بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکہ میدان جنگ بن گیا، جگہ جگہ مظاہرے، سینکڑوں بسیں جلا دی گئیں، کئی لڑکیوں کا ریپ کر دیا گیا، لیکن یہ سب کچھ کیوں؟ وجہ جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا

بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکہ میدان جنگ بن گیا، جگہ جگہ مظاہرے، سینکڑوں بسیں ...
بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکہ میدان جنگ بن گیا، جگہ جگہ مظاہرے، سینکڑوں بسیں جلا دی گئیں، کئی لڑکیوں کا ریپ کر دیا گیا، لیکن یہ سب کچھ کیوں؟ وجہ جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ڈھاکہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکہ ان دنوں میدان جنگ بنا ہوا ہے جہاں ہزاروں طلباءو طالبات جگہ جگہ مظاہرے کر رہے ہیں اور بسوں کو آگ لگا رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ان مظاہروں کا آغاز 29جولائی کو ہوا جب ایک بس ڈرائیور نے دوسری بس کے ساتھ ریس لگاتے ہوئے سٹاپ پر کھڑے طالب علموں کو کچل دیا جن میں سے 2جاں بحق اور درجن سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔ اس طلبہ ڈھاکہ کی سڑکوں کی ناقص حالت اور آئے روز کے ٹریفک حادثات کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم معاملات اس وقت زیادہ خراب ہوئے جب پولیس نے ان طلبہ کو بدترین لاٹھی چارج کا نشانہ بناڈالا اور اس کام میں حکومت کی حامی سٹوڈنٹ یونین کے طالب علم بھی پولیس کے ہمراہ تھے۔ اس سے اگلے روز احتجاج میں شریک ہونے پر 4طالبات کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا گیا۔ اب تک مڈل اور ہائی سکول کے طلبہ یہ احتجاج کر رہے تھے لیکن طالبات کو زیادتی کا نشانہ بنائے جانے پر یونیورسٹیوں کے طالب علم بھی ان کے ساتھ مل گئے اور اب ان لوگوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر مستعفی ہو جائے۔

ایک اندازے کے مطابق 15ہزار سے زائد طلبہ سڑکوں پر ہیں اور ہر گزرنے والی بس کو نذرآتش کر رہے ہیں۔ اب تک وہ ساڑھے تین سو سے زائد بسیں جلا چکے ہیں اور ان پرتشدد کارروائیوں میں طلبہ اور مسافروں سمیت تین سو سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ان طلبہ کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ یونین کا سربراہ ایک وزیر ہے جس کی وجہ سے کوئی بس ڈرائیوروں کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ وہ سڑکوں پر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لوگوں کو روند ڈالتے ہیں لیکن کبھی ان میں سے ایک بھی گرفتار نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ ڈھاکہ ہی نہیں بلکہ پورے بنگلہ دیش میں سڑکوں کی صورتحال انتہائی ناقص ہے جس کے باعث ٹریفک حادثات کی شرح ہوشربا حد کو چھو رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں 7ہزار 400افراد ٹریفک حادثات میں جان کی بازی ہار گئے جبکہ 16ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

مزید : بین الاقوامی