شکر گڑھ ، اوباش نوجوانوں کی 17سالہ لڑکی سے اغوا کے بعد اجتماعی بد اخلاقی

شکر گڑھ ، اوباش نوجوانوں کی 17سالہ لڑکی سے اغوا کے بعد اجتماعی بد اخلاقی

نارووال(نمائندہ خصوصی) درندہ صفت اوباشوں کی محنت کش کی بیٹی سے اغواکے بعد اجتماعی بداخلاقی، ملزمان لڑکی کو تشویشناک حالت میں جنگل میں پھینک کر فرار ہوگئے۔شکرگڑھ کے محلہ افضل پورہ کے رہائشی محنت کش محمد امین کی 17 سالہ بیٹی گلشن شہزادی اپنے ننھیال گاؤں بکروال گئی ہوئی تھی،گلشن شہزادی اپنی نانی رحمت بی بی کے ہمراہ قبرستان جارہی تھی کہ دو نامعلوم مسلح افراد نے زبردستی گلشن شہزادی کو اٹھا کر موٹرسائیکل پر بٹھانا چاہا جس گلشن اور رحمت بی بی نے مزاحمت کی، ملزمان نے مزاحمت کرنے پر رحمت بی بی کو تشدد کا نشانہ بنایا ، رحمت بی بی نے بتایاکہ ملزمان نے گلشن کے منہ پر رومال ڈال کر بے ہوش کیااور اغواکرکے لے گئے،گلشن شہزادی کے اہل خانہ نے واقعہ کی فورا اطلاع پولیس کو دیدی،پانچ گھنٹوں بعد اہل خانہ کو فون پر اطلاع ملی کہ ان کی بیٹی تھانہ صدر شکرگڑھ کی حدود میں بدووال جنگل میں نیم برہنہ حالت میں بیہوش پڑی ہے ۔اہل خانہ فوری طور پر وہاں پہنچے اور لڑکی کو لیکر پولیس سٹیشنصدر شکرگڑھ گئے ،اہل خانہ نے بتایا کہ پولیس تھانہ صدر شکرگڑھ نے مظلوم خاندان کو یہ کہاکہ لڑکی تھانہ کوٹ نیناں کی حدود سے اغواء ہوئی ہے اس لئے ہم مقدمہ درج نہیں کر سکتے۔ کوٹ نیناں پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی گاؤں بدووال کے جنگل سے برآمد ہوئی ہے اس لئے وہ تھانہ صدر شکرگڑھ جائیں،دونوں تھانوں کی پولیس نے اندارج مقدمہ سے انکار کردیا،مظلوم خاندان انصاف لینے کیلئے دربدر ٹھوکریں کھانے لگا۔

اجتماعی بداخلاقی

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر