چودھری شجاعت کی سیاست

چودھری شجاعت کی سیاست
چودھری شجاعت کی سیاست

  

مجھے اپنے صحافتی کیرئیر میں چوہدری شجاعت کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ ان کی شخصیت میں مفاہمت کا عنصر اور وضع داری آصف علی زرداری سے بھی زیادہ پائی جاتی ہے جبکہ ان کا ویژن بھی محدودنہیں ۔وہ بہت دور کی سوچ کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے درد دل رکھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ انکی مفاہمت اور ملک پرستی کے باعث بہت سے موسمی مینڈک انہیں چھوڑ چکے تھے ۔یہ موسمی مینڈک اب کہیں کے بھی نہیں رہے۔چودھری شجاعت اب ضمنی الیکشن کے ذریعے پارلیمنٹ میں واپس آ رہے ہیں۔

چودھری شجاعت حسین کو انتخابی سیاست میں واپس لانے کیلئے جس نے بھی یہ کام کیا ہے اس نے ملکی سیاست پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ چوہدری شجاعت حسین پاکستان کی سیاست کے زندہ لیجنڈ ہیں اور اب تو سیاست میں قحط الرجال ہے اور ایسا گند مچ چکا ہے کہ چوہدری صاحب جیسے وضع دار اور خاندانی سیاست دان خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ملک کی سیاست میں بہت ساری تبدیلیاں آچکی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اس ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر منصہ شہود پر اجاگر ہو چکی ہے۔میاں نواز شریف اور بھٹو کی جماعت کو عوام نے ایک بار پھر محدود کر دیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ق) میں ایک بار پھر جان پڑ چکی ہے۔ عام انتخابات کے بعد مستقبل کے لیے نئے اور مضبوط اتحاد بن رہے ہیں۔مسلم لیگ(ق) پہلے ہی تحریک انصاف کی اتحادی ہے اور اب یہ اتحاد حکومتوں میں بھی نظر آ ئے گا۔ گو تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت ہے مگر اس وقت عوامی مینڈیٹ بٹا ہوا ہے۔ان حالات میں لوگ مشورے دے رہے تھے کہ چودھری پرویز الہیٰ کو تحریک انصاف سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ حاصل کرنی چاہئے۔مگر یہ چودھری شجاعت حسین کا تدبر اور فراست تھی کہ انہوں نے برملا کہا کہ ہم عمران خان کے اتحادی ہیں ،ان کا ساتھ دیں گے اور وہ جو بھی فیصلے کریں گے ہم قبول کریں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب میں اس وقت وزارت اعلیٰ کیلئے چودھری پرویز الہیٰ سے بہتر شاید ہی کوئی اور شخص ہو۔وہ بہترین انتطامی صلاحیتوں کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ ارکان اسمبلی اور بیوروکریسی کو اپنے ساتھ چلانے کا فن جانتے ہیں۔وہ سیاستدان ہیں مگر وضعداری بھی نبھانا جانتے ہیں۔ بحرحال پی ٹی آئی صوبے کی بڑی جبکہ مسلم لیگ(ق) ایک چھوٹی جماعت ہے مگر اس چھوٹی جماعت کے لیڈر بڑے بلکہ بہت بڑے ہیں۔عمران خان کی طرف سے اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرنا ان کا حق ہے۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں کچھ ایسے واقعات رونما ہونا شروع ہوچکے ہیں جنہیں سیاسی معجزے کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔شریف سیاست کہاں ہے ؟سب جان چکے ہیں۔موجودہ حالات میں ایک فقرہ سب سے زیادہ دلچسپ ہے کہ آنے والی حکومتیں ایک طویل عرصے بعد ڈیزل کے بغیر چلیں گی۔

ملک کے موجودہ حالات میں یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ حکومت میں چوہدری برادران کا کیا کردار ہو گا لیکن ایک امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اب آنے والے وقت میں چوہدری صاحب کے ٹریکٹر کے ساتھ ٹرالی لگ چکی ہے اور اس میں بیٹھنے کے لئے لوگ بھی آ رہے ہیں ۔ 

چوہدری شجاعت حسین نے گزشتہ ایک دہائی میں پنجاب اور ملکی سیاست میں ن لیگ کی مخالفت کا سامنا جس دیدہ دلیری سے کیا ہے اس نے مخالفین کو بھی حیران کردیا ہے۔ دوسرا ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کے ساتھ رہنے والے یا ساتھ چھوڑ کر جانے والے سب ہی ان کی دوستی اور وضع داری کی تعریف کرتے ہیں۔پاکستان کی سیاست کا سچ تو یہ ہے کہ اس وقت جمہوریت کو ایسے دوراندیش اور قابل سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو اپنی بالغ النظری سے قوم کو کھٹن اقتصادی حالات اور بین الاقوامی سازشوں سے بچا کرآگے لے کر چل سکیں۔چودھری شجاعت حسین کا الیکشن لڑنے کیلئے آمادگی کا اظہار سیاست میں خوش آئیند بات ہے۔پارلیمنٹ کو انکی ضرورت ہے۔ان کے پارلیمنٹ میں واپس آنے سے سیاست میں وہ تلخی کم ہو گی جو ان دنوں بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ 

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