لاہور کے 16بڑے تھانے جرائم کا گرھ، ہر10منٹ بعد سنگین واقعہ رونما ہونے لگا

لاہور کے 16بڑے تھانے جرائم کا گرھ، ہر10منٹ بعد سنگین واقعہ رونما ہونے لگا

لاہور( لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت کے 16 بڑے تھانے ایسے ہیں جہاں حدود اور آبادی دوسرے تھانوں کی نسبت زیادہ ہونے کے باعث امن و امان کی صورتحال انتہائی سنگین اورکرائم کی شرح قابو سے باہر ہے اور چھوٹے بڑے ہر قسم کے جرم میں یہ تھانے ’’ خود کفیل ‘‘ ہوتے جا رہے ہیں۔ ان تھانوں کی حدود میں ہر دس منٹ کے بعد سنگین نوعیت کا واقعہ رونماہونے پر ون فائیو پر کال معمول بن کر رہ گیا ہے اور متعلقہ تھانوں کی پولیس کا جائے وقوعہ پر پہنچنا انتہائی مشکل ترین مرحلہ اور 40 سے 45 منٹ درکار ہوتے ہیں۔ کیپٹل سٹی پولیس تمام حربے اورحکمت عملی اختیار کرنے کے باوجود ان تھانوں کی حدود میں نہ تو امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور نہ ہی کرائم کا گراف کم کرنے میں کامیابی حاصل کر سکی ہے اور کرائم و جرائم سمیت امن و امان کی سنگین صورلحال کے باعث رواں سال میں بھی ان بڑے سولہ تھانوں کی حدود میں کرائم کی شرح سوفیصد بڑی ہے جس کے باعث ان تھانوں کی حدود میں بڑھتے ہوئے کرائم نے شہر کی صورتحال کو امن و امان کے حوالے سے سنگین بنا کر رکھ دیا ہے۔ شہری رواں سال میں پولیس ایمرجنسی ون فائیو پر کالیں کرنے کے باوجود پولیس کی مدد کو ترستے رہے۔ نگران وزیراعلیٰ پنجاب کولاہور میں امن و امان اورکرائم کی صورتحال کے حوالے سے ایک خفیہ رپورٹ پیش کی گئی ہے جو کہ کیپٹل سٹی پولیس کی جانب سے سال 2017 کے مقابلے میں سال 2018 میں امن و امان کی صورلحال اور کرائم کی شرح کنٹرول کرنے کے حوالے سے تیار کردہ ایک جائزہ رپورٹ حاصل کی گئی ہے جس میں شہر کے 84 تھانوں میں سے 16 ایسے بڑے تھانوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی حدود میں امن و امان کی صورتحال کو انتہائی خراب اور کرائم کے گراف کوخطرناک حد تک اضافہ کا ذکرکیا گیا ہے۔ کیپٹل سٹی پولیس کے ویجیلینس سیل اور شہری حلقوں سمیت امن و امان کے لئے قائم امن کمیٹیوں نے ان بڑے سولہ تھانوں کی حدود میں کم سے کم دس مزید تھانے قائم کرنے پر زور دیا ہے وگرنہ رواں سال کے آخر تک بھی ان تھانوں کی حدود میں امن و امان کی شرح اور کرائم کا گراف نیچے نہ آنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ کیپٹل سٹی پولیس کی جانب سے جن تھانوں کی حدود میں سنگین نوعیت کے کرائم کے بڑھنے کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں کینٹ ڈویژن کے تھانہ فیکٹری ایریا، شمالی چھاؤنی، جنوبی چھاؤنی اور باغبانپورہ کے تھانوں میں ہر دس منٹ کے بعد ون فائیو کی کالز اور پولیس کی مدد بلاوے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں تھانہ مناواں اورباٹا پور کی حدود میں ایک نیا تھانہ جبکہ باغبانپورہ اور ہربنس پورہ کی حدود میں بھی ایک نیا تھانہ قائم کرنے سے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں لانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح سٹی ڈویژن میں تھانہ شادباغ، مصری شاہ، شفیق آباد، شاہدرہ اور شاہدرہ ٹاؤن کی حدود میں سال 2017کی نسبت رواں سال میں امن و امان کی صورلحال خراب ، کنٹرول سے باہر اور کرائم کی شرح میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ رہا ہے۔ اسی طرح سول لائن ڈویژن میں ریس کورس ، لٹن روڈ جیسے تھانوں میں سنگین نوعیت کے کرائم کی شرح میں اضافہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں کاہنہ ، کوٹ لکھپت اورنشترکالونی جبکہ صدر ڈویژن میں رائے ونڈ، اقبال ٹاؤن ڈویژن میں اقبال ٹاؤن کی حدود میں ہر دس منٹ بعد سنگین نوعیت کے کرائم کے بارے پولیس کو مدد کے لئے شہری پکارتے رہے ہیں۔ پولیس حکام تمام تر جدید سہولتوں کی فراہمی، ڈولفن فورس، پیروسکواڈ اورمحافظ سکواڈ کے مسلسل گشت اور کڑی نگرانی سمیت شہری حلقوں میں امن و اصلاحی کمیٹیوں کے باوجود ان تھانوں کی حدود میں سنگین کرائم اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں جس پر نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے ملنے والی خفیہ رپورٹ پر سخت نوٹس لے لیا ہے اور ان تھانوں کی حدود میں کرائم کی صورتحال بڑھنے پر متعلقہ ایس پیز کی جواب طلبی کرنے کا حکم دیاہے۔ اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان بڑے تھانوں کی حدود میں مزید تھانے قائم کرنے سے کرائم کی شرح میں کمی اور امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے گا۔ اس حوالے سے لاہور پولیس کے ایک ایس پی کا کہنا ہے کہ ان تھانوں کی حدود میں امن و امان کی صورتحال اور کرائم کوکنٹرول کرنے کے لئے جدید نوعیت کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جس میں ڈویژن کی سطح پر کنٹرول رومز مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

مزید : علاقائی