وزارت عظمی کا میچ شروع

وزارت عظمی کا میچ شروع

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)تحریک انصاف نے عمران خان کو وزیراعظم کا باضابطہ امیدوار نامزد کرنے کیلئے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج طلب کر لیا ۔امتحدہ اپوزیشن پہلے ہی سابق وزیراعلی پنجاب اور صدر مسلم لیگ( ن) شہباز شریف کو وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر نامزد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے ۔ سپیکر کیلئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کے نام پر اتفاق ہو چکا ہے ، عام انتخابات میں واضح اکثریت کے بعد تحریک انصاف وفاق میں حکومت سازی کیلئے مصروف ہے اور اس سلسلے میں اسے آزاد امیدواروں سمیت ایم کیوایم اور (ق) لیگ کی حمایت بھی مل چکی ہے۔ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری کے مطابق پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل بنی گالہ میں طلب کیا گیا ہے جس میں تمام منتخب ارکان کو شرکت یقینی بنانے کی ہدایت گئی ہے۔فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کل کے اجلاس میں عمران خان کو وزیراعظم کا باضا بطہ امیدوار نامزد کیا جائے گا۔ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 125 ہوگئی ہے جبکہ وزیراعظم کیلئے اتحادیوں، خوا تین اور اقلیتوں کیساتھ تحریک انصاف کا نمبر 174 تک جا پہنچا ہے جو اپوزیشن سے زیادہ ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کی حمایت کے بعد نمبر گیم 177 تک پہنچ جائے گا۔دریں اثنا اپوزیشن جماعتوں اور ان کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی آج ہوگا جس میں اپوزیشن کی طرف سے شہباز شریف کو وزیر اعظم کا امیدوار اور خورشید شاہ سپیکر وقومی اسمبلی کیلئے نامزد کیا جائے گا۔دوسری جانب تحریک انصاف نے حکومت سازی سے متعلق اہم فیصلے کرلیے ہیں جس کے تحت ممکنہ وزیراعظم عمران خان کی وفاقی کابینہ مختصر ہوگی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت سازی کے بعد پہلے مرحلے میں 15 سے 20 وزراء پر مشتمل کابینہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے عمران خان کی وفاقی کابینہ میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کا بھی ایک وزیر ہوگا اور بعد میں ایم کیو ایم سے ایک مشیر لیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کو وزارت پورٹ اینڈ شپنگ اور وزارت محنت و افرادی قوت دینے پر غور کیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں اسپیکر ہوں گے تاہم مرکز میں مسلم لیگ (ق) کو کوئی وزارت نہیں ملے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ میں بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کی نمائندگی ہوگی اور زیادہ تعداد ارکان قومی اسمبلی کی ہوگی جب کہ اتحادیوں کو بھی اہم وزارتیں ملنے کا امکان ہے۔دریں اثناپاکستان تحریک انصاف نے حکومت سازی کے لیے پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ وزرات اعلٰی کے ساتھ ساتھ گورنر پنجاب بننے کی بھی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے دوڑ ہورہی ہے اور دونوں جماعتوں کی جانب سے حکومت بنانے کے لیے آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے دعویٰ کیے جارہے ہیں۔پنجاب میں حکومت سازی کے لیے تحریک انصاف نے 186 ارکان کی حمایت کے ساتھ اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے پی ٹی آئی کے کئی رہنما بھی سرگرم ہوگئے ہیں جن میں علیم خان، فوادچوہدری، سبطین خان، یاسمین راشد، میاں اسلم اقبال اور یاسر ہمایوں کے نام شامل ہیں اس حوالے سے پارٹی چیئرمین عمران خان نے حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور اس کا اعلان آج متوقع ہے ۔دوسری جانب گورنر پنجاب کے لیے بھی اسحاق خاکوانی، بابر اعوان، رائے عزیز اللہ اور اعجاز چوہدری کے نام سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین گورنر پنجاب کے منصب پر اسحاق خاکوانی کو لانے کے خواہاں ہیں جب کہ رائے عزیز اللہ پارٹی چیئرمین عمران خان کے بااعتماد ساتھی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اعجاز چوہدری بھی پارٹی کے لیے خدمات کے باعث گورنر پنجاب بننے کی دوڑ میں شامل ہوئے ہیں جب کہ بابر اعوان کو اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کے لیے گورنر تعینات کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔بلوچستان میں مخلوط حکومت کا فارمولا طے پاگیا ہے۔بلوچستان کابینہ 15ارکان پرمشتمل ہوگی، کابینہ میں 12 وزیر 3مشیرشامل کیے جائیں گے، بی اے پی کو 5 پی ٹی آئی کو 2 وزارتیں دی جائیں گی جب کہ ذرائع کے مطابق اے این پی ، بی این پی عوامی وار ایچ ڈی پی کو ایک ایک وزارت ملے گی،2 وزارتیں بی اے پی میں شامل آزاد ارکان کو ملیں گی، تین مشیروں کافیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق میں بی اے پی کوایک وزارت ملنے کا امکان ہے، بلوچستان عوامی پارٹی مرکزمیں پی ٹی ا?ئی کی حمایت کرے گی جبکہ پی ٹی ا?ئی بلوچستان میں بی اے پی کی حمایت کرے گی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ مشترکہ طور پر مرکز میں وزیرِاعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی کے امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم وہ پی پی پی کو پنجاب میں حکومت کے قیام کے لیے ساتھ ملانے میں ناکام رہی۔ سابق وزیرِاعظم اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید یوسف رضا گیلانی نیبتایا کہ ان کی جماعت کی مسلم لیگ (ن) سے بات چیت جاری ہے تاہم پھر بھی پارٹی قیادت نے اصولی طور پر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پی پی پی نے دیگر جماعتوں کو پارلیمنٹ میں جانے پر راغب کیا کیونکہ ہم حکومت بنانے کے خواہش مند نہیں، تاہم ہمارا بنیادی ہدف یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں شفافیت پر تحفظات کے باوجود ہم جمہوریت کو کمزور نہیں کرنا چا ہتے دوسری طرف پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گورنر سندھ کیلئے عمران اسماعیل کا نام فائنل کر لیا ہے۔گورنر سندھ کے عہدے کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی)نے بڑا فیصلہ اٹھاتے ہوئے عمران اسماعیل کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، پی ٹی آ ئی رہ نما خرم شیر زمان نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے گورنر سندھ کے لیے عمران اسماعیل کا نام حتمی کر لیا ہے۔ خیال رہے کہ عام انتخابات میں تحریکِ انصاف کی کامیابی کے بعد گورنر سندھ محمد زبیر نے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔یاد رہے کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت نے فیصلہ کیا تھا کہ حکومت سنبھالتے ہی سندھ ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز کی حیثیت سے کام کرنے والے مسلم لیگ (ن)کے رہنماں کو ہٹا دیا جائے گا۔پنجاب میں اس وقت رفیق رجوانہ اور خیبر پختونخوا میں اقبال ظفر جھگڑا صوبائی گورنر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دے رہے ہیں، ان دونوں رہنماں کا تعلق پاکستان مسلم لیگ(ن)سے ہے۔

حکومت سازی

مزید : صفحہ اول