جشن آزادی پر جھنڈیاں بھی لہرائیں اور پودے بھی لگائیں 

06 اگست 2018 (19:45)

صابر ابو مریم

دنیا کی تمام ایسی آزاد ریاستیں کہ جو استعماری قوتوں کے شکنجہ سے جدوجہد آزادی کے نتیجہ میں ہزاروں قربانیوں کے ساتھ وجود میںآئی ہیں ان ریاستوں کی اقوام ہمیشہ اپنے آزادی کے دن کو انتہائی جوش و خروش اور عقیدت و احترام سے مناتی ہیں ، ان ریاستوں میں چین سمیت پاکستان ، ہندوستان اور دیگر کا شمارہوتا ہے کہ جہاں تحریک آزادی کی جدوجہد نظرآتی ہے۔

پاکستان 14اگست سنہ1947ء کو برطانوی و ہندوستانی سامراج کے چنگل سے نکل کر ایک آزاد اور خود مختار ریاست بنا، اس ریاست کے قیام کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے کس قدر قربانیاں پیش کی ہیں ۔ کسی بھی آزاد ریاست کا یوم آزادی انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ جس کے ذریعے نہ صرف اقوام کی بیداری بلکہ ان کے شعور کی بیداری کابھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کا یوم آزادی ہمیشہ سے ہی انتہائی جوش و جذبہ اور ولولہ انگیز طریقوں سے منایا جاتا رہاہے اور آج جب ہم پاکستان کے اکہترویں سالگرہ منانے والے ہیں تو ایسا محسوس ہو رہاہے کہ چند نا عاقبت اندیشوں کے ہاتھوں قوم کو شعور کی بیداری دینے کی بجائے ٹرک کی سرخ بتی کے پیچھے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گزشتہ دنوں پاکستان کے مختلف شہروں بالخصوص کراچی میں گرمی کی شدید لہر کا گزر ہوا اور اسی دوران یہ تحقیق بھی منظر عام پر آئی کہ ماضی میں شہر کے مئیر صاحب کی جانب سے لگائے جانے والوں دسیوں ہزار درخت جو کہ اس گرم آب و ہوا کا سبب بن رہے ہیں ، اب ان درختوں کو ختم کیا جائے اور ان کی جگہ دوسرے درخت لگا دئیے جائیں۔بس اس بات کا میڈیا پر نشر ہونا تھا کہ ہماری ہی صفوں میں موجود چند ناعاقبت اندیشوں نے سوشل میڈیا پر پاکستان کے یوم آزادی سے دو سے تین ماہ قبل ہی مہم کا آغاز کر ڈالا کہ اس برس قوم پاکستان کے سبز ہلالی پرچم اور جھنڈیوں سے شہروں اور قصبوں کو مت سجائیں بلکہ درخت لگا دیں، اگر دیکھا جائے تو سادہ لوح عوام کے لئے یہ ایک دلفریب نعرہ ہے کہ جو تیزی کے ساتھ عوام کو اپنی جانب کھینچنے کا کام کرتا ہے لیکن حقیقت میں یہ نعرہ قوم کے اندر بیدار جذبہ حریت پسندی کو ناپید کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔

اسلامی نقطہ نگاہ سے بھی دیکھا جائے تو شجر کاری ہو یا پھراقوام کے افراد میں جذبہ حب الوطنی کی بات ہو دونوں ہی اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔لیکن سمجھ سے بالا تر بات یہ ہے کہ آخر کیوں اس طرح کی سوشل میڈیا مہم کی ضرورت پیش آتی ہے کہ قوم کو یوم آزادی کے عنوان سے کسی بھی کام سے روکنا اور اس کا تقابل ایک درخت یا پودا لگانے سے کرنا کس طرح انصاف کو تقاضوں کو پورا کرتا ہے ؟ ہر گز نہیں!

موجودہ زمانے میں دشمن ہم پر مختلف طریقوں سے حملہ آور ہے، ایک حملہ تو براہ راست جنگی حملہ ہے کہ جس کا نقصان چند ایک جوانوں کی شہادت اور دیگر نقصانات کی صورت میں سامنے آتا ہے جبکہ دوسرا حملہ جو کہ دراصل بڑا اور سنگین حملہ ہے وہ دشمن کی طرف سے ہماری ثقافت اور حریت پسندی پر حملہ ہے کہ جس کو نت نئے انداز اور بہانوں سے بروئے کار لا یا جا رہاہے۔ایسے حالات میں کہ جب افغانستان میں داعش جیسی منحوس امریکی و اسرائیلی دہشت گردتنظیم اپنے قدم جما کر پاکستان کے خلاف سنگین سازشوں میں مصروف عمل ہے تو دوسری طرف پاکستان میں موجود دشمن کے ایجنٹ افواج پاکستان کے خلاف سنگین نوعیت کی الزام تراشیاں اور بے بنیاد منفی پراپیگنڈا کر کے پاکستان کی مضبوط اور طاقتور افواج کو کمزور کرنے کی گھناؤنی سازشوں پر عمل پیرا ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے ہی عناصر اور ان کے ایجنٹ قوم کے اندر سے دلفریب نعروں کی صورت میں جذبہ حب الوطنی کو نابود کرنے کے در پہ ہیں تاکہ جس قوم میں حب الوطنی کا جذبہ ہی نہ ہو گا تو وہ اپنے وطن اور وطن کی ترقی کے بارے میں کیا سوچ بچار کر پائے گی۔ایسے ہی دلفریب نعروں میں سے ایک نعر ہ جو یوم آزادی کی آمد سے چند ماہ پہلے ہی سوشل میڈیا کی زینت بنا وہ یہی تھا کہ قوم سبز ہلالی پرچم نہ لگائے، گھروں میں ، محلوں میں اور سڑکوں پر جھنڈیوں سے سجاوٹ بھی نہ کی جائے، یعنی یوم آزادی پر بالکل مرگ کی سی کیفیت اختیار کی جائے جبکہ اس کے تقابل میں ایک ایک درخت لگانے کی بات کی گئی۔ دراصل درخت لگانا کوئی بری بات تو نہیں بلکہ درخت لگانے کو انبیائے کرام نے بھی حکم دیا ہے لیکن اس کام کا کسی اور مثبت کام کے ساتھ تقابل کرنا مناسب عمل نہیں ہے۔

آئیں اس برس یوم آزادی پر نہ صرف درخت لگائیں بلکہ جھنڈیاں اور سبز ہلالی پرچم کی بہار سے بھی ملک کو روشن روشن کر دیں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیں، جھنڈیاں بھی لگائیں اور درخت بھی لگائیں کہ دونوں ہی کا تعلق کار خیر سے ہے۔ اس لئے کسی ایک مثبت کام کو ترک کرکے دوسرے مثبت کام کی تلقین ایک دلفریب نعرہ ہے اور یقیناًایسے نعروں کے پس پردہ عناصر کا مقصد بھی یہی ہے کہ پاکستا نی قوم کے اندر سے جذبہ حب الوطنی کو کسی نہ کسی طرح کم کیا جائے تا کہ مزید ناپاک عزائم کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے قوم جیسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار اور رکاوٹ کو عبور کرنا آسان ہو۔

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزیدخبریں