بیلٹ اینڈروڈ، بین الاقوامی تعلقات کی نئی چینی حکمت عملی

بیلٹ اینڈروڈ، بین الاقوامی تعلقات کی نئی چینی حکمت عملی

بیجنگ(آئی این پی) چین دنیا میں نئی سفارتی حکمت عملی کے تحت سامنے آیا ہے ۔جو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کے ذریعے اس کے بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دے رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران چین نے بڑی مستعدی سے بی آر آئی کے ذریعے بین الاقوامی تعاون میں اضافہ(بقیہ نمبر46صفحہ12پر )

کیا ہے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنی امداد کو بڑھایا ہے۔خاص طور پر کم ترقی یافتہ ممالک کی امداد میں اضافہ کیا ہے۔ جس سے جنوب اور شمال کے درمیان ترقی کا فرق کم ہورہا ہے۔یقینی طور پر بی آر آئی دنیا بھر میں مختلف بحرانوں کا ایک جواب ہے۔جس کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جارہا ہے۔ صدرشی جن پھنگ نے درست طور پر باؤ فورم 2018میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا۔ کہ بی آرآئی صرف چین کا منصوبہ نہیں ہے جیسا کے بعض ممالک کی طرف سے الزام لگایا جارہے بلکہ یہ دیگر ممالک اور عوام کے لیے بھی فائدہ مند ہے انہوں نے کہا تھا کہ چین بی آر آئی کے ذریعے سماجی اور اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش جاری رکھے گا اور اس میں شرکت کرنیو الے ممالک کی اقوام متحدہ کے 2030کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ چینی حکام کے مطابق چینی صدر کے ان ریمارکس نے چھوٹے کمزور ممالک کے لیے امید کی ایک کرن پیدا کردی ہے۔اس طرح بی آر آئی دنیا کے روشن تناظر میں بین الاقوامی تعاون کا ایک بہترین پلیٹ فارم بن گیا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس منصوبے کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہوئے خاص طور پر ترقی پذیر دنیا کے ایشیا یورپ اور افریقہ کے ساتھ رابطے بحال ہوگئے ہیں کیونکہ ان ممالک کے درمیان شاہراہوں ،بندرگاہوں،ریلوے،بجلی گھروں اور بنیادی ڈھانچے کے دیگر منصوبوں کا نیٹ ورک قائم کردیا گیا ہے۔ چینی وزارت تجارت کے مطابق جن پر 2015سے2030تک 880ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔بعض اوقات الفاظ خود بخود بولتے ہیں بی آر آئی کے ساتھ 65ممالک اور علاقے منسلک ہیں۔جن کی آبادی4.4ارب ہے۔جبکہ ان کی مجموعی قومی پیداوار 23ٹریلین ہے۔یہ اعدادو شمار دنیا کی کل آبادی کے 63فیصد ،کل قدرتی وسائل کے 75فیصد اور دنیا کی مجموعی قومی پیداوار کے29فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ چین اور دیگر بی آر آئی ممالک کے ساتھ 2014سے 2016تک تجارتی حجم 3ٹریلین ڈالر رہااور اس منصوبے کو دنیا بھر کے سو سے زیادہ ممالک اور بین الاقوامی تنظموں کاتعاون حاصل ہوچکا ہے۔

چینی حکمت عملی

مزید : ملتان صفحہ آخر