عمران خان کے الیکشن جیتنے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان وہ کام ہو گیا جو پچھلے 12سال سے نہ ہوا تھا، بڑی خوشخبری آ گئی

عمران خان کے الیکشن جیتنے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان وہ کام ہو گیا جو ...
عمران خان کے الیکشن جیتنے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان وہ کام ہو گیا جو پچھلے 12سال سے نہ ہوا تھا، بڑی خوشخبری آ گئی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان کے الیکشن جیتنے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ایسا کام ہو گیا ہے جو پچھلے 12سال سے نہ ہو سکا تھا۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق پاکستان اور بھارت کا ’کھوکھراپار، مناباﺅ‘ بارڈر گزشتہ 12سال سے بند تھا اور ایک لمحے کو بھی یہ گیٹ نہیں کھلا تھا۔اتنے عرصے بعد گزشتہ دنوں یہ گیٹ کچھ وقت کے لیے کھول دیا گیا۔ اس گیٹ کے کھولے جانے کی وجہ بھارتی خاتون ریشما کی موت تھی، جس کی میت اس کے لواحقین واپس بھارت لیجارہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ریشما بھارتی ریاست راجستھان کی رہائشی تھی۔ اس کے کچھ رشتہ دار پاکستان کے شہری ہیں اور سانگھڑ میں مقیم ہیں۔30جون کو ریشما اپنے بیٹے صاحب خان کے ہمراہ اپنے پاکستانی رشتہ داروں سے ملنے آئی تھی۔ انہیں 28جولائی کو واپس بھارت جانا تھا لیکن یہاں ریشما یہاں بیمار پڑ گئی اور 25جولائی کو اس کی موت واقع ہو گئی۔ اس کی میت واپس لیجانے کے لیے کاغذی کارروائی پوری کرنے کے چکر میں ان کی ٹرین ’تھر ایکسپریس‘ چھوٹ گئی جو ہفتے میں صرف ایک بار ہی چلتی ہے۔

کاغذی کارروائی کے بعد انہیں سفر کی اجازت تو مل گئی لیکن اگلا چیلنج کھوکھرا پار، مناباﺅ بارڈر کا گیٹ کھلنا تھا، جو 1965ءکی جنگ کے بعد بند ہوا اور صرف 2006ءمیں ایک بار کھلا تھا۔ اس دوران بارڈر عبور کرنے کا واحد ذریعہ ’تھرایکسپریس‘ ہی تھی۔ تاہم جب ریشما کی میت بارڈر پر پہنچی تو حکام نے کچھ وقت کے لیے گیٹ کھول دیا اور رینجرز نے ریشما کی میت بی ایس ایف کے حوالے کی۔ ریشما کی میت کو واپس لیجانے میں بھارتی رکن اسمبلی مینویندر سنگھ نے خصوصی کردار ادا کیا۔

ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے مینویندر سنگھ کا کہنا تھا کہ ”میں پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے انسانیت کی خاطر بارڈر کا گیٹ کھولا۔“واضح رہے کہ جس طرح واہگہ بارڈر کے راستے لوگوں کو پیدل بھارت میں داخل ہونے اور وہاں سے پاکستان آنے کی اجازت ہے، اس طرح کھوکھراپارمناباﺅ بارڈر پر کسی کو پیدل سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس بارڈر پر صرف ٹرین کے ذریعے ہی سرحد عبور کی جا سکتی ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد