بورڈ آف ریونیو کے ممبر جوڈیشل 6کی تحقیقاتی رپورٹ سرخ فیتے کی نذر

بورڈ آف ریونیو کے ممبر جوڈیشل 6کی تحقیقاتی رپورٹ سرخ فیتے کی نذر

لاہور(عامر بٹ سے) بورڈ آف ریونیو کے ممبر جوڈیشل 6 کی جانب سے کی جانے والی انسپکشن رپورٹ سرخ فیتے کی نذر ہو گئی۔محکمہ ریونیو کی ضلعی انتظامیہ ضلع لاہور عملدرآمد نہ کر سکی۔ 4سال گذر جانے کے بعد بھی چوری شدہ رقم سٹیمپ ڈیوٹی وغیرہ بابت ہاؤسنگ سوسائٹیز کی مد میں 5کروڑ کے نزدیک رقم قومی خزانے میں جمع نہیں کروائی جا سکی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی نہ تو کوئی ذمہ داری لینے کے لئے تیار ہے اور نہ ہی حکومتی خزانے سے مخلص ہے اور نہ ہی حکومتی خزانے میں رقوم جمع کرانے کے لئے کوئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ نہ ہی کسی کی مہ داری کا تعین کیا گیا کہ کون ذمہ دار ہیں ۔بورڈ آف ریونیو پنجاب کے ممبر جوڈیشل6 لاہور نے اپنی انسپکشن رپورٹ دفتر DCO/DC کی پڑتال مورخہ 12-04-15 میں واضح طورپر تحریر کیا تھا کہ چوری شدہ رقم سٹیمپ ڈیوٹی وغیرہ بابت ہاؤسنگ سوسائٹیز DCO/DC اپنے عملہ کے ذریعے وصول کر کے جمع کرانے کو یقینی بنائیں۔ مگر عرصہ چار سال گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوئی ہے۔ اس طرح کروڑوں روپے کا ٹیکہ حکومتی خزانے کو لگا دیا گیا ہے اور ممبر جوڈیشل 6بورڈ آفریونیو کی انسپکشن رپورٹ کو ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیا گیا۔میڈیا92نے بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ پڑتال نوٹ جو کہ DCO/ ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور کو جاری ہوا تھا کی مطابق انسکپشن رپورٹ مورخہ 27/5/15 کو بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری ہوئی تھیں کہ پالیسی مراسلہ مورخہ 04-12-04 جاری شدہ ازاں بورڈ آف ریونیو پر عمل کرتے ہوئے سٹیمپ ڈیوٹی کی چوری کی بابت پڑتال کریں اور ٹاؤن وائز وصولی قبل از 31-05-16 کی تفصیل دیں تاکہ وصولی کو یقینی بناتے ہوئے حکومتی خزانے کو ہونے والے نقصان سے بچایا جا سکے۔ بعد پڑتال یہ بات سامنے آئی ہے کہ علامہ اقبال ٹاؤن کی کل 12سوسائٹیز تھیں جس کی کل رقم مبلغ 2,40,69,537/- روپے بنتی تھی جس میں سے 59,18,255/- روپے وصولی جبکہ مبلغ1,81,47,282/- روپے بقایا سرکار بوقت انسپکشن پائے گئے۔ اس طرح شالیمار ٹاؤن کی کل 16سوسائٹیز رجسٹر ڈ ہیں۔ جن کی کل وصولی مبلغ 55,29,96/-روپے جبکہ موقع پر مبلغ31,80,320/-روپے وصولی اور مبلغ 23,49,640/-روپے بقایا موجود تھے۔ راوی ٹاؤن میں کل 15سوسائٹیز ہیں جن کی کل رقم وصولی 3,24,42,618/- روپے جبکہ بوقت پڑتال وصولی مبلغ 1,59,25,604/- روپے ہو چکی تھی اور اس وقت مبلغ 1,65,17,014/- روپے بقایا تھی۔ عزیز بھٹی ٹاؤن میں کل سوسائٹیز کی تعداد 19تھی۔ کل قابل وصولی رقم مبلغ 1,24,34,405/-روپے تھی جس میں سے بوقت پڑتال 44,80,614/- روپے وصول ہو چکے تھے اور مبلغ 79,53/791/- روپے بقایا خزانہ سرکار چلے آرہے ہیں۔داتا گنج بخش ٹاؤن کی کل سوسائٹیوں کی تعداد 11ہے کل قابل وصولی رقم مبلغ 14,38,020/- روپے بنتی تھی جس میں سے مبلغ 12,242,920/-روپے وصول ہو چکی تھی اور اس وقت قابل وصولی رقم بقایا مبلغ 1,95,100/-روپے رہتی تھی۔ سمن آباد ٹاؤن میں کل 12ہاؤسنگ سوسائٹیز تھیں جن کی چوری شدہ سٹیمپ ڈیوٹی کی رقم 59,06,598روپے تھی۔ بوقت پڑتال مبلغ 33,09,992/-روپے وصول ہو چکی تھی اور اس وقت کل بقایا رقم مبلغ 25,96,606/- روپے رہتی تھی۔ نشتر ٹاؤن میں کل 07ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں رقم مبلغ 8,72,550/-روپے اس وقت بقایا سرکار تھی جس میں سے مبلغ 5,43,800/-روپے وصول ہو چکے تھے اور مبلغ 3,28,750/- روپے بقایا تھے۔ اس صورت حال کے مطابق کل رقم قابل وصولی مبلغ 8,26,89,688/-روپے جن میں سے مبلغ 3,46,01,505/-روپے وصول ہو چکے تھے جبکہ کل قابل وصولی رقم مبلغ 4,80,88,183/- روپے بقایا تھی۔ جن کی بابت DCO/DCکو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ آپ اس وصولی کی بابت متعلقہ اتھارٹیز کو مطلع کریں کہ وہ جلد از جلد مقرر شدہ وقت کے اندر جمع بقایا رقم فوری جمع کرانے کو یقینی بنائیں اور اس بابت تفصیلی رپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی وائز دفتر ممبر بورڈ آف ریونیو میں بھجوائیں۔ مگر افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ عرصے چار سال گزر جانے کے باوجود انسپکشن رپورٹ ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ اس طرح خزانہ سرکار کو کل وصول ہونے والی رقم مبلغ 8,26,29,688/- روپے کی وصولی میں سے 3,46,01,505/- روپے سابقہ وصول شدہ ہی ہے اور بقیہ رقم 4,80,88,183/- روپے آج بھی بقایا ہیں۔ اس پڑتال نوٹ / انسپکشن پر عملدرآمد کی بجائے جملہ عملہ دوسرے ذاتی امور میں دلچسپی لیتا ہے۔ سرکاری خزانے کا کسی کو کوئی خیال ہی نہیں ہے۔ اس دوران نہ ہی متعلقہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکا ہے کہ کس کی کوتاہی کی وجہ سے رقم خزانہ سرکار میں جمع نہ ہو سکی۔ حالانکہ اس انسپکشن نوٹ میں سابقہ چوری شدہ فیس ہائے سٹیمپ کا ذکر ہے جس کی ذمہ داری کا تعین بھی ہونا باقی تھا۔ مگر اس طرف کسی کی توجہ نہ گئی ہے۔ بوقت رجسٹریشن ہاؤسنگ سوسائٹیز یہ سٹیمپ ڈیوٹی چوری کرنا بھی کرپشن کے مترادف ہے اور یہ کام سوسائٹی مالکان سے ملی بھگت کر کے جان بوجھ کر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ عملہ کی مجرمانہ غفلت سرکاری خزانے کے لئے بہت ہی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔ پھر مزید یہ کہ چار سال گزر جانے کے باوجود وصولی کی مد میں کوئی کوشش نہ کی گئی ہے۔یہ بقایا رقم جو کہ لگ بھگ 5کروڑ ہے۔ بہت بڑی رقم ہے۔ اس لئے یہ بات قابل ذکر ہے ہ اگر یہ سٹیمپ ڈیوٹی کی چوری کی گئی ہے تو پھر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو رجسٹر ڈکیوں کیا گیا۔ دوسری صورت میں رقم جمع نہ ہونے کی صورت میں سوسائٹیوں کی رجسٹریشن منسوخ بھی ہو سکتی تھی۔ چنانچہ معاملہ کو خواہ مخواہ ہی بگاڑ دیا گیا ہے اور رقم ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر جو رقم بقایا ہے ہو سکتا ہے عملہ نے یہ رقم وصول کر لی ہو اور بعد میں جمع نہ کرائی ہوئی ہو۔ لہٰذا حکمران بالا اس بات کا نوٹس لیں اور جلد از جلد رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کو یقینی بنائیں اور ملوث عملہ کے خلاف کیس نیب یا اینٹی کرپشن میں رجسٹرڈ کرائیں کیونکہ اس وقت اس ملک میں سب سے بڑی نحوست کرپشن کی لعنت ہے جس کی وجہ سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ شہریوں نے کثیر تعداد میں چیئرمین نیب و ڈی جی اینٹی کرپشن و حکام ضلعی انتظامیہ کو فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1