سانحہ دیامر، گلگت بلتستان اوردیامر یوتھ فورمز کااحتجاجی مظاہرہ

سانحہ دیامر، گلگت بلتستان اوردیامر یوتھ فورمز کااحتجاجی مظاہرہ

اسلام آباد (آن لائن) سانحہ دیامر کیخلاف گلگت بلتستان یوتھ فورم و دیامر یوتھ کے تحت احتجاجی مظاہرہ‘ طلبہ مظاہرین نے دیامر میں سکول جلائے جانے کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ سکولوں پر حملہ ہماری نئی نسل پر حملہ ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اختلاف کو پس پشت ڈال کر واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ اپوزیشن لیڈر جی بی قانون ساز اسمبلی کیپٹن شفیع کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیاں کرنے والے ملک دشمن عناصر ہیں۔ ملک میں تبدیلی آچکی ہے۔ خطہ گلگت بلتستان کو بھی اس تبدیلی میں شامل کرکے تعلیم سے آراستہ کرنا ہوگا۔ دیامر کے عوام دہشت گردوں کے منصوبوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ سی پیک کی کامیابی خطے کے عوام کی تعلیم سے مشروط ہے۔ دیامر کے عوام کیلئے تعلیمی ایمرجنسی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ دیامر ڈیم بنانے کیلئے بھی وہاں کے عوام کو تعلیم یافتہ کرنا ضروری ہے۔ مظاہرین سے پی ٹی آئی کی رہنماء آمنہ انصاری اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ دیامر سے تعلق رکھنے والے حنیف الرحمن مقدم کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں ضلع دیامر میں ساٹھ سے زیادہ سکول بنائے گئے۔ 13 جلائے جانے والے سکولوں میں 6 زیر تعمیر تھے۔ یہاں کے لوگ پسماندگی کے باعث دہشت گردوں کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے معروف سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ دہشت گرد لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ آج ہمارے اداروں کو ان عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ جو ان گھناؤنی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ (عابد شاہ/نوید نقوی)

مزید : کراچی صفحہ اول