خاتون کا قتل، پھر قاتل نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اس کے فون سے دوست کو میسج بھیج دیا لیکن اس میسج میں ایک غلطی ایسی کردی کہ یہی پکڑے جانے کا باعث بن گیا، کیا غلطی تھی؟ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے

خاتون کا قتل، پھر قاتل نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اس کے فون سے دوست کو میسج ...
خاتون کا قتل، پھر قاتل نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اس کے فون سے دوست کو میسج بھیج دیا لیکن اس میسج میں ایک غلطی ایسی کردی کہ یہی پکڑے جانے کا باعث بن گیا، کیا غلطی تھی؟ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(نیوز ڈیسک) مجرم کتنا ہی مکار کیوں نا ہو وہ کوئی نا کوئی ایسی نشانی ضرور چھوڑ جاتا ہے جو جلد یا بدیر قانون کے آہنی ہاتھ کو اس کی گردن تک پہنچا دیتی ہے۔ بعض اوقات تو یہ نشانی ایسی معمولی اور بظاہر نظر نا آنے والی ہوتی ہے کہ اس کے سامنے آنے پر تفتیش کار بھی حیران رہ جاتے ہیں۔

برطانیہ میں چھ سال قبل ہونے والی ایک اندھے قتل کی واردات بھی پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے لئے ایک ایسا معمہ بن گئی تھی کہ جس کا کوئی حل سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ چیشائر سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا کا اس کے گھر میں قتل ہو گیا تھا اور جائے واردات سے کسی قسم کے شواہد نہیں مل سکے تھے۔ پولیس نے بہت کوشش کی مگر مجرم کا کوئی سراغ نا مل سکا۔

بالآخر یہ کیس فورینزک لنگوئسٹ جان اولسن کے حوالے کیا گیا، جنہوں نے چند دن بعد ہی مجرم کا سراغ ایک ایسی نشانی سے لگا لیا کہ جس کی جانب کسی اور کا دھیان جانا کسی طور ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ جان نے مقتولہ کے موبائل فون میسجز کا جائزہ لینا شروع کیا اور پتا چلایا کہ اس کے فون سے بھیجے گئے آخری چند میسجز میں کچھ خاص بات تھی۔ ان میسجز میں قومے کے بعد ڈبل سپیس دی گئی تھی جبکہ مقتولہ کے فون سے بھیجے گئے پہلے تمام میسجز سے ظاہر تھا کہ وہ قومے کے بعد سپیس کا استعمال نہیں کرتی تھی۔

بظاہر یہ کتنی معمولی بات لگتی ہے مگر اسی معمولی سی بات نے جان کو ایک بڑے نتیجے کے قریب پہنچا دیا تھا۔ اس نے مقتولہ ڈیانا کے قریبی افراد کے موبائل فونز کا ریکارڈ نکلوا لیا اور پھر ان میں سے ایک شخص کے فون میں ایسے میسجز بھی مل گئے جن میں قومے کے بعد ڈبل سپیس کا استعمال کیا گیا تھا۔ 

جان کی نشاندہی پر ڈیوڈ ریان نامی شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے تفتیش کی تو ڈیوڈ نے تسلیم کر لیا کہ ڈیانا کے فون سے بھیجے گئے آخری چند میسج اسی نے لکھے تھے، جن کا مقصد ڈیانا کے کچھ قریبی لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ وہ اگلے چند دن ان سے نہیں مل سکے گی، تا کہ وہ لوگ اس کے گھر کا رخ نا کریں۔ اس کے بعد پولیس کو ڈیوڈ سے یہ تسلیم کروانے میں دیر نہیں لگی کہ اسی نے انتہائی سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیانا کو قتل کیا تھا۔

جان کی حیرت انگیز صلاحیت کی بدولت حل ہونے والا یہ واحد کیس نہیں تھا۔ برطانوی پولیس اس سے پہلے بھی کئی بار ان کی مدد لے چکی تھی اور اب تک وہ مختلف جرائم کے مرتکب 300 سے زائد مجرموں کو پکڑوا چکے ہیں۔ یہ تمام ایسے مجرم تھے جنہیں پولیس روایتی طریقوں سے کی گئی تفتیش کے ذریعے پکڑنے میں ناکام ہو چکی تھی۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس