سالانہ 43 ملین ٹن زرعی فضلہ میں سے 11ملین ٹن سے استفادہ نہیں کیا جاتا، ماہرین

سالانہ 43 ملین ٹن زرعی فضلہ میں سے 11ملین ٹن سے استفادہ نہیں کیا جاتا، ماہرین

لاہور (کامرس رپورٹر) پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کی حیثیت سے سالانہ 43 ملین ٹن زرعی فضلہ پیدا کرتا ہے جس میں 11ملین ٹن زرعی فضلہ سے استفادہ نہیں کیا جاتا۔ متبادل ذرائع سے توانائی کی پیداوار کے شعبہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ ملک میں 32 ملین کے قریب گائے اور بھینسوں کا 480 ملین ٹن گوبر سالانہ اکٹھا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہ اگر گوبر کا صرف 50 فیصد حصہ بہتر طریقہ سے اکٹھا کرکے استعمال میں لاکر بائیوگیس کی مدد سے دیہی علاقوں کی توانائی کی 60 فیصد ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کے لئے لکڑیوں کے استعمال سے جنگلات کی کٹائی سے ماحولیات کا شعبہ متاثر ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ زرعی فضلہ اور گوبر کو استعمال میں لاکر متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول سے نہ صرف دیہی علاقوں کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں بلکہ اس سے ماحولیات کے شعبہ کو بھی متاثر ہونے سے تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔

مزید : کامرس