پی ٹی آئی سے معاہدہ کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، وسیم اختر

پی ٹی آئی سے معاہدہ کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، وسیم اختر

کرا چی (آ ئی این پی)میئرکراچی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم )کے رہنما وسیم اختر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے پاس پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)سے معاہدے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ عوام مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی کو آزما چکے ۔اتوار کو کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی )میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے جو صوبائی آمدنی 95 فیصد اور ملکی آمدن میں 65 حصہ دار ہے، دو بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومتیں اس شہر کے مسائل کوحل کرنے میں ناکام رہیں۔انہوں نے کہا کہ شہر کے مسائل ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا ادارے نے شہریوں کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔تاہم انہوں نے 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے نتائج پر ہمارے تحفظات قائم ہیں، ہم قومی اسمبلی کے 8 اور صوبائی اسمبلی کے 16 حلقوں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروانا چاہتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی اس طریقے سے کی گئی ہے کہ بہت مشکل ہے کہ اس معاملے پر کوئی کمیشن یا کمیٹی بنائی جائے کیونکہ شہر کے مختلف اسکولوں اور کچرے کے ڈھیر سے بیلٹ پیپرز برآمد ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک پری پول دھاندلی تھی اور ہم نے دھادندلی کے خلاف صوبائی الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج بھی کیا تھا۔۔وسیم اختر نے کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ کچھ معاملات پر ابھی بات نہیں ہوئی ۔

وسیم اختر

مزید : صفحہ آخر