فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر489

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر489
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر489

  

غالباً 1968ء میں جب ہم اعصابی تناؤ کی شکایت میں مبتلا ہو کر ہسپتال گئے تو معلوم ہوا کہ برابر کے کمرے میں اداکارہ کومل براجمان ہیں۔ انہوں نے ہمارے متعلق سنا تو اپنی والدہ کے ہمراہ مزاج پرسی کے لیے آئیں۔ اگلے دن نذیر اجمیری صاحب بھی ہمارے کمرے میں تشریف لائے۔ وہ کومل کی بیماری کی وجہ سے خاصے پریشان تھے۔ ہم نے ڈاکٹروں اور نرسوں سے تمام معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ کوئی قابل ذکر بیماری نہیں ہے۔ ہم نے نذیر صاحب کو تسلی دی مگر انہیں اطمینان نہ ہوسکا۔ اس زمانے میں نذیر اجمیری صاحب سے ہماری بہت زیادہ ملاقات رہی۔ وہ اکثر ہمارے کمرے میں آجاتے تھے۔ ہمیں بھی کوئی کام نہ تھا اس لیے اطمینان سے ادھر ادھر کی باتیں ہوتی تھیں۔ 

انہوں نے اپنے بمبئی کے تجربات سنائے اور اپنی زندگی کے نشیب و فراز اور تجربات سے بھی آگاہ کیا۔ وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بات کرتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کہانی نویسی اور ہدایت کاری پر انہیں عبور حاصل تھا۔ وہ صحیح معنوں میں ایک ہنر مند تھے۔ افسوس کہ پاکستان کی فلمی صنعت نے ان کی قدرنہ کی اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ یو سی ایچ میں ملاقاتوں کے بعد ہماری ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ 

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر488 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔ 

ان کے بعد پاکستان آنے والوں میں ایم صادق ایک قابلِ ذکر نام ہیں جو فلمی حلقوں میں بابو صادق کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ وہ کاردار صاحب کے ہونہار شاگردوں میں سے تھے۔ انہوں نے اور ایس یو سنی نے بطور ہدایت کار بہت سی کامیاب فلمیں بنائی تھیں۔ حالات کا جبرا نہیں بھی لاہور لے آیا۔وہ اسی خطے کے رہنے والے تھے مگر طویل عرصے تک بمبئی میں رہنے کی وجہ سے اپنے ہی وطن میں اجنبی تھے۔ انہوں نے ’’ بہارو پھول برساؤ‘‘ کے نام سے ایک فلم شروع کی تھی۔ ابھی وہ نامکمل ہی تھی کہ وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہوئے اور انتقال کر گئے۔ عام خیال یہ ہے کہ وہ مقامی فلم والوں کے طریقہ کار اور اداکاروں کے سلوک کی وجہ سے بہت دل برداشتہ ہوگئے تھے اور یہی ان کی وفات کا سبب بن گیا۔ وجہ کچھ بھی ہو، مرنے کے تو بہانے بن جاتے ہیں۔ موت اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ ممکن ہے اگر وہ بدولی اور مایوسی کا شکار نہ ہوتے تو ایک کامیاب اور خوش و خرم انسان کی حیثیت سے جان دیتے۔ دل کی بیماری نے اچانک انہیں ایسا گھیرا کہ پھر اس کے پھندے سے نہ نکل سکے۔ 

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا۔ 

یہ مکمل شعر بھی سن لیجئے۔ 

الٰہی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا 

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا 

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ شاعر کا ارشاد ہارٹ کی بیماری کی جانب نہیں ہے۔ اس زمانے میں یہ بیماری عام نہیں ہوئی تھی لیکن شاعر عموماً بیماری دل کا رونا روتے رہتے تھے جس سے ان کی مراد محبت میں ناکامی ہوا کرتی تھی۔ لیکن اب زمانہ ایسا بدلا ہے کہ شاعر بھی سچ مچ دل کی بیماری میں مبتلا ہو کر جان دیتے ہیں۔ 

متذکرہ بالا شعر فانی بدایونی کا خوبصورت کلام ہے جو زندگی بھر حزن و ملال اور مایوسی و محرومی کا شکار رہے اور مجسم اس کی تصویر بن کر رہ گئے تھے۔ انہیں کیا علم تھا کہ ایک زمانے میں یہ ایک حقیقی بیماری بن جائے گی جس میں لوگوں کی اکثریت مبتلا ہوگی۔ 

***

انسانوں کی طرح بعض عمارتیں بھی ایک انفرادی اور ممتاز شخصیت کی حامل ہوتی ہیں۔ قدیم تاریخی عمارتوں کا ذکر نہیں ہے جدید دور کی کئی عمارتیں بھی بعض حوالوں سے تاریخی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ 

ایک زمانہ تھا جب سنیما کو ہر ایک کی زندگی میں ایک اہم مقام حاصل تھا۔ پاکستان کے بڑے شہروں، خصوصاً کراچی اور لاہور میں قیام پاکستان سے قبل کے کئی بہت اچھے سنیماگھر تھے جن کے بعد میں بھی بہت حفاظت سے رکھا گیا اور فلم بینوں کے لیے تفریح اور مجلسی سرگرمیوں کا مرکز بن گئے تھے۔ جب فلمی صنعت نے ترقی کی تو سنیما گھروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ کراچی اور لاہور کی فلمی صنعت کے مراکز تھے اس لیے یہاں بہت خوبصورت اور معیاری سنیما گھر تعمیر کے گئے۔ ان کی دلکشی کا یہ عالم تھا کہ فلم دیکھنے کے علاوہ بہت سے لوگ اس خوبصورت ماحول کو دیکھنے کے علاوہ بہت سے لوگ اس خوبصورت ماحول کو دیکھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے ان سنیما گھروں میں جایا کرتے تھے اور ان کے صاف ستھرے ریستورانوں میں چائے کافی سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ یہاں انہیں بہت سے ملاقاتی نظر آجاتے تھے جو فلم دیکھنے آتے تھے یا دیکھ کر جاتے وقت ہیلو ہیلو ہوجاتی تھی۔ صاف شفاف خوبصورت عمارتیں ، خوش پوش فلم بینوں اور خوش جمال خواتین کے ملبوسات سے مہکتے ہوئے ہال اور لابیاں یہ بجائے خود ایک حسین اور دلچسپ مشغلہ بن گیا تھا۔ مگر یہ دورِ رفتہ کی کہانیاں ہیں جو شاید اب کبھی لوٹ نہ آئے گا۔ نئی نسل تو اس کی لطافتوں اور حسن کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتی کیونکہ اب ماحول، طور طریقے، مجلس آداب اور فلموں کے معیار ہی بالکل تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں۔ آج کے نوجوان اس حسین اور یادگار وقت کا اندازہ تک نہیں لگا سکتے جس سے ان سے پہلی والی نسلیں تہذیبی ، سماجی ، روحانی اورذہنی طور پر سیراب ہوتی رہی ہیں۔ ہمارے جوانی کے زمانے میں سنیما جانا اور فلم دیکھنا محض تفریح ہی نہیں تھی ، اس کا ایک تہذیبی اور ثقافتی ضڑورت سمجھا جاتا تھا۔ اس زمانے میں فلموں کا معیار اور موضوعات بھی بہت اچھے، دلچسپ ، معاشرتی اور معلوماتی ہوتے تھے۔ تفریح کے ساتھ ساتھ یہ سب چیزیں بھی مل جاتی تھیں۔ ہالی ووڈ کی فلموں میں امریکا کے ابتدائی دور اور ریڈ انڈین عہد کی کہانیاں بھی کثرت سے فلمائی جاتی تھیں۔ ان فلموں میں ریڈ ایڈین لوگوں کو عموماً جنگلی ، وحشی اور ظالم دکھایا جاتاتھا جو محض تیر کمان اور خنجروں کی مدد سے بندوقوں اور پستولوں سے سے مسلح افریکیوں پر چڑھ دوڑے تھے۔ یہ پہلو بہت کم اجاگر کیا جاتا تھا کہ جب یورپین لوگ امریکا پہنچے تو انہوں نے مقامی لوگوں کی زمینوں اور وسائل پر قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ آغاز میں یہ ایک نوآبادی تھا جسے بعد میں آزادی کی جنگ لڑنے کے بعد جارج واشنگٹن نے آزاد ملک بنایا تھا۔ امریکی اب یہ حقیقت فراموش کر بیٹحے ہیں کہ اپنی آزادی کے لیے جنگ کرنا ہر قوم کا حق ہے اور یہ حق اقوامِ متحدہ کے منشور میں بھی تسلیم کیا گیا ہے لیکن اب آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو دہشت گرو کہاجاتا ہے۔ فلسطین اسرائیل نے قبضہ جمالیا ہے اور مزید پاؤں پھیلا رہا ہے۔ فلسطینی اپنے حق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں تو دہشت گرد قرار پاتے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ کشمیر میں بھی ہے جس بھارت نے زبردستی قبضہ جما رکھا ہے اور ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ کشمیری حیرت پسندوں کی جدوجہد کو بھی دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے۔ امریکا نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے نظریات بھی تبدیل کر لیے ہیں اور ڈنڈے کے زور سے من مانی کر رہا ہے۔ اب ہر چیز کا فیصلہ اور تعین امریکا کرتا ہے۔ وہی معاملہ ہے کہ 

خر د کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد 

جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے

تذکرہ امریکی فلموں کا ہورہا تھا۔ ان فلموں مین ریڈ انڈینز بہرحال پسماندہ ہونے کی وجہ سے شکست کھاتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ سمٹ کر جنگلوں اور مخصوص علاقوں تک محددو ہو کر رہ گئے اور سارے ملک پر گوروں کا راج ہوگیا لیکن فلم دیکھنے والوں کو اس زمانے کے امریکا اور وہاں جا کر آباد ہونے والوں کی سخت جدوجہد اور مشکلات کے ساتھ ساتھ یہ بھی اندازہ ہوجاتا تھا کہ ریڈ انڈینز کا کلچر کیا تھا۔ وہ کس طرح رہا کرے تے۔ ان کی رسومات اور عادات و اطوار کیسی تھی۔ فلمی مبالغے کی گنجائش تو اپنی جگہ لیکن اس کے باوجود یہ فلمیں دیکھنے والوں کی تفریح کے علاوہ اس زمانے کی تاریخ اور ثقافت سے بھی آگاہ کرتی تھی۔ 

ویسٹرن فلموں میں دھنا دھن اور گولیوں کی جنگیں ، غنڈے ، بدمعاش اور معاشرے پر ان کے اثرات ، اچھے لوگ ، بری آدمی، آوارہ عورتیں، طوائفیں ، جرائم پیشہ۔ نیک اور فرض شناس شہری۔ پولیس کا نظام جس کو شیرف کے ذریعے چلایا جاتا تھا۔ یہ سب کچھ ان فلموں میں تفریحی اور دلچسپ انداز میں پیش کیا جاتا تھا۔ ہیرو عموماً بہادراور بے خوف ہوتا تھا۔ ویلن بدمعاش اور انتہائی بداطوار لیکن ان فلموں دیکھنے والوں کو اس دور کے امریکی معاشرے، رسومات اور طرز حکومت کا اندازہ ہوجاتا تھا۔ اگرچہ جرئم کا دور دورہ تھا لیکن پولیس کا شیرف اس کے باوجود بے حد بااختیار افسر ہوتا تھا جس کے خلاف بڑے سے بڑا مجرم بھی ہتھیار اٹھاتے ہوئے ہچکچاتا تھا۔ یہ قانون بھی تھا کہ دو آدمیوں میں سے کسی نے پہلے پستول نکالا مگر دوسرے شخص نے اسے پھرتی سے گولی چلا کر ہلاک کر دیا تو یہ حفاظت خود اختیاری کے تحت جرم نہیں تھا۔ عموماً سچ آتے تھے۔ برے کو سب برا سمجھتے تھے۔ اس زمانے کی ایک مکمل تصویر فلم بین کے سامنے آجاتی ہے۔ گویا فلمی کہانیوں کے ذریعے ہم امریکی تاریخ اور ثقافت کا ایک اور عہد دیکھ لیتے ہیں۔ 

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