاصرہ ختم کرانے میں کامیاب ہوگئی ہے ٗشرپسندوں نے تانگیر دیامر میں رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑکیں بند کردیں اور مورچے سنبھال لئے ہیں جس کے نتیجے میں ایک طرح کی جنگی صورت حال پیدا ہوگئی ہے اور حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ۔گلگت بلتستان پولیس ذرائع کے مطابق تازہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے افغانستان سے تربیت یافتہ ہونے کا بھی انکشاف سامنے آیا ہے۔پولیس کے مطابق تعلیم کے خلاف دہشتگردی کی تحقیقات کی نگرانی کیلئے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی دیامر گوہر نفیس کمیٹی کے چیئرمین ہیں جبکہ ممبران میں ڈی آئی جی کرائم برانچ فرمان علی، ایس پی ڈیامر، اے آئی جی سی ٹی ڈی اور اے ایس پی چلاس شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کا کیمپ آفس دیامر میں قائم کردیا گیا ہے۔ کمیٹی کو ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر، اے آئی جی آپریشن اور اے آئی جی لاجسٹک جی بی پولیس یہ بھی معاونت حاصل ہوگی۔کمیٹی 14 اسکول جلائے جانے کے واقعات کی تحقیقات کی نگرانی کے دوران واقعات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا کیلئے اقدامات کرے گی۔ ان واقعات میں تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ بھی آئی جی گلگت بلتستان کو پیش کرے گی۔یاد رہے کہ جمعہ 3 اگست کو چلاس کے علاقے داریل اور تنگی میں دہشت گردوں نے 12 تعلیمی اداروں پر حملہ کر کے انہیں آگ لگادی تھی اور بارودی مواد سے تباہ کردیا تھا۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی تھی ۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ڈیم بنانے کی بات تو سازشیں شروع ہوگئیں، لیکن عوام ڈیم کے خلاف ہر سازش کو کچل دیں۔گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو دیامر بھاشا ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم دیا ہے اور اس مقصد کے لیے خصوصی فنڈ بھی قائم کیا ہے جس میں ملک بھر سے عطیات موصول ہورہے ہیں۔ متعدد بینکوں نے عطیات وصول کرنے کے لیے خصوصی اکاؤنٹس بھی کھولے ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق مقامی آبادی کی جانب سے اس ڈیم کی تعمیر کے خلاف مزاحمت کا سامنا ہے اور ڈیم بننے کے نتیجے میں ممکنہ طور پر بے گھر ہونے والی افراد کی آباد کاری کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔بھاشا ڈیم کا منصوبہ 2006 میں پیش کیا گیا اور 2011 میں اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا تاہم فنڈز کی کمی اور دیگر مشکلات کے باعث اس منصوبے کو اب تک عملی جامہ نہ پہنایا جاسکا۔

جج حملہ

مزید : صفحہ اول