جوڈیشل اکیڈمی کی عمارت کو 31 دسمبر سے قبل مکمل کرنے کا فیصلہ

جوڈیشل اکیڈمی کی عمارت کو 31 دسمبر سے قبل مکمل کرنے کا فیصلہ

لاہور (سٹی رپورٹر) محکمہ بلڈنگ نے جوڈیشل اکیڈمی لاہور کی عمارت کو 31 دسمبر سے قبل مکمل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے بتایاگیا ہے کہ جوڈیشل اکیڈمی کی تعمیر کو شروع ہوئے کئی سال گزر گئے ہیں لیکن تاحال جوڈیشل اکیڈمی کی عمارت کا کام مکمل نہیں ہو سکا ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کی سابقہ حکومت نے 2010 میں پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے لئے کالا شاہ کاکو میں 50 ایکڑ اراضی ایکوائر کی تھی جبکہ 2012 میں عمارت کی تعمیر کیلئے محکمہ بلڈنگ کو 64 کروڑ کے فنڈزمختص کرکے 2015 تک منصوبہ مکمل کرنے کا ہدف دیا گیاتھامحکمہ بلڈنگ کے افسران کی لاپرواہی سے 2015 سے اب تک عمارت مکمل نہ ہوسکی15جولائی 2018 کی آخری تاریخ بھی گزر گئی محکمہ بلڈنگ کے ایس ڈی اوعبدالقیوم کو منصوبہ مکمل نہ کرنے کے باوجود ایکسیئن کے عہدے پر ترقی مل گئی محکمہ بلڈنگ کے اوور سینئرعمران کی غفلت اور لاپرواہی بھی منصوبہ کی تاخیر کا باعث بنی رہی جبکہ زیر تربیت ججز پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کی نئی عمارت کا منصوبہ جلد مکمل ہونے کے منتظر رہے محکمہ بلڈنگ نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی نئی عمارت کے اکیڈمک اور ایڈمن بلاک چھ ہفتوں میں اور ہوسٹل سمیت دیگرعمارت کا کام31 دسمبر تک مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے محکمہ بلڈنگ کے افسران کی غفلت اور لاپرواہی سے منصوبہ 6سال تک تاخیر کا شکار رہا جبکہ لاگت 64 کروڑسے بڑھ کر 90 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔محکمہ بلڈنگ کی جانب سے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیرالتواء منصوبے کو جلد مکمل کرنے کے فیصلے سے مزیدلاگت میں بچت ہونا بلاشبہ خوش آئند ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1