’میرے پروگرام کا یہ حصہ سنسر کردیاگیا اور ۔ ۔ ۔‘معروف صحافی طلعت حسین نے سینسر ہونیوالا کلپ سوشل میڈیا پر چلادیا

06 اگست 2018 (13:24)

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سلیم صافی کے بعد سینئر صحافی طلعت حسین کا پروگرام بھی سنسر کردیا گیا اوراے این پی کے رہنماءزاہد خان کا موقف پروگرام سے غائب کردیاگیا جس کا مختصراً جائزہ زاہد حسین کی زبانی پیش کرتے ہوئے طلعت حسین نے ویڈیو ٹوئٹر پر شیئرکردی۔ طلعت حسین نے زاہد خان سے ذاتی حیثیت میں معذرت کرتے ہوئے لکھاکہ میں آج کے پروگرام میں بھی میزبانوں سے ایسا ہی کہوں گا۔

ویڈیو میں زاہدخان نے بتایاکہ ’ جیو نیوز کیلئے طلعت حسین کا پروگرام ہوا تھا، ہم تین لوگ تھے اور الیکشن کے بارے میں میں نے تمام حقائق بیان کردیئے ، رات کو جب پروگرام شروع ہوا تو میں بیٹھ گیا لیکن اس وقت تعجب ہوا جب میری تمام باتیں کاٹ دی گئیں، میں نے جیو کی انتظامیہ سے رابطہ کیاتو بتایاگیا کہ بہت دباﺅ ہے ، یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں میڈیا آج اکیسویں صدی میں بھی آزاد نہیں، ڈکٹیشن دینے والے کیوں عوام کی آواز دباتے ہیں، میں نے مجموعی صورتحال پر بات کی تھی کہ آج نیب اس طرح استعمال ہورہا جیسے ایک ڈکٹیٹر کے دور میں استعمال ہورہاہو،نیب خود بھی ایک کرپٹ ادارہ ہے ،عدلیہ پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں اورالیکشن میں کی گئی فوج کی بدنامی ساری دنیا کے سامنے ہے ‘۔

زاہد خان کاکہناتھاکہ ’میرے پولنگ ایجنٹس کو بارہ ایک بجے نکال دیاگیا، اگر کوئی ایسا ادارہ ہے جو ثبوت مانے تو میں پیش کرسکتاہوں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت کوئی ادارہ نہیں جو سچ مانے اور سچ قوم کو بتادے، آج عوام سچ سننا بھی چاہتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کے علاوہ کوئی فورم نہیں، الیکشن میں جتنی دھاندلی ہوئی ، شاید اتنی تاریخ میں نہیں ہوئی ، اس الیکشن کی وجہ سے سارے ادارے بدنام ہوئے، اب کوئی ادارہ نہیں جس پر اعتماد ہوکہ وہاں جائے تو انصاف ملے گا، انصا ف کی توقع نہیں، اگر الیکٹرانک میڈیا پر پابندی ہے تو وہ اپنے آپ کو آزاد میڈیا نہ کہے ، اگر جن لوگوں کو ٹاک شوز میں بلاتے ہیں، ان کی آواز قوم تک پہنچائے ، نہیں پہنچا سکتا تو صاف بتادے کہ ہم پر قدغن ہے‘۔

مزیدخبریں