سیاسی جماعتوں کیسا تھ گورنر پنجاب نے بھی انتخابیدھاندلی پر سوالا اٹھادیئے

سیاسی جماعتوں کیسا تھ گورنر پنجاب نے بھی انتخابیدھاندلی پر سوالا اٹھادیئے
سیاسی جماعتوں کیسا تھ گورنر پنجاب نے بھی انتخابیدھاندلی پر سوالا اٹھادیئے

  

تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری

ہما شماتو خیر کس شمار قطار میں ہیں جہاں ایک بڑے صوبے کے گورنر کو بھی یہ شکایت ہے کہ انتخابات میں نہ صرف دھاندلی ہوئی بلکہ ہوتی ہوئی نظر بھی آئی وہاں اگر پولنگ ایجنٹوں کے سامنے گنتی نہیں کی گئی اور انہیں گنتی سے پہلے چلے جانے کا حکم دیا گیا یا اگر کوئی موجود بھی تھا تو گنتی اس انداز میں کی گئی کہ پولنگ ایجنٹ نہ تو یہ دیکھ سکتا تھا کہ جو ووٹ مسترد ہوا ہے وہ کس کا ہے اور کس بنیاد پر مسترد کیا جا رہا ہے نہ گنتی کے عمل میں کسی بے قاعدگی پر اعتراض کر سکتا تھا، کہا گیا ہے کہ پولنگ کے دوران کسی جگہ کسی بے قاعدگی کی شکایت نہیں ملی، درست ہی کہا گیا لیکن اس سلسلے میں گورنر پنجاب رفیق رجوانہ بھی کچھ کہتے ہیں کیا حرج ہے اگر یہ بھی سن لیا جائے، گورنر کے اپنے صاحبزادے آصف رجوانہ ملتان کے ایک حلقے سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ انتخاب سے بہت پہلے ہی آصف کے خلاف یہ پروپیگنڈہ ہو رہا تھا کہ وہ سیاست میں نئے ہیں، سینئر لوگوں کا حق مار کر انہیں ٹکٹ نہ دیا جائے، یہ موروثیت ہے اور آصف رجوانہ کا کوئی میرٹ نہیں بنتا سوائے اس کے کہ وہ گورنر کے صاحبزادے ہیں بہرحال گورنر کا بیٹا ہونا تو کوئی ’’ڈی میرٹ‘‘ نہیں ہے، یہاں نہ جانے کس کس کے بیٹے الیکشن لڑ رہے ہیں اگر گورنر کے بیٹے نے لڑ لیا تو کیا گناہ کیا، مسلم لیگ نے اگر اپنے کسی سینئر سیاست دان کا حق مار کر آصف کو ٹکٹ دیا تو یہ عمل بھی سیاست میں کوئی انوکھی بات نہیں ہے، سیاسی جماعتیں ٹکٹ دیتے وقت بہت سی مصلحتیں پیش نظر رکھتی ہیں، یہاں بھی رکھی گئی ہوں گی اور عین ممکن ہے میرٹ پر ٹکٹ نہ دیا گیا ہو، لیکن گورنر کا بیٹا اگر امیدوار ہے تو کیا اسے یہ حق حاصل نہیں کہ جو لوگ اسے پسند کرتے ہیں وہ اس کے حق میں اپنی آزاد مرضی سے ووٹ دیں؟ انہیں ووٹ تھوڑے ملتے یا زیادہ، وہ ہار جاتے یا جیت جاتے یہ الگ معاملات ہیں کسی کی ہار جیت سے پولنگ سٹاف کا تو کوئی تعلق نہیں ہوتا نہ وہ یہ حق رکھتا ہے کہ وہ کسی ووٹ ڈالنے والے (یا والی) سے یہ پوچھے کہ وہ کس کو ووٹ دے گا یا دے گی اور اگر اسے ایسا جواب ملے جو کسی وجہ سے اسے پسند نہیں تو وہ ایسے ووٹر کے ووٹ ڈالنے کی راہ میں روڑے اٹکائے، تاخیر کرے معمول کے پانچ دس منٹ سے زیادہ ایسے ووٹ ڈالنے میں دو گھنٹے لے لے، لیکن یہ سب کچھ آصف رجوانہ کی اہلیہ کے ساتھ ہوا، گورنر پنجاب کہتے ہیں کہ ان کی بہو ووٹ ڈالنے کے لئے گئیں تو تین بوتھ تھے لیکن پریذائیڈنگ افسر نے ڈبہ اپنے سامنے رکھا ہوا تھا ایک ہی مہر تھی جو انہوں نے خود پکڑی ہوئی تھی