فلاحی ادارے میں خواتین سے جسم فروشی کا انکشاف،پولیس کی کارروائی ،یرغمال بنائی گئیں24خواتین آزاد

فلاحی ادارے میں خواتین سے جسم فروشی کا انکشاف،پولیس کی کارروائی ،یرغمال ...
فلاحی ادارے میں خواتین سے جسم فروشی کا انکشاف،پولیس کی کارروائی ،یرغمال بنائی گئیں24خواتین آزاد

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن)یوپی کے دیوریا میں ایک شلٹر ہوم میں لڑکیوں سے جسم فروشی کرائی جارہی تھی کہ موقع پا کر ایک لڑکی بھاگنے میں کامیاب ہو گئی اور تھانے پہنچ کر ساری صورت حال سنائی پولیس نے کاروائی کر تے ہو ئے 24خواتین کو آزاد کر وا لیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بہار کے مظفرپور شیلٹر ہوم میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کا انکشاف ہوا ہے ۔ دیوریا پولیس نے اتوار کی شب کوتوالی صدر کے علاقے میں لڑکیوں کے ایک مبینہ شیلٹر ہوم میں خواتین سے جسم فروشی کا انکشاف ہو نے پر کاروائی کر تے ہو ئے وہاں سے 24 خواتین اورکچھ بچوں کو آزاد کروا لیا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ روہن پی کنے نے بتایا کہ صدر کوتوالی علاقے میں خواتین کی تربیت اور سماجی خدمت کے نام پر چلائے جانے والے ماں سندھیا واسنی گرلز شیلٹر کی رجسٹریشن گورنمنٹ نے منسوخ کر دی تھی۔اس کے بعد بھی اس ادارے میں لڑکیوں اور بچوں نیز خواتین کو غیر قانونی طور پر رکھا جاتا تھا۔ اتوار کی شب بیتیا بہار کی ایک لڑکی اس شیلٹر سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئی جس نے پولیس کو اس شیلٹر میں خواتین پر ہونے والے مظالم کے بارے میں بتایا۔ جس کے بعد پولیس نے یہ کارروائی انجام دی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ یہاں رہنے والی 15 سے 18 سال کی لڑکیوں سے جسم فروشی کرائی جا رہی تھی۔ اس معاملے کا پردہ فاش ہونے پر پولیس نے موقع سے 24 خواتین اور بچوں کو آزاد کرا لیا ہے۔ ادارے کو سیل کرکے ان کے منتظم گریجا ترپاٹھی اور اس کے شوہر موہن ترپاٹھی کوگرفتار کرلیا گیا ہے۔ ادارے کی سربراہ کنچن لتا موقع سے فرار ہے۔ اس سلسلے میں سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

مزید : جرم و انصاف