قبائلی اضلاع دو سال سے پولیو کیس سے پاک

قبائلی اضلاع دو سال سے پولیو کیس سے پاک

ہنگو ( بیورورپورٹ)قبائلی اضلاع دو سال سے پولیو کیس سے پاک،اگست انسداد پولیو مہم آج سے شروع خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں 27 جولائی2016 سے کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ پولیو کے خاتمے کے لیے قبائلی اضلاع میں اگست کی انسداد پولیو مہم آج سے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسران، ڈپٹی کمیشنروں اور سیکورٹی فراہم کرنے والے اداروں کی نگرانی اور سرپرستی میں شروع کی گئی ہے انسداد پولیو مہم 6 اگست 2018 سے 8 اگست 2018 تک جاری رہے گی جس کے بعد رہ جانے والے بچوں کو پولیو قطرے پلوانے اور سرویلنس کا کام جاری رہے گاپورے قبائلی اضلاع میں 5 سال سے کم عمر کے کل 825144 بچوں کو 3651 ٹیموں، جن میں 3406 موبائل، 167 فکسڈ اور 78 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں، کی مدد سے پولیو قطرے پلوائے جائیں گے ایمرجنسی آپریشن سنٹر قبائلی اضلاع کے کوارڈینیٹر محمود اسلم وزیر نے کہا کہ صف اول کے کارکنان کی کارکردگی بے مثال ہے جن کی محنت سے قبائلی اضلاع کے بچے گزشتہ دو سالوں سے پولیو کے موذی مرض سے محفوظ ہیں انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ ایمرجنسی آپریشن سنٹر قبائلی اضلاع کی ٹیم کو ایک اہم سنگ میل طے کرنے میں کامیابی ملی مگر ابھی کام مکمل نہیں ہواہمیں اسی طرح لگن اور پختہ ارادے کے ساتھ کارکردگی برقرار رکھنا ہو گی اور جب تک قبائلی اضلاع کے ہر کونے سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہوتا کسی سطح پر بھی خود اطمنانی سے گریز کرنا ہو گا انہوں نے پاکستان کے اندر اور سرحد پار کرنے والے مسافروں کو تاکید کی کہ اپنے بچوں کو پولیو قطرے ضرور پلوائیں کیونکہ پولیو خاتمے کے حصول میں ان بچوں کی ویکسینیشن ایک اہم پیمانہ و معیار ہے ایمرجنسی آپریشن سنٹر قبائلی اضلاع کے ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم جان نے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو سخت و مشکل حالات کے باوجود قبائلی اضلاع نے دو سال سے بچوں کو پولیو سے ہونے والی ساری عمر کی معزوری سے بچانے کا اعزاز حاصل کیا انہوں نے پختہ ارادے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی کے عمل میں کی گئی محنت اور دی گئیں قربانیاں کو رائیگاں نہیں ہونے دیں گے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ٹیمیں ہر بچے کو یہ موثر ترین ویکسین دینا جاری رکھیں گی اور دوران سفر خصوصاً سرحد پار کرنے والی آبادی پر توجہ دی جائے گی تاکہ ہر بچے کو پولیو قطرے پلوانے کو یقینی بنایا جائے قبائلی اضلاع نے پولیو کیس کے بغیر دو سال مکمل کرلیے ہیں قبائلی اضلاع میں آخری پولیوکیس 27 جولائی 2016 کو ضلع جنوبی وزیرستان سے سامنے آیا تھا جس کے بعد سے اب تک کوئی پولیو کیس سامنے نہیں آیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر