جعلی بینک اکاونٹس از خود نوٹس:چیف جسٹس کا انورمجیدکے وکیلوں کےخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

جعلی بینک اکاونٹس از خود نوٹس:چیف جسٹس کا انورمجیدکے وکیلوں کےخلاف مقدمہ درج ...
جعلی بینک اکاونٹس از خود نوٹس:چیف جسٹس کا انورمجیدکے وکیلوں کےخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جعلی بینک اکاونٹس از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے مالک انورمجیدکے وکلا کے خلاف رجسٹرارکوانکوائری کاحکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پولیس کوبلائیں ان وکیلوں کےخلاف مقدمہ درج کریں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جعلی بینک اکاونٹس از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان میاں محمد ثاقب نثار نے سپریم کورٹ میں کی ۔اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت میں موقف اپنا یا کہ طارق سلطان کے نام پر 5بینک اکاونٹس ہیں اور مشکوک ٹرانزیکشنز 29جعلی اکاونٹس کے ذریعے کی گئی،ٹرانزیکشنز سمٹ ،سندھ اور نجی بینکوں کے اکاونٹس کے ذریعے سے کی گئی جبکہ اومنی اکاونٹس کے ذریعے رقم زرداری گروپ کو منتقل کی گئی اور فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ نے مشکوک ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اومنی گروپ نے رقم جمع کرائی تو اکاونٹ جعلی کیسے ہوگئے ؟جس پربشیر میمن کا کہنا تھا کہ اکاونٹ ہولڈرز کو اپنے اکاونٹس کاعلم ہی نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا تمام29بینک اکاونٹس جعلی ہیں ،جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آخر جعلی بینک اکاونٹس سے رقم آخر گئی کہاں؟ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت کو آگاہ کیاکہ جعلی بینک اکاونٹس نے رقم واپس اپنے اکاونٹس میں منتقل کی گئی ۔جسٹس اعجازالاحسن کاکہنا تھا کہ رقم منتقلی کی وجہ کیاہے ؟جسٹس ثاقب نے ریمارکس دیئے کہ جعلی اکاونٹس کھول کر کالا دھن جمع کرایا گیا،واضح کریں آخر رقم گئی کہاں ہے ؟ بشیر میمن کا کہنا تھا کہ جعلی اکانٹس سے ہزراوں ٹرانزکشنز ہو ئیں۔جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 35ارب کی ٹرانزکشنز ہو ئیں۔چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس لسٹ آنی چاہئے کہ اکاؤنٹس کس کس کے ہیں، دیکھناہے جعلی اکاؤنٹس سے کس کوفائدہ ہوا۔

خالدرانجھانے عدالت میں موقف اپنایاکہ اومنی گروپ کی 15 کمپنیاں ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اومنی گروپ کے مالک انورمجیداگلے ہفتے پیش ہوں،،وکیل اومنی گروپ رضاکاظم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انورمجیدبیمارہیں،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب بھی بلایاجاتاہے ہسپتال چلے جاتے ہیں،عدالتی حکم کے بعد ہر بندہ ہسپتال ہی جا تا ہے ،ابھی معلوم کر کے بتائیں کب واپس آئیں گے ہم انہیں خود بھی لا سکتے ہیں اورانورمجید کے بیٹے کہاں ہیں؟وکیل اومنی گروپ نے کہا کہ انورمجیدکے بیٹے ملک سے باہرہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثاربولے سب باہرہیں تووکیل کس طرح ہائرکیے گئے ۔وکیل جمشیدملک کا کہنا تھا کہ میں نے وکالت نامے پردبئی میں دستخط کرائے۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رضاکاظم !آپ پاکستان کے سب سے سینئروکیل ہیں، آپ کلائنٹ سے ملے نہیں،اس نے آپ کےسامنے دستخط نہیں کیے،ایسی صورتحال میں آپ کیسے نمائندگی کرسکتے ہیں، آپ کوپتہ نہیں سپریم کورٹ میں کیسے پیش ہوتے ہیں۔جس پرچیف جسٹس ثاقب نثارنے رجسٹرارکوانکوائری کاحکم دے دیااس کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس نے عدالتی عملے کووکالت نامے چیک کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پولیس کوبلائیں ان وکیلوں کےخلاف مقدمہ درج کریں۔

مزید : جرم و انصاف /علاقائی /اسلام آباد /اہم خبریں /قومی