درخت تنازع پر2بیوی نے آشنا سے ملکر شوہر مار ڈالا

درخت تنازع پر2بیوی نے آشنا سے ملکر شوہر مار ڈالا

ڈیرہ غازی خان‘ رحیم یار خان(سٹی رپورٹر‘ نمائندہ پاکستان ) زمین کے تنازع پر جڑھ برادری میں خونیں تصادم‘ فائرنگ کے نتیجہ میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ بیوی نے آشنا کی(بقیہ نمبر26صفحہ12پر )

مدد سے شوہر کو درانتی کے پے در پے وار کرکے قتل کردیا۔ تفصیل کے مطابق تھانہ شاہ صدر دین کے علاقے موضع مرہٹہ کے رہائشی عبد الحمید جڑھ نے بتایا کہ ہماری جڑھ برادری میں5کینال ایک مرلہ زمین پر لگے کھجور کے درخت کا تنازع چل رہاتھا۔محمد رفیق جڑھ کجھور کے درخت پر چڑھا ہواتھا تو ملزم زمان نے کہا کہ کجھور کا درخت ہمارے رقبے میں ہے تو اس پر کیوں چڑھا ہے جس پر محمد رفیق درخت سے نیچے اتر کر گھر واپس آگیا بعد میں محمد زمان نے رفیق کو پسٹل سے فائر مارکر زخمی کردیا اور رفیق کی جوابی فائرنگ میں محمد رمضان زدمیں آگیا جس سے دونوں شدید زخمی ہو گئے ریسکیو1122 نے انہیں ٹیچنگ ہسپتال کے ٹراما سنٹر منتقل کیا جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھانہ شاہ صدر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کرا یا اور مقدمہ درج کرانے کے بعد انہیں ورثاء کے حوالے کر دیا ۔ دریں اثناء بستی کریم آباد موضع بلاقیوالی کے رہائشی محمد انور نے پولیس کو اپنی شکایت میں بیان کیا کہ اس کے چھوٹے بھائی 40سالہ منظور احمد کی شادی موضع مہران کی رہائشی بانو بی بی سے15سال قبل ہوئی تھی تاہم اسی دوران بانو بی بی نے مقتول شوہر منظور احمد کے حقیقی بھانجے صدام حسین جس کا مقتول کے گھر آنا جانا تھا سے تعلقات استوار کرلیے معلوم پڑنے پر شوہر منظور احمد نے بھانجے صدام حسین کو گھر آنے سے سختی سے روک دیا جس کے باوجود بانو بی بی اور صدام حسین کی ملاقاتیں جاری رہیں 2روز قبل منظور احمد اپنی بیوی بانو کے ہمراہ مویشیوں کیلئے چارہ کاٹنے کیلئے زمیندار جاوید اقبال کے رقبہ گیا اور پھر گھر واپس نہ آیا پوچھنے پر قاتل بیوی نے ورثاء کو بتایا کہ منظور احمد کام کے سلسلہ میں گیا ہوا ہے تاہم گذشتہ روز فصل کماد سے نعش برآمد ہونے پر منظور احمد کی شناخت ہوگئی جس پر ورثاء نے قاتل بیوی بانو پر سوالات کی بوچھاڑ کردی جس پر بیوی نے شوہر منظور احمد کو آشنا صدام حسین کی مدد سے درانتی کے وارکرکے قتل کرنا تسلیم کرلیا بعد ازاں پولیس نے بیوی بانو کو حراست میں لے لیا جبکہ آشنا کی گرفتاری کیلئے پولیس جگہ جگہ چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔

قتل

مزید : ملتان صفحہ آخر