یہ حرام کا پیسہ ہے ہضم نہیں ہونے دیں گے، چیف جسٹس کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس

یہ حرام کا پیسہ ہے ہضم نہیں ہونے دیں گے، چیف جسٹس کے کیس کی سماعت کے دوران ...
یہ حرام کا پیسہ ہے ہضم نہیں ہونے دیں گے، چیف جسٹس کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ پاکستان ہے یہاں پر ہر معاملہ پاک ہونا چاہیے ، یہ حرام کے پیسے تھے یہ رقم جن کی بھی ہے ، ناپاک اور حرام ہے۔

تفصیلات کے مطابق جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ میں کی ۔سابق صدر آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک بھی عدالت میں پیش ہوئے ۔اس موقع پر چیف جسٹس کا سابق صدرآصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک سے مکالمہ ہوا۔سابق صدرآصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے آصف زرداری،فریال تالپورکوروزکیوں بلاتی ہیں،کوئی جرم ہواہے توضرورتفتیش کریں، الیکشن لڑرہاتھاایف آئی اے نے مجھے بھی اشتہاری قراردےدیا۔جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ ایف آئی اے کادائرہ اختیارنہیں لیکن سپریم کورٹ کادائرہ اختیارہے کہ وہ لوگوں کی کرپشن پکڑے،آپ کاموکل بے گناہ ثابت ہواتونیب اورایف آئی اے کیخلاف مقدمات درج کرائیں گے،جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اربوں روپے کے سکینڈل کی تحقیقات ہونی چاہئیں، اس ملک میں ٹیکس کا بوجھ غریب پر پڑتا ہے، جعلی اکاونٹس سے کالادھن سفید ہوا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا یہ پاکستان ہے ، یہاں پر ہر معاملہ پاک ہونا چاہیے ، یہ حرام کے پیسے تھے یہ رقم جن کی بھی ہے ، ناپاک اور حرام ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے سندھ حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے کچھ کیا تو نہیں چھوڑیں گے۔فاروق نائیک بولے کہ آصف زرداری نے کسی جعلی کاؤنٹ میں پیسے جمع نہیں کرائے،طارق سلطان کااکاؤنٹ اومنی گروپ کے ملازمین نے کھولا۔

مزید : قومی /جرم و انصاف /علاقائی /اسلام آباد /اہم خبریں