پہلے انہیں کئی گھنٹے لائنوں میں کھڑا رکھا اور جب باری آئی تو پوچھا کہ آپ ووٹ کسے دیں گی دوسری خواتین سے بھی یہی پوچھا جا رہا تھا اگر خواتین کہتیں کہ وہ شیر کو ووٹ دیں گی تو اس پر وہ خود انگوٹھا لگوا کر نشان لگاتی تھیں، گورنر پنجاب کہتے ہیں کہ جب ان کی بہو نے اپنا تعارف کرایا تو عملہ ٹھٹھک گیا اور آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ گورنر نے مزید کہا کہ ہمارے اپنے محلے امیر آباد میں پولنگ سٹیشن پر تحریک انصاف کا کیمپ بالکل خالی تھا جبکہ ہمارا کیمپ شام تک بھرا رہا مگر وہاں بھی ہمیں ہروایا گیا ۔ان کا کہنا تھا کہ تھیلے کھولے جائیں تو اندر سے عجیب و غریب قسم کے نتائج نکلیں گے گورنر پنجاب نے جو باتیں کیں ان کا لب لباب ہم نے درج کر دیا مخالفین کی جانب سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ گورنر کا بیٹا تو ہار ہی رہا تھا، ہارنے والے ہمیشہ ایسے ہی الزام لگاتے ہیں، یہ منطق تو درست ہے لیکن یہ ہے کہ جو آدمی خود ہار رہا ہو، اس کے حق میں ووٹ ڈالنے والوں کے ساتھ اس طرح کے سلوک کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں، نہ ہی ایسے اقدامات کئے جانے چاہیں جن سے کسی کو شکایت پیدا ہوتی، ایسے امیدوار کو خود بخود ہارنے دیا جاتا تو کیا حرج تھا، خواتین کے پولنگ سٹیشنوں پر یہ شکایت تو عام تھی کہ سٹاف ان سے پوچھ رہا تھا کہ وہ کسے ووٹ ڈالیں گی اول تو سٹاف کی جانب سے اس قسم کا استفسار ضابطوں کی خلاف ورزی ہے ووٹ ڈالنا ہر ووٹر کا حق ہے اور اس سے پوچھنا کسی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کس کو ووٹ دے گا لیکن عام طور پر سادہ مزاج ووٹر یہ تاثر لیتے ہیں کہ پوچھنے والا یا والی نیک نیتی سے ایسا کر رہا ہے اس سادگی کے پیچھے چھپی پرکاری سے سادہ لوح خواتین ووٹر باخبر نہیں ہوتیں لیکن اس خاتون پرپذائیڈنگ افسر کی بہرحال داد دینی چاہئے جس نے بیلٹ باکس اپنے سامنے رکھا ہوا تھا اور وہ گورنر کی پڑھی لکھی بہو سے جو خود امیدوار کی اہلیہ ہے یہ پوچھنے کا حوصلہ رکھتی تھی کہ وہ کسے ووٹ دے گی اور جب اسے معلوم ہوا کہ ووٹر تو گورنر کی بہو ہے تو پھر اس کی پریشانی بھی بجا تھی، لیکن اس سے اتنا تو ثابت ہوا کہ عام ووٹروں کے ساتھ کس قسم کا سلوک روا رکھا جاتا ہو گا۔گورنر رجوانہ کا یہ سوال بھی بجا ہے کہ ان کے محلے کے پولنگ سٹیشن سے بھی ان کے بیٹے کو ہروادیا گیا اب مخالفین تو کہہ سکتے ہیں کہ جو محلے سے بھی نہ جیت سکے اسے تو الیکشن لڑنا ہی نہیں چائے تھا، یہ بات بھی اپنی جگہ ہے لیکن کیا الیکشن کمیشن اس بات کا جواب دے گا کہ چلئے عام لوگ تو کالانعام ہوتے ہیں ان سے جیسا سلوک بھی کر لیا جائے کوئی پوچھنے والا نہیں۔لیکن جن انتخابات کے بارے میں گورنر کہیں کہ ان میں دھاندلی ہوتی ہوئی نظر بھی آتی ہے ان کے شفاف ہونے پر الیکشن کمیشن کا اتنا اصرار کیوں ہے؟

مزید : تجزیہ