” عمران خان فوری طورپر کوئی سیکیورٹی اجلاس نہیں بلائیں گے اور اس سے یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ۔۔۔“ سینئر صحافی حامد میر نے انتہائی حیران کن بات بتادی

” عمران خان فوری طورپر کوئی سیکیورٹی اجلاس نہیں بلائیں گے اور اس سے یہ تاثر ...
” عمران خان فوری طورپر کوئی سیکیورٹی اجلاس نہیں بلائیں گے اور اس سے یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ۔۔۔“ سینئر صحافی حامد میر نے انتہائی حیران کن بات بتادی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی کے چیئرمین عمران خان کو وزیر اعظم کے لیے نامزد کرنے پر سینئرصحافی اورتجزیہ کارحامدکا کہنا تھا کہ جو بھی جماعت الیکشن میں کامیاب ہوتی ہے وہ پارٹی کی طرف سے وزیراعظم کا امیدوار نامزد کرتی ہے لیکن عمران خان نے اس میں بہت زیادہ وقت لیا اس کی ایک وجہ ابھی تک الیکشن کمیشن کی جانب سے کامیابی کا نوٹفیکیشن جاری نہ کرنا بھی ہے ۔حامد میر نے کہا کہ جب شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے تو ہر ہفتے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا جاتا تھا لیکن عمران خان کو اکثر اداروں کا اعتماد حاصل ہے اس لیے اس طرح قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس نظر نہیں آئیں گے اور سارے فیصلوں کی منظوری وفاقی کابینہ دے گی ، اس طرح عمران خان یہ تاثر دور کرنے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی منتخب حکومت نہیں چلارہی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کو 2002،2003میں امریکی پالیسیاں کی مخالفت پر سیاسی پذیرائی ملی اور عمران خان  کہاکرتے تھے کہ یہ امریکا کی جنگ ہماری نہیں اور ہمیں کسی سے ڈیکٹیشن نہیں لینی اور اب انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا، وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ کو مل کر چلنا ہوگا، اندرونی سلامتی پر بھی تمام اداروں کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد