اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 7

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 7

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میں نے ان تبدیلیوں کا ذکر حباش سے نہیں کیاتھا۔ حباش کو رخصت کرنے کے بعد ، میں بستر پر لیٹا، نیند کا انتظار کر رہا تھا مگر نیند نہیں آئی تھی۔ میں ان تعجب خیز ، غیر انسانی تبدیلیوں کو حیرت کے ساتھ محسوس کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ میں نے اس زمانے کے تانبے کے آئینے میں اپنے چہرے کے ایک ایک نقش کو گہرے نگاہ سے دیکھا تھا۔ میرے چہرے کا ہر نقش جوان اور زندگی کی حرارت سے بھرپور تھا۔ میں تیس پینتیس برس کا چوڑے شانوں اور اونچے قد کا بھرپور جوان تھا اور میری صحت قابل رشک تھی۔

کیا میں کبھی بوڑھا نہیں ہوں گا؟ کیا میں بہت عرصے تک زندہ رہوں گا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وقت کے کسی مقام پر میں اچانک بوڑھا ہو کر مٹی کا ڈھیر بن جاؤں۔

اس نوع کے خیالات بھی مجھے پریشان کر رہے تھے۔ مجھے بار بار اپنی سمار اکا خیال آرہا تھا۔ کاش ! وہ بھی میرے ساتھ اسی طرح جوان رہتی اور کبھی بوڑھی نہ ہوتی۔۔۔ مگر قدرت کو جومنظور تھا، وہ ہو رہا تھا اور میں اس میں ذرا سا بھی دخل نہیں دے سکتا تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 6پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں اپنے وطن عزیز قدیم مصر کے دارالحکومت ایتھنز سے نامعلوم مدت کے لئے جدا ہو رہا تھا۔۔۔ میں پچاس برس بعد اپنے پیارے وطن لوٹا تھا۔ میں ، وطن عزیزسے رخصت ہونے سے پہلے ، میں اس کے گلی کوچوں ، بازاروں ، کھیت کھلیانوں اور باغوں کی سیر کرنا چاہتا تھا جہاں میرا بچپن اور جوانی گزری تھی۔ میں دریائے نیل کے ساحل پر بھی گھومتا رہا۔ دریا میں شاہی بجرا چلا آرہا تھا۔ بجرے کی سونے کی چھت اور کنیزوں کے زیور مصر کی دھوپ میں چمک رہے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ کوئی شہزادی ، شاہی محل سے دریا کی سیر کے لیے نکلی ہے۔ میں دوسری طرف نکل گیا کیونکہ میں جان بوجھ کر کسی شاہی فرد کے سامنے نہیں آنا چاہتا تھا۔ اسی خیال سے میں نے شاہی محل کی طرف رخ بھی نہیں کیا تھا۔ میں اونچی نرسلوں کی اوٹ سے شاہی بجرے کو دریا کی پرسکون نیلی لہروں پرگزرتا دیکھتا رہا۔ کبھی میں اپنی والدہ کے ساتھ اسی شاہی بجرے پر سوار گرزتاتھا۔

میں ایتھنز کے گنجان بازاروں میں آگیا۔ میرا حلیہ طبیبوں والا تھا اور اس حلیے میں کوئی بھی مجھے نہیں پہچان سکتا تھا۔ ویسے بھی پچاس برس کے عرصے میں میرے جاننے والے مر کھپ چکے تھے۔ میں ایک عجمعی عطر فروش کی دکان کے قریب سے گزرا۔ یہاں کبھی ایک ادھیڑ عمر کا عطر فروش بیٹھا کرتا تھا۔ اب اس کی جگہ ، اس کا بیٹا بیٹھا تھا جو میرے بچپن کے زمانے میں جوان تھا لیکن اب خود ضعیف ہوچکا تھا۔ ایک بار میرا شہزادہ باپ، مجھے ساتھ لے کر ، اس دکان پر کوئی نادر عطر خریدنے آیا تھا جو اسے ایک خاص دوا میں ڈالنے کے لئے مطلوب تھا۔ عطر فروش نے غور سے میری طرف دیکھا۔ شاید اس نے مجھے پہچان لیا تھا۔ اگرچہ میرا لباس شاہانہ نہیں تھا لیکن میری شکل میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔ میں جلدی سے آگے بڑھ گیا۔ بازار کا موڑ گھومتے ہوئے میں نے مڑکر دیکھا۔ عطر فروش ابھی تک مجھے ٹکٹکی باندھے تک رہا تھا۔ میں نے کوئی خیال نہ کیا۔

میں واپس کارواں سرائے میں آگیا۔ میرا قافلہ اگلی صبح منہ اندھیرے ملک سندھ کی طرف روانہ ہونے والا تھا۔ میں نے ملک سندھ میں جا کر جڑی بوٹیوں کا کاروبار کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

