وزیر اعلٰی کا شعبہ حادثات میں مریضوں سے فیس وصول کرنے او ر دیگر اخراجات چارج کرنے کا سخت نوٹس

وزیر اعلٰی کا شعبہ حادثات میں مریضوں سے فیس وصول کرنے او ر دیگر اخراجات چارج ...

پشاور(سٹاف رپورٹر)نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سابق جسٹس دوست محمد خان نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے کوہاٹ ٹریفک حادثہ کے زخمیوں کی عیادت کی انہوں نے ہسپتال کے شعبہ حادثات میں مریضوں سے فیس وصول کرنے اور دیگر اخراجات چارج کرنے کا سخت نوٹس لیا ہے اور انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ چوبیس گھنٹوں کے اندر رپورٹ دے کہ ایمرجنسی میں غریب لوگوں سے فیس اور دیگر اخراجات کس قانون کے تحت چارج کئے جا رہے ہیں۔ نگران وزیر اعلیٰ نے آج لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا اچانک دورہ کیا اور مسلم آباد کوہاٹ میں گذشتہ روز آئل ٹینکر اور مسافر بس کے تصادم کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی ، نگران وزیر اعلیٰ نے زخمیوں سے انکی صحت اور علاج معالجہ کی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔نگران وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر شعبہ حادثات میں مریضوں سے فیس ،آپریشن اور دیگر امور میں وصول کئے جانے والے اخراجات کا بھی نوٹس لیا اور کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں زیادہ تر غریب اور بے سہارا لوگ آتے ہیں انہیں علاج معالجہ کی مفت سہولیات کے قانون پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کی اعلیٰ حکام کو اس سلسلے میں چوبیس گھنٹوں کے اندر رپورٹ دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ انہیں بتایا جائے کہ کس قانون کے تحت شعبہ حادثات میں غریب لوگوں سے اخراجات وصول کئے جا رہے ہیں۔

پشاور(سٹاف رپورٹر)نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سابق جسٹس دوست محمد خان نے قربانی کے جانوروں، سبزیوں اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کو افغانستان بر آمد کرنے کیلئے تمام اجازت نامے منسوخ کر دیئے ہیں انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو فیصلے پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی، یہ حکم عید الاضحیٰ تک نافذ العمل رہے گا۔انہوں نے کہا کہ قربانی کے جانوروں اور دیگر اشیاء خوردونوش کی سمگلنگ سے مقامی مارکیٹس میں قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے جو غریب عوام کیلئے انتہائی تکلیف کا باعث بنتا ہے لہٰذا صوبے سے باہر سمگلنگ کے عمل کو روکنا ضروری ہے تاکہ مقامی لوگوں کی خریداری کی استعداد متاثر نہ ہونے پائے۔

مزید : کراچی صفحہ اول