مسلم لیگ ن کا 74حلقوں میں دھاندلی کے ثبوت اکٹھے کرنے کا دعوی ، معاملہ عدالت لے جانے کیلئے کمیٹی قائم

مسلم لیگ ن کا 74حلقوں میں دھاندلی کے ثبوت اکٹھے کرنے کا دعوی ، معاملہ عدالت لے ...

لاہور (جنرل رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، صباح نیوز) مسلم لیگ ن نے جنرل الیکشن 2018 کے دوران 74 حلقوں میں دھاندلی کے ثبوت اکٹھے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیگی رہنما زاہد حامد کی سربراہی میں قانونی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جس کے بعد آج لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر کیے جانے کا امکان ہے۔ن لیگ نے وائٹ پیپر جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیاہے جس میں 74 حلقوں میں دھاندلی کے حوالے سے ثبوت پیش کئے جائیں گے۔ ن لیگ نے الیکشن 2018 کے حوالے سے دھاندلی کے الزامات لگائے تھے جس کا پیپلزپارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں نے بھی اظہار کیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے تو چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ ایم کیو ایم نے کراچی میں مظاہرہ کر کے نتائج کے حوالیسے اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق جن حلقوں میں دھاندلی کے ثبوت ملے ہیں ان میں جنوبی پنجاب،سینٹرل پنجاب، اپر پنجاب اور سندھ کے کچھ حلقے شامل ہیں این اے 131 لاہور سمیت لاہور کے دیگر حلقوں کے حوالے سے بھی دھاندلی کے ثبوت ملے ہیں یہ ثبوت لاہور ہائی کورٹ کو آج (پیر ) کو دیئے جائیں گے عدالت کو ثبوتوں کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔دوسری طرفاتحادی جماعتوں کے وسیع تر اتحاد نے انتخابات میں دھاندلی کا نشانہ بننے والے قومی وصوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کو ہر صورت 8اگست بدھ کو اسلام آباد پہنچنے کی باقاعدہ ہدایت کر دی اتحادی قائدین نے پلان آف ایکشن سے متعلق 16رکنی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دیدی ہے ۔ڈویژنل اور ضلعی تنظیموں کو فوری طور پر انتخابی امیدواروں کو 8اگست کے دھرنے سے آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی گئی ۔دینی جماعتوں نے احتجاجی حکمت عملی پر اپنی صوبائی مجلس شوری کو اعتماد لینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) ، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر قوم پرست جماعتوں پر مشتمل ہم خیال کے جماعتوں کے وسیع تر اتحاد کے قائدین نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی انتخابی احتجاجی حکمت عملی کے بارے میں سفارشات کی منظوری دے دی یہ سفارشات اتحاد کے اہم رہنما مشاہد حسین سید کی طرف سے بھجوائی گئی تھیں اور انہوں نے کمیٹی کے منٹس تیار کیے تھے ۔

پلان آف ایکشن

اسلام اباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) ن لیگ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی بھی دھاندلی والے حلقوں میں ثبوت اکٹھے کرے اور عدالتی کارروائی کی طرف بڑھے کیونکہ خواجہ سعد رفیق کے حلقے کی تحقیقات میں عمران خان پھنس گئے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے وفود کی غیر رسمی ملاقات ہوئی جس میں ن لیگ کی جانب سے پارٹی صدر شہباز شریف، خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی جبکہ پیپلز پارٹی کے وفد میں خورشید احمد شاہ اور راجا پرویز اشرف شریک ہوئے۔مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے وفود کے درمیان ملاقات سپیکر ہاؤس میں ہوئی جس میں وزیرِاعظم، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں پر الیکشن کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں سابق وزیرِ قانون زاہد حامد کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی اور ٹاسک پر مشاورت کی گئی۔شہباز شریف اور خواجہ آصف نے اجلاس کو ا74حلقوں سے جمع کئے گئے ثبوتوں کی روشنی میں عدالت جانے کی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ لیگی قائدین کا کہنا تھا کہ پی پی پی بھی دھاندلی والے حلقوں میں ثبوت اکھٹے کرے اور عدالتی کارروائی کی طرف بڑھے کیونکہ خواجہ سعد رفیق کے حلقے کی تحقیقات میں عمران خان پھنس گئے ہیں۔

ملاقات

مزید : صفحہ اول