کارواں سرائے میں ، کارواں تیار ہو رہا تھا۔ مسافر رخت سفر باندھ رہے تھے۔ آپ تو آج کل ہوائی جہازوں ، مرسیڈیز گاڑیوں اور تیز رفتار ریل گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں اور جیٹ طیاروں میں بیٹھ کر ایک دن میں ہزاروں کوس کا فاصلہ بے کر لیتے ہیں مگر جس زمانے کا میں ذکر کر رہا ہوں اور جس زمانے میں زندگی گزار چکا ہوں۔ اس زمانے میں اونٹوں کے قافلے، ریتلے صحرائی راستوں پر ، ستاروں کی روشنی مین چیونٹی کی رفتار سے سفر کرتے تھے۔ راستے میں ڈاکوؤں کا خطرہ رہتا تھا۔ دس فرسنگ کا فاصلہ ، بمشکل ایک رات میں بے ہوپاتا تھا۔

دن کی شدید صحرائی گرمی میں قافلے کسی سایہ دار مقام پر آرام کرتے اور سورج غروب ہوتے ہیں پھر سفر شروع کر دیتے۔ راستے میں کئی بار ڈاکے پڑتے، مسافروں کا سامان لوٹ کر انہیں قتل کر دیا جاتا۔ صحرائی راستوں کی بندھی ٹکی راہ تھی۔ قافلے ، اسی راستے پر سفر کرتے تھے۔ اگر صحرائی آندھی کے طوفان میں کوئی قافلہ راستے سے بھٹک جاتا تو پھر اس کا ساری زندگی کوئی سراغ نہیں ملتا تھا۔

اگر کبھی راتوں کو صحرا میں کسی نخلستان میں کوئی قافلہ پڑاؤ ڈالتا ہے تو وہاں جگہ جگہ مسافر الاؤ روشن کر لیتے ہیں اور ان کے گرد بیٹھ کر ، دار چینی کا مشروب پیتے ہوئے قصے کہانیاں سنان شروع کر دیتے ہیں۔

آج کے زمانے کی طرح جنگیں ، اس زمانے میں بھی ہوا کرتی تھیں۔ فاتح فوجیں، مفتوح شہروں کو لوٹ کر آگ لگا دیتیں اور شہریوں کے بے دریغ کر دیتی تھیں۔ نوجوان اور خوبصورت عورتوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر لے جاتے تھے۔۔۔ لیکن یہ قتل و غارب اور عورتوں پر ظلم و ستم تو آج بھی ہوتا ہے۔ میں نے 1947ء میں پاکستان بنتے وقت اپنی آنکھوں سے بچوں کو نیزوں میں پروئے جاتے اور لاکھوں عورتوں کو اغوا ہوتے دیکھا ہے ۔

ہٹلر کے وی ، ٹو اور بمبار طیاروں نے لندن اور چیکو سلواکیہ کے گلو کوچوں میں ، روسی اور امریکی بمبار طیاروں نے برلن اور ہمبرگ ایسے گنجان شہروں پر بمباری کر کے لاکھوں بے گناہ بچوں اور عورتوں کو موت کی نیند سلا دیا۔

آپ مجھے جھٹلا نہیں سکتے، میری کسی دلیل کو رد نہیں کر سکتے اس لئے کہ میں نے انسانی تاریخ کے ہر دور کو اپنی تمام تر حشر سامانیوں اور درندگیوں کے ساتھ اپنی آنکھوں کے سامنے بھی ۔۔۔ یوں بے چین ، پریشان حال ، سکون اور مسرت کی شادمانیوں سے محروم نہیں ہوا کرتے تھے۔ جب جنگ ہوتی تھی تو بھرپور جنگ ہوتی تھی لیکن جب امن ہوتا تھا تو لوگ ، شاخ گل کے سائے میں بے فکر ہو کر سوتے تھے۔

میں اپنی زندگی کی داستان بیان کرتے کرتے کہاں سے کہاں نکل گیاہوں۔ میں واپس، قدیم مصر کے دارالحکومت کی اس رات کی طرف آتا ہوں۔ جب صبح دم کارواں سرائے میں قافلے کے سندھ کی جانب کوچ کرنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ مجھے بھی اس قافلے کے ساتھ سفر کرنا تھا۔ ابھی قافلے کے روانہ ہونے میں ایک پہر باقی تھا۔

میرے دل میں خیال آیا کہ جانے سے پہلے ایک بار اپنی والدہ اور والد کی قبروں پر ہو آؤں، ان کے مرقدوں کو ایک نظر دیکھ لوں پھر نہ جانے ، زندگی میں ادھر کا پھیرا لگے یا نہ لگے۔ چنانچہ میں اپنا تھیلا۔۔۔ کارواں سرائے کے مالک کے حوالے کیا اور گھوڑے پر سوار ہو کر ، پچھلی رات کی سحرانگیز تاریکی میں اہرام کی طرف روانہ ہوگیا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار