ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد 2 سعودی بہنوں نے ایسا کام شروع کردیا جس کا سعودی لڑکیاں کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھیں

ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد 2 سعودی بہنوں نے ایسا کام شروع کردیا جس کا سعودی ...
ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد 2 سعودی بہنوں نے ایسا کام شروع کردیا جس کا سعودی لڑکیاں کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھیں

  

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد قدامت پسند سمجھی جانے والی مملکت سے ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ جن کا محض چند ماہ قبل تک تصور کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔ اب خواتین سڑکوں پر گاڑیاں دوڑاتی نظر آ رہی ہیں، دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں امپورٹ کر رہی ہیں، اور حتٰی کہ سعودی خواتین نے کریم ٹیکسی سروس کے لئے ڈرائیونگ بھی شروع کر دی ہے۔ ایک ایسی ہی مثال ریم فرحت اور ان کی بہن ہیں، جو کریم ٹیکسی سروس کی پہلی خواتین ڈرائیورز میں شامل ہو چکی ہیں۔

گلف نیوز سے بات کرتے ہوئے 41 سالہ ریم کا کہنا تھا کہ ”میں جدہ کی ایک کافی شاپ سے اپنی پہلی خاتون کسٹمر کو لینے پہنچی۔وہ مجھے دیکھ کر بہت پرجوش اور خوش تھی اور کہنے لگی کہ کیا میں آپ کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھ سکتی ہوں۔“ ریم نے اپنے امریکی ڈرائیونگ لائسنس کی بناءپر سعودی ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیا اور وہ کہتی ہیں کہ وہ ایک محفوظ اور قابل بھروسہ ڈرائیور ہیں۔ بیرون ملک وہ 24 سال کا ڈرائیونگ تجربہ رکھتی ہیں اور اس تمام عرصے کے دوران صرف ایک بار ان کا چالان ہوا ہے۔ وہ لائف کوچ اور کوالٹی مینجمنٹ کنسلٹنٹ ہیں لیکن اضافی وقت میں ڈرائیونگ بھی کرتی ہیں۔

سعودی عرب میں ڈرائیونگ کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ”میں صرف خواتین کو یہ دکھانا چاہتی تھی کہ یہ بھی ایک قابل عزت روزگار ہے جس کے ذریعے آپ اچھی آمدنی بھی کماسکتی ہیں۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں سعودی عرب میں اولین خواتین ڈرائیورز میں سے ایک ہوں۔ میں لوگوں کا ذہن بھی تبدیل کرنا چاہتی ہوں تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ سعودی خواتین اچھی ڈرائیور ہیں اور بیک وقت دو نوکریاں بھی کرسکتی ہیں۔“

واضح رہے کہ جون میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد سے لے کر اب تک کریم کے ساتھ 2ہزار خواتین رجسٹریشن کرواچکی ہیں۔ اگلے دو سال کے دوران کمپنی 20ہزار خواتین ڈرائیورز کی خدمات لینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

مزید : عرب دنیا