تحریک انصاف سے معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا،میئر کراچی

تحریک انصاف سے معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا،میئر کراچی
تحریک انصاف سے معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا،میئر کراچی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)میئرکراچی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما وسیم اختر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے پاس تحریک انصاف سے معاہدے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ عوام مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو آزما چکے۔

کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے جو صوبائی آمدنی 95 فیصد اور ملکی آمدن میں 65 حصہ دار ہے، دو بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومتیں اس شہر کے مسائل کوحل کرنے میں ناکام رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’شہر کے مسائل ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہیں‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا ادارے نے شہریوں کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔میئر کراچی کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل سیاست سے الگ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ملک تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اس لیے تمام سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو کراچی کے مسائل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔وسیم اختر نے کہا کہ وفاقی حکومت کو کراچی اور سندھ کے حالات میں بہتری لانی چاہیے، خاص طور پر بلدیاتی حکومت کے مسائل حل کرکے اسے طاقتور بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ’میں صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان ایک پل کا کردارادا کررہا ہوں۔ایک سوال کے جواب میں ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان شہریوں کو درپیش مشکلات کے حل کےلئے معاہدہ کیا گیا۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ کچھ معاملات پر ابھی بات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ہم ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کو اعتماد میں لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ کے حالات انتہائی ابتر ہیں، صاف پانی، سیوریج سسٹم، ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم کی سہولیات میسر نہیں۔

وسیم اختر نے کہا کہ ’اس انتہائی سنجیدہ صورتحال کے پیشِ نظرہم چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ بیٹھے اور اپنے مسائل پر بات کی۔‘

تاہم انہوں نے 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ الیکشن کے نتائج پر ہمارے تحفظات قائم ہیں، ہم قومی اسمبلی کے 8 اور صوبائی اسمبلی کے 16 حلقوں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروانا چاہتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی اس طریقے سے کی گئی ہے کہ بہت مشکل ہے کہ اس معاملے پر کوئی کمیشن یا کمیٹی بنائی جائے کیونکہ شہر کے مختلف اسکولوں اور کچرے کے ڈھیر سے بیلٹ پیپرز برآمد ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک پری پول دھاندلی تھی اور ہم نے دھادندلی کےخلاف صوبائی الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج بھی کیا تھا۔

پاک سرزمین پارٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کراچی کے لوگ جانتے ہیں کہ الیکشن میں ڈولفن کے ساتھ کیا ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب پی ایس پی کے رہنما ایک بار پھر لوگوں کو بلدیاتی حکومت کی تیاری سے متعلق بتارہے ہیں۔میئر کراچی نے کہا کہ ہماری جماعت بہت مشکل وقت سے گزررہی تھی کیونکہ ہمارے اکثر لوگ جیل میں ہیں اور کئی لاپتہ ہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /سندھ /کراچی