ہندؤں سکھوں سے لڑ کر پاکستان پہنچے

ہندؤں سکھوں سے لڑ کر پاکستان پہنچے

ملتان(سٹی رپورٹر)قیام پاکستان کے بعد ضلع روہتک تحصیل بھوہانہ موضع کاہنی سے ہجرت کرکے پاکستان آنیوالے 106سالہ بزرگ الحاج عبد الرشید قریشی نے کہاہے کہ جب پاکستان بنا تو میری عمر 35سال تھی اور میں انڈین فوج میں ملازم تھاجب تحریک پاکستان کا آغاز ہوا تو کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ پاکستان معرض وجود میں آ جائیگا ، ہندو وں مسلمانوں کو یقین نہیں تھا کہ جس تحریک کا آغاز قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی سرپرستی میں شروع ہوئی ہے(بقیہ نمبر36صفحہ12پر )

اس کا اختتام ایک آزاد اسلامی ریاست پاکستان کی شکل میں اختتام ہو گا انہوں نے کہاہے کہ انڈین فورس کا ملازم ہونے کے ناطے میں ڈیوٹی ڈاکٹر محمد علامہ اقبال کی سیکورٹی پر لگا دی گئی تھی میرے سمیت 7مسلمان سپاہی اور بھی تھے جو دن رات علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے ساتھ ہر وقت ہوتے تھے ڈاکٹر صاحب ایک ہی روز میں کئی کئی میٹنگ کرتے اور مستقل سفر میں رہتے کئی میٹنگ کے اندر ہم بھی بیٹھ جاتے تھے ان میٹنگ میں ہونے والی گفتگو سن کر اایسا محسوس ہوتا تھا کہ آج ہی پاکستان بن جائے گاقائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ دہلی ۔کلکتہ،امروہہ،حیدر آباد دکن سمیت مختلف شہروں میں ملاقات کرنے کا موقع ملا جبکہ سابق وزیر اعظم پاکستان نواب لیاقت علی خان سے گفتگو کرنے کے بھی سعادت حاصل ہوئی ،وہ وسب کے سب اکابرین مسلمانوں سے اتنی محبت کرتے تھے کہ شاہد آج کسی کو اتنی محبت اپنی اولاد سے بھی نہ ہو ،ایک دن کسی مسلمان تاجر نے قائد اعظم سے مدد طلب کی کہ ایک ہندو تاجر نے اس سے مال لیا تھا لیکن اب وہ پیسے دینے سے انکار کر رہاہے یہ سارا مال اس کی عمر بھر کی کمائی ہے جس پر قائد اعظم محمد علی جناح نہ صرف بہت پریشان ہوئے بلکہ سخت غصے میںآئے اور کہاکہاگر اس مسئلے کا فوری حل نہ کیا گیا تو ہندوستان کے سارے مسلمان تاجروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہو گا قائد اعظم محمد علی جناح نے فوری طور پر کانگریس کے رہنماؤں کو رابطہ کرکے شکایت کی جس پر کانگریس کے رہنماؤں نے فوری عمل کرتے ہوئے اس مسلمان تاجر کی رقم واپس کرائی انہوں نے کہاہے ،جب پاکستان بننے کا علان ہوا تو ہندو اور سکھ سخت غصے میں آگئے اور انہوں نے مسلمان آبادی کے علاقوں پر حملہ کرکے پورے کے پورے گاؤں کو آگ لگادی جس کی وجہ سے کئی بچے ، خواتین اور بزرگ افراد زند ہ جل گئے ہمارے پڑوس والے گاؤں میں صرف وہ لوگ زند ہ بچے تھے جو کسی کام کاج کے سلسلے میں گاؤں سے باہر تھے باقی پورے کا پورا گاؤں زندہ جلا دیا گیا اس کے بعد تو مسلمانوں کو بھی غصے میںآگئے جنہوں نے آپس میں پیسے اکھٹے کرکے اسلحہ خریدا اور ہندو و سکھوں سے مقابلے کے لئے تیار ہو گئے ایک دن ہندو و سکھو ں کے جتھوں نے ہمارے گاؤں پر حملہ کر دیا جن کی تعداد ہزاروں میں تھی جب کہ اس کے مقابلے میں ہماری تعداد بہت کم تھی ہمارے بزرگوں نے تین چار ٹولیا ں بنا کر ہندو کے جتھوں کو چاروں طرف سے گھیر کر فائرنگ کر دی جس کی وجہ سے ہندو ؤ کا جتھا خوف زدہ ہو بھاگ گئے اس کے بعد ہمارے بزرگوں نے ہندوستان سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا اور سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ پاکستان کی طرف روانہ ہو گئے راستے میں جگہ جگہ ہمارے قافلے پر حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے کئی نوجوانوں بچوں اور خواتین زندگی کی بازی ہار گئی مرنے والوں کو بے یارو مدد کھلے آسمان تلے چھوڑ کر روتے ہوئے اور اپنے بچھڑنے والوں کو یاد کرتے کرتے آگے بڑھتے رہے اور آخر آگ اور خون کا دریا عبور کرکے پاکستان میں داخل ہو گئے ہیں آج 71سال گزرنے کے باوجود جب پاکستان کے شہری 14اگست کو جشن آزادی بنا رہے ہوتے ہیں تو ہماری آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں کے بچھڑنے اور ان کو اپنے سے جد ا ہوتے ہوئے نظر آتا ہے ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ آج کی بات ہو ، انہوں نے کہاہے کہ پاکستان نے ہمارے پیار ا ملک ہے اس کی قدر کوئی ہم سے پوچھے ،ملک میں لوٹ مار کرنے والوں اور ان کو بحرانوں میں داخل کرنے والے خدا کو خوف کرنا چاہئے یہ ملک اتنا آسانی سے نہیں ملا اس کے لئے ہم نے اپنے پیا روں کو اپنی آنکھوں کے سامنے قربان ہوتے دیکھا ہے اے ملک کے حکمرانوں اللہ سے ڈروں پاکستان کے ساتھ یتیموں مسکینوں جیسا سلوک نہ کرو آج بھی اس ملک کے وارث زندہ ہیں اگر اس ملک کی خاطر دوبار ہ سے قربانی دینا پڑی تو اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے لیکن اپنے پیارے پاکستان پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

عبدالرشید قریشی

مزید : ملتان صفحہ آخر