تھر کے باسی صحت کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم، نو سال کا عرصہ گذر جانے کےباوجود دل کا کورونری کیئر یونٹ ہسپتال شروع نہ ہو سکا

06 اگست 2018 (14:16)

عمرکوٹ (سید ریحان شبیر) گیارہ لاکھ سے زائد نفوس آبادی کا شہر عمرکوٹ میں صحت کی بنیادی سہولیات کا شدید فقدان "9" نو سال کا عرصہ گذر جانے کےبعد بھی  دل کا کورونری کیئر یونٹ اسپتال شروع نہ ہو سکا نہ ہی  ضلع کے واحد ڈاہیلاسز سینٹر کو مزید ڈاہیلاسز مشینیں نہیں ملی غریب لوگ نجی اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور  عمرکوٹ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسیر   ڈاکٹر سلیم شیخ  کا کہنا ہےکہ ہم اپنے محدود وسائل میں مریضوں کو  ہرممکن صحت    کی سہولیات فراہم کررہے ہیں ہمارا محدود بجٹ ہے  کوشش ہےکہ کارکردگی کوزیادہ سے زیادہ  بہتر بنایا جائے " ڈیلی پاکستان آن لائن     "کو ملنے والی تفصیلات کےمطابق پاکستان کا تاریخی شہر عمرکوٹ اس وقت انگنت مسائل سے دوچار ہے ۔

ضلع میں صحت کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے عمرکوٹ سول اسپتال میں خواتین ڈاکٹرز اور مختلف امراض کے ماہر ڈاکٹرز کی شدید قلت ہے خصوصاً حاملہ خواتین کو زچگی کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے "ڈیلی پاکستان  "کے ذرائع مطابق اس وقت محکمہ ہیلتھ عمرکوٹ میں تین سو "300"کے قریب مختلف آسامیاں خالی ہے جبکہ سول اسپتال عمرکوٹ میں "59"کے قریب مختلف آسامیاں خالی ہے ستم ظریفی سال "2009"میں اس وقت کی ضلع حکومت نے عمرکوٹ میں دل کے امراض کےلیے ایک دل کے کر رونری کیئر یونٹ اسپتال کی بلڈنگ تعمیر کی گئی مگر افسوس کہ گذشتہ نو "9"سال سے زائد عرصہ گذر جانے کے بعد بھی دل کا یہ کررونری کیئر یونٹ اسپتال ورکنگ میں نہیں آسکاہے بتایا جاتا  ہےکہ اس  کررونری کیئر یونٹ کی  ایس این ای  منظور نہیں ہے ۔

محکمہ ہیلتھ عمرکوٹ کے  ذرائع  مطابق مورخہ 2-7-2018 کو  ڈسٹرکٹ  ہیلتھ آفسیر نے اپنے ایک لیٹر نمبرno :dho  /ukot   /ell  /6718/20کے تحت سکریٹری ہیلتھ کراچی کو عمرکوٹ کررونری کیئر دل کے یونٹ کی کل مجموعی طور پر"380232500 "  روپے کی ایس این ای کی منظوری کےلیے لیٹر لکھا ہے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسیر نے سکریٹری ہیلتھ کراچی کو  عمرکوٹ ضلع کی  مختلف ڈسپنسریوں جن میں  "سومار خان چاکرخان "عبدالحکیم ہالیپوٹہ "سرمت رند،شاہی خان رند ،رحیم ہالیپوٹہ ،اور سموں سمان    ڈسپنسری کی  ایس این ای کی  بھی منظوری کےلیے  لکھا  ہےمگر    افسوس کہ تاحال اس پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی غریب دل کے مریض پرائیویٹ اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہے اسطرح سندھ حکومت نے عمرکوٹ کے نذدیک ویرو بائی پاس کے یہاں ایک ارب روپے کے خطیر بجٹ سے ڈسٹرکٹ اسپتال عمرکوٹ کی تین سو بیڈ پر مشتمل جدید بلڈنگ کی تعمیر کا کام کئی سال سے جاری ہے مگر افسوس کہ کئی سال گذر جانے کے باوجود ڈسٹرکٹ سول اسپتال کی بلڈنگ مکمل نہیں ہوسکی ہے ۔

یہ امر قابل ذکر ہے سندھ میں گذشتہ دس سال سے پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اب صوبے میں ایک بار پھر پیپلزپارٹی کی حکومت بننے جاری ہے گذشتہ حکومت میں اس وقت کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں تعلیم صحت وغیرہ کے حوالے سے ایمرجنسی لگارکھی تھی یہ صرف ایک ضلع کاحال ہے عمرکوٹ ضلع میں گردوں کی صفائی واحد ڈاہیلاسز سینٹر عمرکوٹ میں ہے مگر اس ڈاہیلاسز سینٹر میں صرف دو ڈاہیلاسز مشین ہےجو مریضوں کی تعداد کے حوالے سے ناکافی ہے جس کے باعث ڈاہیلاسز کے مریضوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے "ڈیلی پاکستان  "کو معلوم ہوا ہے کہ ایک ماہ ساٹھ سے ستر مریضوں کی ڈاہیلاسز کی جاتی ہے اس وقت اس ڈاہیلاسز سینٹر میں کم ازکم دو سے چار ڈاہیلاسز مشینوں کی فوری ضرورت ہے عمرکوٹ تھر کا گیٹ ہے جس کے باعث تھر سے بھی مریضوں کی بڑی تعداد آتی ہے "ڈیلی پاکستان آن لائن    "کے رابطہ کرنے پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسیر ڈاکٹر سلیم شیخ نےبتایا کہ مجھے ابھی چارج لیے تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے میری ہرممکن کوشش ہےکہ ضلع عوام کو صحت کی زیادہ سے زیادہ بنیادی سہولیات فراہم کی جائے وہ خود ضلع کے تمام چھوٹے بڑے اسپتالوں اور ڈسپنسری کو مانیٹر کررہے ہیں اب نئی حکومت آئی ہے ہم نے عمرکوٹ کے دل کے کررونری کیئر یونٹ کی اور دیگر  ڈسپنسریوں کی نئی ایس این ای کی منظوری کےلیے لیٹر لکھے ہیں عمرکوٹ کے عوامی سماجی حلقوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہےکہ عمرکوٹ دل کے یونٹ کی ایس این ای منظور کرکے دل کا  کررونری کیئر یونٹ شروع کیا جائے اور عمرکوٹ ڈاہیلاسز سینٹر کو مزید ڈاہیلاسز مشینیں فراہم کی جائے ۔

مزیدخبریں